Font by Mehr Nastaliq Web

لکھنؤ کے شاعر اور ادیب

کل: 108

کائستھ برادری کے لکھنوی شاعر، رائے سوبھا رام وصفی کے فرزند اور آفتاب الدولہ خواجہ ارشد علی قلق کے شاگرد تھے، ان کا دیوان ’’مرقعِ ارژنگ‘‘ 1880ء میں شائع ہوا اور وہ ایک عرصے تک ’’اودھ اخبار‘‘ کے منیجر رہے۔

بلبلِ شاخسار، خوش بیانی، طوطیٔ چمنستان، شیریں زبانی، شاعرۂ فصیح اللسان، ناظمۂ شکر زبان

محمد اکرام الدین کے صاحبزادے اور بحیثیت عالمِ دین فرنگی محل میں مقیم

ممتاز نعت گو شاعر تھے، جنہیں بہادر شاہ ظفر کی نعتیہ محفلوں میں شرکت کا شرف حاصل ہوا اور جن کی شاعری محبتِ رسول، ادبِ رسالت اور کلاسیکی نعتیہ روایت سے گہری وابستگی کی آئینہ دار تھی۔

ممتاز اردو و فارسی شاعر، صاحبِ دیوان اور ماہرِ خطاط تھے، جنہیں عربی و فارسی پر عبور حاصل تھا، شعری تربیت کے حوالے سے میر تقی میر یا مصحفی سے نسبت ملتی ہے اور ان کے کلام میں نعتیہ اشعار بھی شامل ہیں۔

کھیری میں اہلمدِ جوڈیشیل تھے اور شعر و سخن کے شائق ہونے کے ساتھ نعتیہ شاعری کا بھی ذوق رکھتے تھے، جس کا نمونہ 1898ء کے ’’گلدستۂ ابرِ سخن‘‘ میں محفوظ ہے۔

بولیے