کلام
صوفیائے کرام کے لکھے ہوئے زیادہ تر اشعار کلام کے زمرے میں ہی آتا ہے اور اسے محفل سماع کے دوران بھی گایا جاتا ہے۔
گدڑی شاہ ثالث کے نام سے معروف، ممتاز صوفی بزرگ، شاعر، مصنف اور عثمانیہ چلہ، اجمیر کے سجادہ نشیں تھے، تصوف، عرفان اور عشقِ الٰہی پر آپ کی متعدد تصانیف اور گیارہ شعری مجموعے شائع ہوئے جبکہ آپ کی تعلیمات کا بنیادی محور عشق، اخلاص اور احترامِ انسانیت تھا۔
حیدرآباد کے ممتاز صوفی بزرگ، عالم، ادیب اور شاعر تھے، آپ کا مجموعۂ کلام ’’سخنستانِ وجودی‘‘ تصوف، معرفت، عشقِ الٰہی اور عشقِ رسول پر مشتمل ایک اہم ادبی سرمایہ ہے۔
اردو کے صاحبِ طرز شاعر تھے، علم و ادب سے گہری وابستگی کے باعث انہوں نے شاعری میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
خواجہ ضیاؤالدین کے صحبت یافتہ اور شاہ نصیر دہلوی کے شاگرد رشید
پاکستان سے تعلق رکھنے والے مشہور صوفی شاعر, آپ کی کافیاں کافی مشہور ہیں
چودھویں صدی ہجری کے مقبول صوفی شاعر، آپ کی درگاہ بریلی شہر کے نومحلہ میں واقع ہے۔
اردو کے ممتاز نعت گو شاعر تھے، ان کے کلام میں عشقِ رسول، سوز و گداز اور سادگیِ بیان نمایاں ہے۔
حضرت علی سجاد بن شاہ نعمت اللہ پھلواروی کے فرزند، صاحبِ علم صوفی شاعر اور اپنی غزل "اگر اس بارگاہِ پاک میں تیرا گزر ہووے" کے لیے مشہور۔
کوثر نیازی سیاست دان، عالم دین، شاعر، ادیب، صحافی، مقرر اور دانشور تھے۔