نعت و منقبت
پیغمبرِ اسلام حضرت محمد پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی اندازِ بیاں کو نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔ عربی زبان میں نعت کے لیے لفظ "مدحِ رسول" استعمال ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابہ کرام نے نعتیں لکھیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ اسی طرح اشعار کے ذریعے کسی صوفی کی تعریف کرنے کو منقبت کہتے ہیں۔
گدڑی شاہ ثالث کے نام سے معروف، ممتاز صوفی بزرگ، شاعر، مصنف اور عثمانیہ چلہ، اجمیر کے سجادہ نشیں تھے، تصوف، عرفان اور عشقِ الٰہی پر آپ کی متعدد تصانیف اور گیارہ شعری مجموعے شائع ہوئے جبکہ آپ کی تعلیمات کا بنیادی محور عشق، اخلاص اور احترامِ انسانیت تھا۔
اردو کے ممتاز شاعر تھے، سائل دہلوی کے شاگرد تھے اور غزل گوئی میں نمایاں مقام رکھتے تھے، ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’خلش‘‘ 1970ء میں شائع ہوا۔
ممتاز نعت گو شاعر، محقق اور ادبی شخصیت ہیں، ان کے نعتیہ مجموعے ’’کلامِ رضوی‘‘ اور ’’آئینۂ مودت‘‘ شائع ہوچکے ہیں جبکہ ’’کلیاتِ شاہ انصار الٰہ آبادی‘‘ کی تدوین بھی ان کی اہم علمی خدمت ہے۔
ممتاز شاعر، ادیب، محقق اور معالج ہیں، مدینہ منورہ میں شعبۂ طب سے وابستہ ہونے کے ساتھ اردو ادب اور سماجی خدمات میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں، ان کی تصنیف ’’ہم عہدِ وفا میں زندہ ہیں‘‘ شائع ہوچکی ہے جبکہ 2025ء میں انہیں ادب، طب اور سماجی خدمات پر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔
ممتاز طنز و مزاح نگار شاعر ہیں جو بعد ازاں امریکہ منتقل ہو کر نیویارک میں مقیم ہوئے، طنزیہ شاعری کے ساتھ نعت گوئی میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں جبکہ ان کے مجموعے ’’الہام‘‘، ’’اعزاز‘‘ اور ’’بڑے لوگ‘‘ شائع ہوچکے ہیں۔
پاکستان کے ممتاز نعت گو شاعر تھے، ان کی شہرۂ آفاق نعت ’’یہ سب تمہارا کرم ہے آقا‘‘ نے انہیں غیر معمولی شہرت بخشی، ان کے معروف نعتیہ مجموعوں میں ’’قرارِ جاں‘‘، ’’قدم قدم سجدے‘‘ اور ’’حسنِ ادب‘‘ شامل ہیں۔
بدایوں کے ممتاز نعت گو شاعر، ادیب اور معلم تھے، نعت، غزل اور نظم میں نمایاں خدمات انجام دیں جبکہ ان کی اہم تصانیف ’’محسنِ کونین‘‘، ’’انوارِ کربلا‘‘ اور ’’زادِ آخرت‘‘ ہیں۔ 2025ء میں ان کا انتقال ہوا۔
حیدرآباد کے ممتاز صوفی بزرگ، عالم، ادیب اور شاعر تھے، آپ کا مجموعۂ کلام ’’سخنستانِ وجودی‘‘ تصوف، معرفت، عشقِ الٰہی اور عشقِ رسول پر مشتمل ایک اہم ادبی سرمایہ ہے۔
اردو کے شاعر، ادیب، صحافی اور ناشر تھے، غزل، نظم، رباعی اور قصیدہ سمیت مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی اور نو شعری مجموعے شائع کیے جن میں دو نعتیہ مجموعے بھی شامل ہیں، انہوں نے ماہنامہ ’’غریب‘‘ جاری کیا، ادبی جریدہ ’’لہریں‘‘ کی ادارت کی اور تاج پرنٹنگ پریس کے ذریعے علمی و ادبی خدمات انجام دیں۔
شولاپور کے صوفی شاعر تھے، ان کا مجموعۂ کلام ’’حبِ محمد‘‘ نعتیہ شاعری پر مشتمل ہے جبکہ عشقِ رسول، تصوف اور عرفانی مضامین ان کی شاعری کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
صفی پور کے اردو و فارسی کے صاحبِ طرز شاعر تھے، تصوف سے گہری وابستگی رکھتے تھے اور مخدوم خادم صفی کے مرید تھے، ان کا شعری مجموعہ ’’خیابانِ خلیل‘‘ اردو اور فارسی غزلیات پر مشتمل ہے۔
خواجہ ضیاؤالدین کے صحبت یافتہ اور شاہ نصیر دہلوی کے شاگرد رشید
عظیم آباد کے ممتاز صوفی شاعر اور بارگاہ حضرت عشق کے روح رواں
اسلامی تاریخ، سیرتِ نبوی اور ادبِ اطفال کے ممتاز محقق، مصنف اور ادیب ہیں۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والے مشہور صوفی شاعر, آپ کی کافیاں کافی مشہور ہیں
تیرھویں صدی ہجری کے مقبول زمانہ صوفی اور پیر بیگہہ میں واقع آستانہ چشتی چمن کے روح رواں
معروف صوفی اور اردو، فارسی اور سرائیکی زبان کے صوفی شاعر تھے۔
چودھویں صدی ہجری کے مقبول صوفی شاعر، آپ کی درگاہ بریلی شہر کے نومحلہ میں واقع ہے۔
درگاہ خواجہ خانون، گوالیار کے گدی نشیں اور وہاں کے معروف صوفی شاعر
حیدرآباد کے ممتاز شاعر تھے، عثمانیہ یونیورسٹی سے بی۔ایس۔سی کی ڈگری حاصل کی، ان کی شاعری کلاسیکی رنگ، فنی پختگی اور شائستۂ اسلوب کی آئینہ دار ہے جبکہ مشاعروں میں بطور صدر اور شاعر انہیں نمایاں ادبی احترام حاصل تھا۔
اردو اور فارسی کے ممتاز ادیب، محقق اور شاعر تھے، انہوں نے یونیورسٹی اورینٹل کالج، لاہور سے فارسی اور اردو میں ایم۔اے کی ڈگریاں حاصل کیں، ان کی نمایاں تصانیف میں مطالعۂ ادبیاتِ ایران (حصۂ نثر)، اردو گرامر کمپوزیشن اور دبدبۂ سکندری شامل ہیں۔
سلام اور قصیدہ نگاری کے ممتاز شاعر تھے، رسمی تعلیم سے محروم ہونے کے باوجود فطری شعری صلاحیت کے مالک تھے، ایک عرصہ ممبئی میں زری و گلابتون کی صنعت سے وابستہ رہے جبکہ ان کی شاعری میں اہلِ بیتِ اطہار سے والہانہ عقیدت نمایاں طور پر جلوہ گر ہوتی ہے۔
اردو کے ممتاز شاعر تھے جنہوں نے غزل اور نعت دونوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
اردو کے شاعر، فارسی کے استاد اور مشاعروں کے مقبول شاعر تھے، مدرسہ عالیہ، رامپور میں سینتیس برس تدریسی خدمات انجام دیں، ان کا شعری مجموعہ ’’پہچان‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔
ممتاز محقق، دیوان غالب زمانی لحاظ سے مرتب کرنے کے لیے معروف
بدایوں کے شاعر، طبیب اور نعت گو تھے، انہوں نے نواب زین العابدین خاں عارف دہلوی سے اصلاح لی اور اپنی نعتیہ شاعری کے لیے شہرت حاصل کی۔