نعت و منقبت
پیغمبرِ اسلام حضرت محمد پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی اندازِ بیاں کو نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔ عربی زبان میں نعت کے لیے لفظ "مدحِ رسول" استعمال ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابہ کرام نے نعتیں لکھیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ اسی طرح اشعار کے ذریعے کسی صوفی کی تعریف کرنے کو منقبت کہتے ہیں۔
حیدرآباد کے جلیل القدر عالمِ دین، صوفی، مصلحِ معاشرہ اور شاعر تھے، جنہوں نے دینی تعلیم، اصلاحِ امت اور عشقِ رسول کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
خانقاہ مجیبیہ، پھلواری شریف کے سجادہ نشیں اور بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ کے پہلے امیر شریعت
نوح ناروی کے شاگرد، شاعری میں عوامی روز مرہ کو جگہ دی، غزلوں کے ساتھ اہم مذہبی اور ملی شخصیات پر نظمیں لکھیں
آپ سلسلہ عالیہ وارثیہ میں بواسطہ حیرت شاہ وارثی داخل سلسلہ ہوئے۔ شاید 1943 میں بیعت ہوئے۔
اردو کے ممتاز غزل اور نعت گو شاعر تھے، جن کی شاعری فکری پختگی، زبان کی لطافت اور عشقِ رسول کے سوز و گداز سے معمور ہے۔
ادبی میدان میں ایک انفرادی رنگ کے مالک، مایۂ ناز شاعر اور ہر دل عزیز صاحب تصنیف و تالیف تھے
معروف نعت گو شاعر اور ’’بے خود کئے دیتے ہیں انداز حجابانہ‘‘ کے لیے مشہور
اردو، ہندی اور اودھی کے ممتاز شاعر، نغمہ نگار، ادیب اور سیاست دان تھے، جن کی شاعری قومی یکجہتی، صوفیانہ فکر اور انسانی محبت کی ترجمان ہے۔
حاجی وارث علی شاہ کے ممتاز مرید اور وحید الہ آبادی کے شاگرد رشید