Font by Mehr Nastaliq Web

نعت و منقبت

پیغمبرِ اسلام حضرت محمد پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی اندازِ بیاں کو نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔ عربی زبان میں نعت کے لیے لفظ "مدحِ رسول" استعمال ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابہ کرام نے نعتیں لکھیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ اسی طرح اشعار کے ذریعے کسی صوفی کی تعریف کرنے کو منقبت کہتے ہیں۔

1911 -1984

اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور نعت گو تھے۔

1954 -2009

معروف نعت گو شاعر جو اردو و پنجابی کے اپنے دور کے باکمال شاعر تھے۔

حضرت مولانا سید حمرہ دہلوی کے صاحبزادے

منیری فاؤنڈیشن کے سرپرست اور تصوف کے ذوق سے معمور

1925 -1972

جدید اردو غزل کے بنیاد سازوں میں شامل ، ہندوستان کے شہر انبالہ میں پیدا ہوئے اور پاکستان ہجرت کر گئے جہاں انہوں نے تقسیم اور ہجرت کی تکلیف اور اثرات کو موضوع سخن بنایا۔

دہلی کی کلاسیکی شعری روایت کے شاعر اور بیخود دہلوی کے شاگرد تھے، جنہوں نے ان کی صحبت و اصلاح سے شعری ذوق پروان چڑھایا اور نعتیہ کلام کے ذریعے دربارِ رسالت میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔

1917

والہانہ عشقِ رسول کے ترجمان نعت گو شاعر تھے۔

سہارن پور کے معزز جینی خاندان کے شاعر، منشی نند لال کے فرزند اور شنکر لال ساقی سکندرآبادی و غریب سہارنپوری کے شاگرد تھے؛ ان کی ہر غزل کا مطلع نعتیہ ہوتا، جو عشقِ رسول کا مظہر تھا۔

1962

شبنم غضنفری کے شاگرد

-1921

بیدم وارثی کے استاد محترم اور حضرت شاہ اکبر داناپوری کے ممتاز مرید و خلیفہ اور نامور شاگرد

1868

داغ دہلوی کی شعری روایت کو نعتیہ قصیدے میں نئی بلاغت عطا کرنے والے شاعر۔

1927

میرٹھ کے شاعر تھے، 1946ء میں شعر گوئی کا آغاز کیا، موج زیبائی دہلوی کے شاگرد رہے اور ان کا مجموعۂ کلام ’’آوازِ دل‘‘ 1994ء میں شائع ہوا۔

1926 -1992

بدایوں کے خوش بیان واعظ اور صاحبِ ذوق نعت گو شاعر تھے جنہوں نے زندگی بھر نعتیہ شاعری کو اپنا مستقل میدانِ اظہار بنائے رکھا۔

-1919

داغ دہلوی کے شاگرد اور شاہ اکبر داناپوری کے بھانجہ اورمرید

1903

سیتاپور کے کائستھ شاعر تھے، جگر بسوانی کے شاگرد اور شباب کاکوروی سے اصلاح یافتہ، جن کا متنوع شعری سرمایہ نعت، غزل، رباعی، قطعہ اور نظم پر مشتمل تھا۔

1898 -1952

میرٹھ کے اردو و ہندی کے شاعر، پنڈت منگل سین چوراسیا کے فرزند اور شریف اللہ ربط میرٹھی و مولانا شعیب احمد ندرت میرٹھی کے شاگرد تھے، جنہوں نے ایک دیوان بھی مرتب کیا۔

1912 -1983

حلیم مسلم کالج، کانپور میں بحیثیت مدرس اور معروف صوفی شاعر

خانقاہ بلخیہ فردوسیہ، فتوحہ سجادہ نشیں کے برادر اصغر اور علم و آگہی سے معمور

1833 -1878

خانقاہ مجیبیہ، پھلواری شریف کے معروف سجادہ نشیں، آپ کا دیوانِ معجز بیان نعتیہ کلام کے لیے مشہور ہے جبکہ ان کی شاعری میں تصوف نمایاں ہے۔

بولیے