Font by Mehr Nastaliq Web

نعت و منقبت

پیغمبرِ اسلام حضرت محمد پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی اندازِ بیاں کو نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔ عربی زبان میں نعت کے لیے لفظ "مدحِ رسول" استعمال ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابہ کرام نے نعتیں لکھیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ اسی طرح اشعار کے ذریعے کسی صوفی کی تعریف کرنے کو منقبت کہتے ہیں۔

1905 -1954

بدایوں کی نعتیہ روایت کو زندہ رکھنے والے صاحبِ ذوق شاعر۔

1913

جامعہ قاسمیہ،، گیا کے بانی اور معروف عالم اور شاعر

حضرت شاہ نظام الدین بریلوی کے مرید اور عزیز بریلوی کے شاگرد

بیدم وارثی کے پوتے اور ہم عصر وارثی شعرا میں مقبول

نغمۂ کبریٰ، نغمۂ روحی اور گلدستۂ اثاثۂ سرمدی کے مصنف

1777 -1848

پھلواری شریف کے عظیم صوفی شاعر اور خانقاہ مجیبیہ، پھلواری شریف کے سجادہ نشیں تھے۔

حاجی وارث علی شاہ کے مرید اور صاحب دیوان شاعر

1928 -2001

خانقاہ عمادیہ قلندریہ، منگل تالاب کے سجادہ نشین

صحیح الذوق اور قومی درد رکھنے والے شاعر

1884 -1948

حضرت شاہ فضل رحمٰن گنج مرادآبادی کے مرید اور غلام امام شہیدؔ کے خلیفہ

1956

نعت گو شاعر، امام اور مدرس ہیں، اخلاق سہسوانی اور ادیب سہسوانی سے اصلاحِ سخن حاصل کی، ان کی شاعری کا محور نعت اور منقبت ہے جبکہ ان کا شعری مجموعہ ’’متاعِ فقیر‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔

-1986

ہند و پاک کے مقبول زمانہ شاعر

1922 -1988

ایک باوقار اور صاحبِ طرز شاعر تھے جنہوں نے کلاسیکی شعری روایت، دینی اقدار اور تہذیبی شائستگی کو اپنی شاعری میں زندہ رکھا۔

مرزا غالب کے شاگردِ رشید

1912 -1987

نعتیہ شاعری کو فکری سنجیدگی اور ادبی وقار عطا کرنے والے شاعر۔

1988

خانقاہ نیازیہ، میوہ کٹرہ، آگرہ کے نائب سجادہ نشیں

بولیے