نعت و منقبت
پیغمبرِ اسلام حضرت محمد پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی اندازِ بیاں کو نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔ عربی زبان میں نعت کے لیے لفظ "مدحِ رسول" استعمال ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابہ کرام نے نعتیں لکھیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ اسی طرح اشعار کے ذریعے کسی صوفی کی تعریف کرنے کو منقبت کہتے ہیں۔
آستانۂ عالیہ خواجہ یار محمد فریدی، گڑھی شریف کے سجادہ نشیں اور معروف صوفی شاعر
نعتیہ شاعری میں سوز، گداز اور عشقِ رسول کی تڑپ کے نمائندہ شاعر۔
درگاہ غوثیہ مہریہ، گولڑہ شریف، اسلام آباد کے سجادہ نیشں اور پیر نصیرالدین نصیر کے والد ماجد
اپنی صوفیانہ غزل ’’خود کا پردہ ہے تو خود خود کو ذرا دیکھ تو لے‘‘ کے لئے مشہور
ایک صاحبِ ذوق نعت گو شاعر ہیں، جن کے کلام میں روایتی عقیدت کے ساتھ جدتِ اظہار کی دلکش آمیزش پائی جاتی ہے۔
ایک ممتاز نعت گو شاعر ہیں، جن کی شاعری عشقِ رسول، روحانی وارفتگی اور سوز و گداز کی دل آویز کیفیت سے معمور ہے۔