دربارِ قمر ہے عشق نشاں، یاں کام نہیں فرزانوں کا
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت قمرالہدیٰ
دربارِ قمر ہے عشق نشاں، یاں کام نہیں فرزانوں کا
یہ محور ہے مئے خواروں کا، یہ مرکز ہے دیوانوں کا
بٹتی ہے مئے توحید یہاں، یہ حبِ رسول کا چشمہ ہے
سرشار نہ ہوں، سرمست نہ ہوں، تو اس میں قصور اب اپنا ہے
جو ڈھونڈنے والے ہیں ان کو عرفان کی دولت ملتی ہے
ایمان کی دولت ملتی ہے، احسان کی دولت ملتی ہے
روشن ہے چراغِ خضر یہاں، جو سر خفی کا مظہر ہے
بھٹکیں گے نہیں، بھولیں گے نہیں کہ عشق ہمارا رہبر ہے
سجادؔ نے اپنی قسمت کو وابستہ کیا ہے اس در سے
جینا ہے یہاں، مرنا ہے یہاں، جائیں گے کہاں ہم اس گھر سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.