Font by Mehr Nastaliq Web

نعت و منقبت

پیغمبرِ اسلام حضرت محمد پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی اندازِ بیاں کو نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔ عربی زبان میں نعت کے لیے لفظ "مدحِ رسول" استعمال ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابہ کرام نے نعتیں لکھیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ اسی طرح اشعار کے ذریعے کسی صوفی کی تعریف کرنے کو منقبت کہتے ہیں۔

1894 -1970

گدڑی شاہ ثالث کے نام سے معروف، ممتاز صوفی بزرگ، شاعر، مصنف اور عثمانیہ چلہ، اجمیر کے سجادہ نشیں تھے، تصوف، عرفان اور عشقِ الٰہی پر آپ کی متعدد تصانیف اور گیارہ شعری مجموعے شائع ہوئے جبکہ آپ کی تعلیمات کا بنیادی محور عشق، اخلاص اور احترامِ انسانیت تھا۔

1916 -2002

اردو کے ممتاز شاعر تھے، سائل دہلوی کے شاگرد تھے اور غزل گوئی میں نمایاں مقام رکھتے تھے، ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’خلش‘‘ 1970ء میں شائع ہوا۔

1952

ممتاز نعت گو شاعر، محقق اور ادبی شخصیت ہیں، ان کے نعتیہ مجموعے ’’کلامِ رضوی‘‘ اور ’’آئینۂ مودت‘‘ شائع ہوچکے ہیں جبکہ ’’کلیاتِ شاہ انصار الٰہ آبادی‘‘ کی تدوین بھی ان کی اہم علمی خدمت ہے۔

ممتاز شاعر، ادیب، محقق اور معالج ہیں، مدینہ منورہ میں شعبۂ طب سے وابستہ ہونے کے ساتھ اردو ادب اور سماجی خدمات میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں، ان کی تصنیف ’’ہم عہدِ وفا میں زندہ ہیں‘‘ شائع ہوچکی ہے جبکہ 2025ء میں انہیں ادب، طب اور سماجی خدمات پر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

1958

ممتاز طنز و مزاح نگار شاعر ہیں جو بعد ازاں امریکہ منتقل ہو کر نیویارک میں مقیم ہوئے، طنزیہ شاعری کے ساتھ نعت گوئی میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں جبکہ ان کے مجموعے ’’الہام‘‘، ’’اعزاز‘‘ اور ’’بڑے لوگ‘‘ شائع ہوچکے ہیں۔

1941 -2008

پاکستان کے ممتاز نعت گو شاعر تھے، ان کی شہرۂ آفاق نعت ’’یہ سب تمہارا کرم ہے آقا‘‘ نے انہیں غیر معمولی شہرت بخشی، ان کے معروف نعتیہ مجموعوں میں ’’قرارِ جاں‘‘، ’’قدم قدم سجدے‘‘ اور ’’حسنِ ادب‘‘ شامل ہیں۔

1958 -2025

بدایوں کے ممتاز نعت گو شاعر، ادیب اور معلم تھے، نعت، غزل اور نظم میں نمایاں خدمات انجام دیں جبکہ ان کی اہم تصانیف ’’محسنِ کونین‘‘، ’’انوارِ کربلا‘‘ اور ’’زادِ آخرت‘‘ ہیں۔ 2025ء میں ان کا انتقال ہوا۔

1879 -1987

حیدرآباد کے ممتاز صوفی بزرگ، عالم، ادیب اور شاعر تھے، آپ کا مجموعۂ کلام ’’سخنستانِ وجودی‘‘ تصوف، معرفت، عشقِ الٰہی اور عشقِ رسول پر مشتمل ایک اہم ادبی سرمایہ ہے۔

1908 -1989

اردو کے شاعر، ادیب، صحافی اور ناشر تھے، غزل، نظم، رباعی اور قصیدہ سمیت مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی اور نو شعری مجموعے شائع کیے جن میں دو نعتیہ مجموعے بھی شامل ہیں، انہوں نے ماہنامہ ’’غریب‘‘ جاری کیا، ادبی جریدہ ’’لہریں‘‘ کی ادارت کی اور تاج پرنٹنگ پریس کے ذریعے علمی و ادبی خدمات انجام دیں۔

1909

شولاپور کے صوفی شاعر تھے، ان کا مجموعۂ کلام ’’حبِ محمد‘‘ نعتیہ شاعری پر مشتمل ہے جبکہ عشقِ رسول، تصوف اور عرفانی مضامین ان کی شاعری کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

شیریں زباں، فصیح بیاں، عمدہ فصحائے جہاں

صفی پور کے اردو و فارسی کے صاحبِ طرز شاعر تھے، تصوف سے گہری وابستگی رکھتے تھے اور مخدوم خادم صفی کے مرید تھے، ان کا شعری مجموعہ ’’خیابانِ خلیل‘‘ اردو اور فارسی غزلیات پر مشتمل ہے۔

1919 -1999

اردو کے ممتاز غزل گو شاعر، نغمہ نگار اور فلمی گیت کار تھے۔

1914

اردو کے ممتاز غزل گو شاعر اور نعت گو تھے۔

1748 -1826

خواجہ ضیاؤالدین کے صحبت یافتہ اور شاہ نصیر دہلوی کے شاگرد رشید

1715 -1788

عظیم آباد کے ممتاز صوفی شاعر اور بارگاہ حضرت عشق کے روح رواں

خانقاہ ناصریہ، بریلی کے نائب سجادہ نشیں

1996

خانقاہ ناصریہ، سہارن پور کے چشم و چراغ

اسلامی تاریخ، سیرتِ نبوی اور ادبِ اطفال کے ممتاز محقق، مصنف اور ادیب ہیں۔

1884 -1944

مولانا اشرف علی تھانوی کے مرید و خلیفہ

1845 -1901

پاکستان سے تعلق رکھنے والے مشہور صوفی شاعر, آپ کی کافیاں کافی مشہور ہیں

1806 -1883

تیرھویں صدی ہجری کے مقبول زمانہ صوفی اور پیر بیگہہ میں واقع آستانہ چشتی چمن کے روح رواں

1883 -1948

معروف صوفی اور اردو، فارسی اور سرائیکی زبان کے صوفی شاعر تھے۔

چودھویں صدی ہجری کے مقبول صوفی شاعر، آپ کی درگاہ بریلی شہر کے نومحلہ میں واقع ہے۔

-1977

درگاہ خواجہ خانون، گوالیار کے گدی نشیں اور وہاں کے معروف صوفی شاعر

حیدرآباد کے ممتاز شاعر تھے، عثمانیہ یونیورسٹی سے بی۔ایس۔سی کی ڈگری حاصل کی، ان کی شاعری کلاسیکی رنگ، فنی پختگی اور شائستۂ اسلوب کی آئینہ دار ہے جبکہ مشاعروں میں بطور صدر اور شاعر انہیں نمایاں ادبی احترام حاصل تھا۔

1943

اردو اور فارسی کے ممتاز ادیب، محقق اور شاعر تھے، انہوں نے یونیورسٹی اورینٹل کالج، لاہور سے فارسی اور اردو میں ایم۔اے کی ڈگریاں حاصل کیں، ان کی نمایاں تصانیف میں مطالعۂ ادبیاتِ ایران (حصۂ نثر)، اردو گرامر کمپوزیشن اور دبدبۂ سکندری شامل ہیں۔

-1966

سلام اور قصیدہ نگاری کے ممتاز شاعر تھے، رسمی تعلیم سے محروم ہونے کے باوجود فطری شعری صلاحیت کے مالک تھے، ایک عرصہ ممبئی میں زری و گلابتون کی صنعت سے وابستہ رہے جبکہ ان کی شاعری میں اہلِ بیتِ اطہار سے والہانہ عقیدت نمایاں طور پر جلوہ گر ہوتی ہے۔

سادگیِ اظہار اور والہانہ عقیدت کے ساتھ نعتیہ شاعری کرنے والے شاعر۔

1869 -1944

اردو کے ممتاز شاعر تھے جنہوں نے غزل اور نعت دونوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔

1934 -2001

اردو کے شاعر، فارسی کے استاد اور مشاعروں کے مقبول شاعر تھے، مدرسہ عالیہ، رامپور میں سینتیس برس تدریسی خدمات انجام دیں، ان کا شعری مجموعہ ’’پہچان‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔

1925 -2001

ممتاز محقق، دیوان غالب زمانی لحاظ سے مرتب کرنے کے لیے معروف

1825 -1898

بدایوں کے شاعر، طبیب اور نعت گو تھے، انہوں نے نواب زین العابدین خاں عارف دہلوی سے اصلاح لی اور اپنی نعتیہ شاعری کے لیے شہرت حاصل کی۔

بولیے