Font by Mehr Nastaliq Web

نعت و منقبت

پیغمبرِ اسلام حضرت محمد پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی اندازِ بیاں کو نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔ عربی زبان میں نعت کے لیے لفظ "مدحِ رسول" استعمال ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابہ کرام نے نعتیں لکھیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ اسی طرح اشعار کے ذریعے کسی صوفی کی تعریف کرنے کو منقبت کہتے ہیں۔

1920

حسرت موہانی کے صحبت یافتہ شاعر

-1875

’’مولود شہید‘‘ کے مصنف

1886 -1971

ممتاز عالمِ دین، مبلغ، صوفی بزرگ، مصنف اور نعت گو شاعر تھے۔

1893 -1971

ممتاز محقق، مؤرخ، صحافی، ادیب اور نعت گو شاعر تھے۔

1837 -1890

عالم، فاضل، ادیب، شاعر، مؤرخ اور سوانح نگار ہوئے ہیں۔

آستانۂ عالیہ خواجہ یار محمد فریدی، گڑھی شریف کے سجادہ نشیں اور معروف صوفی شاعر

1900 -1949

’’انجمن تبلیغ احناف‘‘ امرتسر کے روح رواں۔

-1924

نعتیہ شاعری میں سوز، گداز اور عشقِ رسول کی تڑپ کے نمائندہ شاعر۔

1920 -1997

درگاہ غوثیہ مہریہ، گولڑہ شریف، اسلام آباد کے سجادہ نیشں اور پیر نصیرالدین نصیر کے والد ماجد

1893 -1954

اپنی صوفیانہ غزل ’’خود کا پردہ ہے تو خود خود کو ذرا دیکھ تو لے‘‘ کے لئے مشہور

بزمِ آغاز سے وابستہ

1950 -2020

ایک صاحبِ ذوق نعت گو شاعر ہیں، جن کے کلام میں روایتی عقیدت کے ساتھ جدتِ اظہار کی دلکش آمیزش پائی جاتی ہے۔

1926 -2020

ممتاز اردو شاعر، ادیب، صحافی اور مشترکہ تہذیب کے روشن نمائندہ تھے۔

1937

بریلی کے شاعر تھے، بی۔اے تک تعلیم حاصل کی، 1972ء میں شاعری کا آغاز کیا اور کرشن بہاری نور سے تلمذ حاصل کیا۔

لکھنؤ کے صاحبِ ذوق شاعر اور لالہ دیبی پرشاد کے فرزند تھے، سینڈو لال زار لکھنوی کے شاگرد اور ’’گلزارِ فضا‘‘ سمیت متعدد شعری تصانیف کے مصنف تھے۔

1933

پٹیالہ کے شاعر تھے، جنہوں نے اردو میں ایم۔اے۔ کیا، طبابت اختیار کی اور اوم پرکاش زار علامی سے شعری تربیت پاکر ’’رنگ‘‘ کے نام سے مجموعۂ کلام شائع کیا۔

1937

ایک ممتاز نعت گو شاعر ہیں، جن کی شاعری عشقِ رسول، روحانی وارفتگی اور سوز و گداز کی دل آویز کیفیت سے معمور ہے۔

1926

قیس جالندھری کے فرزند اور لالہ لکشمی چند نسیم کے شاگرد تھے، اردو، ہندی و پنجابی کے شاعر اور نعت گو تھے، جنہوں نے ’’دار و رسن‘‘ اور ’’نعرۂ حق‘‘ کے ذریعے والد کی نعتیہ روایت کو آگے بڑھایا۔

بولیے