Font by Mehr Nastaliq Web

نعت و منقبت

پیغمبرِ اسلام حضرت محمد پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی اندازِ بیاں کو نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔ عربی زبان میں نعت کے لیے لفظ "مدحِ رسول" استعمال ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابہ کرام نے نعتیں لکھیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ اسی طرح اشعار کے ذریعے کسی صوفی کی تعریف کرنے کو منقبت کہتے ہیں۔

نگرام کے ہندو نائی اور حضرت مرزا محسن کے بے لوث خادم و عقیدت مند تھے، جن کی اخلاص بھری خدمت اور کرامت سے منسوب روایات کے ساتھ نعتیہ کلام بھی دستیاب ہے۔

ڈیرہ غازی خاں کے نعت گو شاعر تھے، جن کی نعتیہ شاعری خلوص، محبتِ رسول ﷺ اور سوزِ دروں سے معمور تھی۔

1900 -1964

حیدرآباد کے جلیل القدر عالمِ دین، صوفی، مصلحِ معاشرہ اور شاعر تھے، جنہوں نے دینی تعلیم، اصلاحِ امت اور عشقِ رسول کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

غیر مسلم نعت گو شاعر تھے، جن کے سادہ، پُرخلوص اور ادبی وقعت کے حامل نعتیہ کلام کا ذکر فانی مرادآبادی، خادم سوہدروی اور خالد بزمی نے بھی اپنی تحریروں میں کیا ہے۔

1916

اٹک کے شاعر تھے، تلوک چند محروم اور منور لکھنوی کے شاگرد، متعدد شعری و تحقیقی تصانیف کے مصنف اور نعت گو بھی تھے۔

1911

کائستھ شاعر، ادیب اور نعت گو تھے، جنہوں نے 1931ء میں باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا، مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی اور نعت گوئی سے خصوصی شغف رکھا۔

1888 -1965

ندوۃ المصنفین سے وابستہ بلند پایہ علمی و فکری شخصیت۔

امرتسر کے استاد، شاعر اور ادیب تھے، جو ہندو کالج میں پروفیسر رہے اور غزل سمیت مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کے ساتھ نعتیہ شاعری میں بھی محبت و عقیدتِ رسول کا اظہار کرتے تھے۔

1660 -1729

برصغیر کے ممتاز صوفی، عالم اور شاعر تھے، آپ مارہرہ میں خانقاہ قائم کی اور فارسی و ہندوی میں عشقی اور پیمی تخلص سے شاعری کی، آپ کی معروف تصانیف پیم پرکاش اور دیوانِ عشقی ہیں۔

1891 -1975

موہیال برہمن خاندان کے ممتاز شاعر، ادیب اور صاحبِ فکر دانشور تھے، حکیم فیروزالدین فیروز طغرائی کے شاگرد رہے اور 1969ء میں پدم شری سے نوازے گئے۔

1899 -1975

نوح ناروی کے شاگرد، شاعری میں عوامی روز مرہ کو جگہ دی، غزلوں کے ساتھ اہم مذہبی اور ملی شخصیات پر نظمیں لکھیں

1893 -1957

بہار لکھنوی اور صفی لکھنوی کے شاگرد رشید

پنجاب کے نعت گو شاعر

1894 -1956

حاجی وارث علی شاہ کے مرید اور "جذبات الجنون" کے مصنف

آپ سلسلہ عالیہ وارثیہ میں بواسطہ حیرت شاہ وارثی داخل سلسلہ ہوئے۔ شاید 1943 میں بیعت ہوئے۔

حضرت شاہ اکبر داناپوری کے مرید و بھانجہ اور امارت شریعہ کے مشیرکار

سرکاری ملازم اور شاعر تھے جو بلوچستان کے بوری میں نائب محرر کے منصب پر فائز رہے اور مختلف اصنافِ سخن کے ساتھ نعت گوئی میں خصوصی شغف رکھتے تھے۔

1775 -1862

حکومت مغلیہ کا آخری بادشاہ

1900 -1974

لکھنؤ کے معروف نعت گو شاعر

1869 -1959

اردو کے ممتاز غزل اور نعت گو شاعر تھے، جن کی شاعری فکری پختگی، زبان کی لطافت اور عشقِ رسول کے سوز و گداز سے معمور ہے۔

1932

ممتاز شاعر، نثر نگار اور ہومیوپیتھک معالج تھے، جو غزل کے ساتھ نعت گوئی میں بھی طبع آزمائی کرتے رہے اور ان کے شعری مجموعوں ’’غنچہ و گل‘‘، ’’بیتابیاں‘‘ اور ’’سوغات‘‘ نے ادبی شناخت قائم کی۔

1889 -1996

رساؔ رامپوری کے ممتاز شاگرد

1873 -1940

ادبی میدان میں ایک انفرادی رنگ کے مالک، مایۂ ناز شاعر اور ہر دل عزیز صاحب تصنیف و تالیف تھے

1916 -1987

بیدم شاہ وارثی کے صاحبزادے

1930

ممتاز محقق، نقاد، افسانہ نگار اور شاعر تھے، جنہوں نے غزل، قطعہ اور رباعی کے ساتھ نعتیہ شاعری میں بھی عشقِ رسول اور ادبِ بارگاہِ نبوی کے جذبات کو سادہ و مؤثر انداز میں پیش کیا۔

1876 -1936

معروف نعت گو شاعر اور ’’بے خود کئے دیتے ہیں انداز حجابانہ‘‘ کے لیے مشہور

اردو کے صاحبِ ذوق ادیب، شاعر، تذکرہ نگار اور نعت گو تھے۔

1928 -2016

اردو، ہندی اور اودھی کے ممتاز شاعر، نغمہ نگار، ادیب اور سیاست دان تھے، جن کی شاعری قومی یکجہتی، صوفیانہ فکر اور انسانی محبت کی ترجمان ہے۔

1863 -1932

حاجی وارث علی شاہ کے ممتاز مرید اور وحید الہ آبادی کے شاگرد رشید

بولیے