Font by Mehr Nastaliq Web

بیٹھا ہوں لیے دل میں تمنا ترے در کی

غلام قطب الدین فریدی

بیٹھا ہوں لیے دل میں تمنا ترے در کی

غلام قطب الدین فریدی

MORE BYغلام قطب الدین فریدی

    بیٹھا ہوں لیے دل میں تمنا ترے در کی

    محتاج مری جاں ہے تیری ایک نظر کی

    اس پیکر عصیاں کو کرم سے ہے امیدیں

    ہے لاج ترے ہاتھ مرے دیدۂ تر کی

    ان کے کسی بندے کے سفینے کو ڈبو دے

    ایسی نہیں جرأت کسی طوفانہ بھنور کی

    طیبہ کا تصور ہے کلی دل کی کھلی ہے

    محسوس یہ ہوتا ہے ہوا آئی ادھر کی

    قدسی بھی جہاں آتے ہیں دینے کو سلامی

    اوقات وہاں کیا ہے ترے عرض ہنر کی

    جو نور مبیں قطبؔ ہے عنوان تمنا

    توصیف کرے کیا کوئی اس رشک قمر کی

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    مہر علی اور شیر علی

    مہر علی اور شیر علی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے