Font by Mehr Nastaliq Web

نعت و منقبت

پیغمبرِ اسلام حضرت محمد پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی اندازِ بیاں کو نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔ عربی زبان میں نعت کے لیے لفظ "مدحِ رسول" استعمال ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابہ کرام نے نعتیں لکھیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ اسی طرح اشعار کے ذریعے کسی صوفی کی تعریف کرنے کو منقبت کہتے ہیں۔

1900 -1964

حیدرآباد کے جلیل القدر عالمِ دین، صوفی، مصلحِ معاشرہ اور شاعر تھے، جنہوں نے دینی تعلیم، اصلاحِ امت اور عشقِ رسول کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

1852 -1924

خانقاہ مجیبیہ، پھلواری شریف کے سجادہ نشیں اور بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ کے پہلے امیر شریعت

1888 -1965

ندوۃ المصنفین سے وابستہ بلند پایہ علمی و فکری شخصیت۔

1660 -1729

خانقاہ برکاتیہ، مارہرہ کے بانی

1899 -1975

نوح ناروی کے شاگرد، شاعری میں عوامی روز مرہ کو جگہ دی، غزلوں کے ساتھ اہم مذہبی اور ملی شخصیات پر نظمیں لکھیں

1893 -1957

بہار لکھنوی اور صفی لکھنوی کے شاگرد رشید

پنجاب کے نعت گو شاعر

1894 -1956

حاجی وارث علی شاہ کے مرید اور "جذبات الجنون" کے مصنف

آپ سلسلہ عالیہ وارثیہ میں بواسطہ حیرت شاہ وارثی داخل سلسلہ ہوئے۔ شاید 1943 میں بیعت ہوئے۔

حضرت شاہ اکبر داناپوری کے مرید و بھانجہ اور امارت شریعہ کے مشیرکار

1775 -1862

حکومت مغلیہ کا آخری بادشاہ

1900 -1974

لکھنؤ کے معروف نعت گو شاعر

1869 -1959

اردو کے ممتاز غزل اور نعت گو شاعر تھے، جن کی شاعری فکری پختگی، زبان کی لطافت اور عشقِ رسول کے سوز و گداز سے معمور ہے۔

1889 -1996

رساؔ رامپوری کے ممتاز شاگرد

1873 -1940

ادبی میدان میں ایک انفرادی رنگ کے مالک، مایۂ ناز شاعر اور ہر دل عزیز صاحب تصنیف و تالیف تھے

1916 -1987

بیدم شاہ وارثی کے صاحبزادے

1876 -1936

معروف نعت گو شاعر اور ’’بے خود کئے دیتے ہیں انداز حجابانہ‘‘ کے لیے مشہور

1928 -2016

اردو، ہندی اور اودھی کے ممتاز شاعر، نغمہ نگار، ادیب اور سیاست دان تھے، جن کی شاعری قومی یکجہتی، صوفیانہ فکر اور انسانی محبت کی ترجمان ہے۔

1863 -1932

حاجی وارث علی شاہ کے ممتاز مرید اور وحید الہ آبادی کے شاگرد رشید

بولیے