Font by Mehr Nastaliq Web

نعت و منقبت

پیغمبرِ اسلام حضرت محمد پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی اندازِ بیاں کو نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔ عربی زبان میں نعت کے لیے لفظ "مدحِ رسول" استعمال ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابہ کرام نے نعتیں لکھیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ اسی طرح اشعار کے ذریعے کسی صوفی کی تعریف کرنے کو منقبت کہتے ہیں۔

1414 -1492

صوفیانہ شعر کہنے والا ایک عالمی شاعر اورممتاز مصنف

1880 -1965

فقر و تصوف کو نعتیہ شاعری کی روح بنانے والے صاحبِ سوز شاعر۔

1916 -1984

اردو کے نعت گو شاعر اور محکمۂ عدلیہ سے وابستہ ایک دیانت دار افسر تھے، آپ نے الہ آباد یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا اور 1973ء میں ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ کے عہدے سے سبکدوش ہوئے، آپ کی شاعری حمد، نعت، منقبت اور سلام پر مشتمل ہے جس میں عشقِ رسول اور دینی عقیدت نمایاں ہے۔

1919

افقر موہانی کے شاگرد رشید

-1892

اردو کے شاعر تھے جنہوں نے غزل کے ساتھ نعت اور سلام بھی کہے، جن میں اہلِ بیت اور بارگاہِ رسالت سے عقیدت نمایاں ہے۔

1906 -1984

اردو کے ممتاز مرثیہ نگار تھے، آپ بارہ بنکی میں پیدا ہوئے، شدید لکھنوی کے شاگرد تھے اور مرثیہ، سلام، رباعی اور قطعات میں طبع آزمائی کی، آپ کا معروف مجموعۂ مراثی "اعجازِ ناطق" 1978ء میں شائع ہوا۔

1903 -1980

اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور صحافی تھے، غزل آپ کی محبوب صنف تھی، تاہم نثر نگاری اور ادارت میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں، ان کی اہم تصانیف میں تیرِ نظر، شعلۂ رنگیں، فردوسِ سخن، بہارِ غم اور رموزِ سخن شامل ہیں۔

1918

اردو کے ممتاز شاعر اور ادیب تھے، آپ کا تعلق سیالکوٹ سے تھا، تقسیمِ ہند کے بعد دہلی اور پھر کینیڈا میں مقیم رہے، منور لکھنوی کے شاگرد تھے اور ماہنامہ "حقیقت بیانی" کے سرپرست بھی رہے۔

1890 -1960

ممتاز ترین قبل ازجدید شاعروں میں نمایاں، بے پناہ مقبولیت کے لیے معروف

1918 -2004

اردو کے ممتاز شاعر، محقق، نقاد اور اقبال شناس تھے، آپ معروف شاعر تلوک چند محروم کے فرزند تھے، شاعری اور اقبالیات میں نمایاں خدمات انجام دیں، جبکہ "طبل و علم"، "بیکراں" اور "وطن میں اجنبی" آپ کی اہم تصانیف میں شامل ہیں۔

اردو کے ممتاز شاعر تھے، آپ کا تعلق کرتارپور سے تھا، فارسی و اردو کے فاضل تھے اور ڈسٹرکٹ سروسز میں خدمات انجام دیں، "نغمۂ کمال" اور "کمالِ سخن" آپ کی معروف تصانیف ہیں۔

1908 -1984

بہترین نظم گو شاعر

1866 -1946

اردو کے ممتاز کلاسیکی شاعر اور استادِ سخن تھے، امیر مینائی کے شاگرد رہے اور بعد میں دکن کے دربار سے وابستہ ہوئے جہاں "فصاحت جنگ" کا خطاب پایا، ان کے تین دیوان "تاجِ سخن"، "سخن" اور "روحِ سخن" خاص شہرت رکھتے ہیں۔

سادہ مزاج اور کم گفتار والا ایک وارثی شاعر

-1924

بریلی کے ممتاز نعت گو شاعر، واعظ اور مصنف تھے، آپ کو مولانا احمد رضا خاں بریلوی سے بیعت و خلافت حاصل ہوئی، جنہوں نے آپ کو "مداح الحبیب" کا خطاب عطا فرمایا، آپ اپنی مشہور نعتیہ غزل "میں وہ سنی ہوں جمیل قادری مرنے کے بعد" کی وجہ سے آج بھی اہلِ عشقِ رسول میں یاد کیے جاتے ہیں۔

