Font by Mehr Nastaliq Web

اسیروں کے مشکل کشا غوثِ اعظم

حسن رضا بریلوی

اسیروں کے مشکل کشا غوثِ اعظم

حسن رضا بریلوی

MORE BYحسن رضا بریلوی

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان غوث پاک شیخ عبدالقادر جیلانی (بغداد-عراق)

    اسیروں کے مشکل کشا غوثِ اعظم

    فقیروں کے حاجت روا غوثِ اعظم

    گھرا ہے بلاؤں میں بندہ تمہارا

    مدد کے لیے آؤ یا غوثِ اعظم

    ترے ہاتھ میں ہاتھ میں نے دیا ہے

    ترے ہاتھ ہے لاج یا غوثِ اعظم

    مریدوں کو خطرہ نہیں بحر غم سے

    کہ بیڑے کے ہیں ناخدا غوثِ اعظم

    تمہیں دکھ سنو اپنے آفت زدوں کا

    تمہیں درد کی دو دوا غوثِ اعظم

    بھنور میں پھنسا ہے ہمارا سفینہ

    بچا غوثِ اعظم بچا غوثِ اعظم

    جو دکھ بھر رہا ہوں جو غم سہہ رہا ہوں

    کہوں کس سے تیرے سوا غوثِ اعظم

    زمانے کے دکھ درد کی رنج و غم کی

    ترے ہاتھ میں ہے دوا غوثِ اعظم

    اگر سلطنت کی ہوس ہے فقیرو

    کہو شیئا للہ یا غوثِ اعظم

    نکالا ہے پہلے تو ڈوبے ہوؤں کو

    اور اب ڈوبتوں کو بچا غوثِ اعظم

    جسے خلق کہتی ہے پیارا خدا کا

    اسی کا ہے تو لاڈلا غوثِ اعظم

    کیا غور جب گیارہویں بارہویں میں

    معما یہ ہم پر کھلا غوثِ اعظم

    تمہیں وصل بے فصل ہے شاہِ دیں سے

    دیا حق نے یہ مرتبہ غوثِ اعظم

    پھنسا ہے تباہی میں بیڑا ہمارا

    سہارا لگا دو ذرا غوثِ اعظم

    مشائخ جہاں آئیں بہر گدائی

    وہ ہے تیری دولت سرا غوثِ اعظم

    مری مشکلوں کو بھی آسان کیجے

    کہ ہیں آپ مشکل کشا غوثِ اعظم

    وہاں سر جھکاتے ہیں سب اونچے اونچے

    جہاں ہے ترا نقش پا غوثِ اعظم

    قسم ہے کہ مشکل کو مشکل نہ پایا

    کہا ہم نے جس وقت یا غوثِ اعظم

    مجھے پھیر میں نفسِ کافر نے ڈالا

    بتا جائیے راستا غوثِ اعظم

    کھلا دے جو مرجھائی کلیاں دلوں کی

    چلا کوئی ایسی ہوا غوثِ اعظم

    مجھے اپنی الفت میں ایسا گما دے

    نہ پاؤں پھر اپنا پتا غوثِ اعظم

    بچا لے غلاموں کو مجبوریوں سے

    کہ تو عبد قادر ہے یاغوثِ اعظم

    دکھا دے ذرا مہر رخ کی تجلی

    کہ چھائی ہے غم کی گھٹا غوثِ اعظم

    گرانے لگی ہے مجھے لغزشِ پا

    سنبھالو ضعیفوں کو یا غوثِ اعظم

    لپٹ جائیں دامن سے اس کے ہزاروں

    پکڑ لے جو دامن ترا غوثِ اعظم

    سروں پر جسے لیتے ہیں تاج والے

    تمہارا قدم ہے وہ یاغوثِ اعظم

    دوائے نگاہے عطائے سخائے

    کہ شد دردِ ما را دوا غوثِ اعظم

    ز ہر رو و ہر راہ رویم بگرداں

    سوئے خویش راہم نما غوثِ اعظم

    اسیرِ کمندِ ہوایم کریما

    بہ بخشائے بر حالِ ما غوثِ اعظم

    فقیر تو چشم کرم از تو دارد

    نگاہے بحالِ گدا غوثِ اعظم

    گدایم مگر از گدایانِ شاہے

    کہ گویندش اہلِ صفا غوثِ اعظم

    کمر بست بر خونِ من نفسِ قاتل

    اغثنی برائے خدا غوثِ اعظم

    ادھر میں پیا موری ڈولت ہے نیا

    کہوں کا سے اپنی بتھا غوثِ اعظم

    بپت میں کٹی موری سگری عمریا

    کرو مو پہ اپنی دیا غوثِ اعظم

    بھیو دو جو بیکنٹھ بگداد تو سے

    کہو موری نگری بھی آ غوثِ اعظم

    کہے کس سے جا کر حسنؔ اپنے دل کی

    سنے کون تیرے سوا غوثِ اعظم

    مأخذ :
    • کتاب : ذوق نعت (Pg. 80)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے