بیٹھا ہوں لیے دل میں تمنا تیرے در کی
بیٹھا ہوں لیے دل میں تمنا تیرے در کی
محتاج میری جاں ہے تیری ایک نظر کی
اس پیکرِ عصیاں کو کرم سے ہے امیدیں
ہے لاج تیرے ہاتھ میرے دیدۂ تر کی
ان کے کسی بندے کے سفینے کو ڈبو دے
ایسی نہیں جرات کسی طوفانہ بھور کی
طیبہ کا تصور ہے کلی دل کی کھلی ہے
محسوس یہ ہوتا ہے ہوا آئی ادھر کی
قدسی بھی جہاں آتے ہیں دینے کو سلامی
اوقات وہاں کیا ہے تیرے عرضِ ہنر کی
جو نورِ مبیں قطبؔ ہے عنوانِ تمنا
توصیف کرے کیا کوئی اس رشکِ قمر کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.