1931

جمیل احمد جمیل مرصع پوری 15؍ جولائی 1931ء کو پریاواں کے ایک گاؤں مرصع پور میں پیدا ہوئے جو پرتاب گڑھ میں مانک پور سے قریب ہے۔ مدرسہ اسلامیہ مرصع پور میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ ان کے استاد انجم فوقی بدایونی تھے۔ ملک کے سرکردہ شعراء نے ان کے زمانے میں ان کی طرح ممبئی کا رخ کیا۔ شکیل، مجروح اور علامہ آرزو لکھنوی کی صحبت ملی۔ جس میں ان کا شاداب ہونا ضروری تھا ان دنوں 72سال کے ہونے کے باوجود شعر گوئی ترک نہیں کی۔ آج بھی ممبئی کی ادبی محفلوں میں شامل ہوتے ہیں۔ حال ہی میں جمیل صاحب کا شعری مجموعہ ’’بے نام سی خوشبو‘‘ شائع ہوا۔ انہوں نے اپنے کلام کا انتخاب شائع کیا ہے۔ مختصر ہی سہی مجموعے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا پیش لفظ اردو ادب کے ممتاز شاعر قیصرالجعفری اور محقق و ناقد پروفیسر مجاہد حسین حسینی نے لکھا ہے۔ ان کی سچی اور کھری شاعری کا اعتراف انجم صاحب نے بھی اپنی تحریر میں کیا ہے۔ جمیل مرصع پوری کی شاعری تکلف اور تصنع سے بھی پاک ہے جیسے وہ خود ہیں۔ جمیل احمد جوانی میں بہت خوبصورت تھے۔ ہمیشہ چہکتے رہتے تھے۔ اس وجہ سے دوستوں میں اکثر ان کے حاسد تھے۔ بڑے شعراء کے درمیان ان کا اٹھنا بیٹھنا تھا اس لئے بھی سرخرو تھے۔ چھوٹے بڑے سب سے اخلاص و محبت سے ملتے ہیں۔ مشاعرے اور ادبی پروگرام کراتے رہتے ہیں۔ ہر سال علامہ اقبال کی برسی مناتے ہیں۔ جس میں ممبئی اور اس کے اطراف کے بڑے بڑے شعراء اور ادباء شرکت کرتے ہیں۔ آوارہ سلطان پوری کے پڑوسی اور دوستوں میں تھے۔ جمیل مرصع پوری کہتے ہیں: ’’اردو کی ترقی کے لئے جدوجہد کرنا بڑا اہم کارنامہ ہے ورنہ اس عمر میں تو عموماً تھک ہار کر سوجاتے ہیں‘‘۔ پیشے کے اعتبار سے بھی وہ فن کارڈیزائنر ہیں۔ اب زیادہ عمر کی وجہ سے اپنا کام نہیں کر پاتے ہیں۔ ندیم صدیقی ان کے صاحبزادوں میں سے ہیں۔ جو ادبی دنیا میں کافی جانے پہچانے جاتے ہیں۔ شکیل بدایونی سے کافی قریب رہے شکیل کی غریبی کا زمانہ بھی جمیل صاحب کو اچھی طرح یاد ہے۔ آج بھی مشاعرے میں پڑھتے ہیں اور نئی نسل کے شعراء ان کے اشعار بڑے احترام سے سنتے ہیں اور داد دیتے ہیں کیوں کہ انہوں نے زمانے کے ساتھ چلنا سیکھا ہے۔

1904 -1979

اردو کے ممتاز شاعر، مرثیہ نگار اور ماہرِ فارسی تھے، وحشت کلکتوی کے شاگرد رہے اور بعد ازاں پٹنہ یونیورسٹی میں اردو و فارسی کے پروفیسر مقرر ہوئے، ان کے معروف شعری مجموعوں میں "عرفانِ جمیل"، "فکرِ جمیل" اور "وجدانِ جمیل" شامل ہیں۔

1949

اردو کے معاصر شاعر اور ادیب ہیں، آپ نے 1970ء میں شعر گوئی کا آغاز کیا اور 1973ء میں ادبی جریدہ "گونج" جاری کیا۔ مغنی صدیقی سے اصلاحِ سخن حاصل کی، آپ کے معروف شعری مجموعوں میں "سلگتے خواب"، "تجدیدِ آرزو" اور "صبرِ جمیل" شامل ہیں۔

حاجی وارث علی شاہ کے چہیتے مرید جنہوں نے پیرومرشد کے حکم پر جنگل میں زندگی گذاری

-1839

خاندانِ مجیبی میں سب سے زیادہ وسیع الدرس عالم اور شاہ نعمت اللہ قادری کے مرید و مجاز

803 -910

صوفیائے کرام کے سربراہ اور میدانِ تصوف کے شاہسواروں میں شامل ہیں۔

1889 -1974

اردو کے ممتاز شاعر تھے، جن کا تعلق سندیلہ، ہردوئی سے تھا، انہوں نے 1905ء میں شعر گوئی کا آغاز کیا، ابتدا میں میر منصب علی سندیلوی اور بعد ازاں آرزو لکھنوی سے اصلاحِ سخن لی، ان کا شعری سرمایہ "کلیاتِ جوان" اور "رباعیاتِ جوان خوش رنگ" کی صورت میں شائع ہوا جو ان کے پختہ شعری ذوق اور فنی مہارت کا آئینہ دار ہے۔

1908

اردو کے شاعر تھے جنہوں نے خود آموزی اور شعری ریاضت کے ذریعے ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا، انہوں نے رام بہادر لعل جویا آنولوی سے اصلاحِ سخن لی جبکہ ان کی اہم تصانیف میں "بادۂ تاثرات"، "کیفِ سرمدی"، "نعت و مناقب" اور "آتشِ خاموش" شامل ہیں۔

1898 -1982

اردو ادب کے نامور اور قادر الکلام شاعر

1933

اردو کے ممتاز غزل گو اور نعت گو شاعر تھے، اظہار حسین خاں رامپوری سے اصلاحِ سخن حاصل کی اور 1940ء سے شعر گوئی کا آغاز کیا، ان کا پہلا شعری مجموعہ "اوراقِ گل" 1986ء میں شائع ہوا جبکہ ان کی نعتیہ شاعری عشقِ رسول اور حسنِ بیان کے باعث خاص شہرت رکھتی ہے۔

حضرت مولانا امجد برہان پوری کے صاحبزادے

1946

نور نوحی کے صاحبزادے اور بزم نور ، آرہ کے سرپرست

1948

اردو کے ممتاز غزل گو شاعر تھے، آپ نے ممتاز غازی پوری، غلام احمد فگار عظیم آبادی اور حلیم صابر سے اصلاحِ سخن حاصل کی، جبکہ غزل کے ساتھ حمد، منقبت، قطعات اور نظم میں بھی قابلِ قدر تخلیقات پیش کیں۔

بولیے