Font by Mehr Nastaliq Web

نعت و منقبت

پیغمبرِ اسلام حضرت محمد پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی اندازِ بیاں کو نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔ عربی زبان میں نعت کے لیے لفظ "مدحِ رسول" استعمال ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابہ کرام نے نعتیں لکھیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ اسی طرح اشعار کے ذریعے کسی صوفی کی تعریف کرنے کو منقبت کہتے ہیں۔

1790 -1854

آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استاد اور ملک الشعرا۔ غالب کے ساتھ ان کی رقابت مشہور ہے

1834 -1882

اردو اور فارسی کا عظیم شاعر

1918 -1961

خانقاہ ارشادیہ، شیش گڑھ ضلع بریلی کے سجادہ نشیں

دبستانِ کراچی کے بحیثیت غزل گو ایک اہم شاعر

1952 -2011

خانقاہ شہبازیہ، بھاگل پور کے سجادہ نشیں اور معروف خطیب و شاعر

-2021

خانقاہ ابوالعلائیہ، حیدرآباد کے سابق سجادہ نشیں

آستانہ حضرت محسن علی شاہ کے سجادہ نشیں

خانقاہ امجدیہ، سیوان کے چشم و چراغ اور معروف تظمین نگار

پشاور کے عظیم المرتب نعت گو شاعر اور خواجہ محمود تونسوی کے شاگرد

1940 -1981

فلسفۂ نجوم اور خطاطی میں بھی رکھتے تھے

1962

سوز نظامی اور شبنم غضنفر کے شاگرد

1847 -1912

آستانہ خواجہ معین الدین چشتی کے خدام اور مرزا غالب کے شاگرد رشید

1839 -1901

حیدرآباد کے معروف صوفی شاعر

1875 -1942

قلندرانہ مزاج اور نعتیہ شاعری کے منفرد آہنگ کے حامل شاعر۔

1873 -1960

درگاہ حضرت مزاق میاں، بدایوں کے سجادہ نشیں

1715 -1800

مغربی چمپارن کے قصبہ بتیا کے ایک صوفی بزرگ جو حضرت دیوان شاہ ارزاں کے مرید اور شاعر تھے۔

بولیے