نعت و منقبت
پیغمبرِ اسلام حضرت محمد پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی اندازِ بیاں کو نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔ عربی زبان میں نعت کے لیے لفظ "مدحِ رسول" استعمال ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابہ کرام نے نعتیں لکھیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ اسی طرح اشعار کے ذریعے کسی صوفی کی تعریف کرنے کو منقبت کہتے ہیں۔
معروف نعت گو شاعر جو اردو و پنجابی کے اپنے دور کے باکمال شاعر تھے۔
جدید اردو غزل کے بنیاد سازوں میں شامل ، ہندوستان کے شہر انبالہ میں پیدا ہوئے اور پاکستان ہجرت کر گئے جہاں انہوں نے تقسیم اور ہجرت کی تکلیف اور اثرات کو موضوع سخن بنایا۔
دہلی کی کلاسیکی شعری روایت کے شاعر اور بیخود دہلوی کے شاگرد تھے، جنہوں نے ان کی صحبت و اصلاح سے شعری ذوق پروان چڑھایا اور نعتیہ کلام کے ذریعے دربارِ رسالت میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔
سہارن پور کے معزز جینی خاندان کے شاعر، منشی نند لال کے فرزند اور شنکر لال ساقی سکندرآبادی و غریب سہارنپوری کے شاگرد تھے؛ ان کی ہر غزل کا مطلع نعتیہ ہوتا، جو عشقِ رسول کا مظہر تھا۔
بیدم وارثی کے استاد محترم اور حضرت شاہ اکبر داناپوری کے ممتاز مرید و خلیفہ اور نامور شاگرد
داغ دہلوی کی شعری روایت کو نعتیہ قصیدے میں نئی بلاغت عطا کرنے والے شاعر۔
میرٹھ کے شاعر تھے، 1946ء میں شعر گوئی کا آغاز کیا، موج زیبائی دہلوی کے شاگرد رہے اور ان کا مجموعۂ کلام ’’آوازِ دل‘‘ 1994ء میں شائع ہوا۔
بدایوں کے خوش بیان واعظ اور صاحبِ ذوق نعت گو شاعر تھے جنہوں نے زندگی بھر نعتیہ شاعری کو اپنا مستقل میدانِ اظہار بنائے رکھا۔
سیتاپور کے کائستھ شاعر تھے، جگر بسوانی کے شاگرد اور شباب کاکوروی سے اصلاح یافتہ، جن کا متنوع شعری سرمایہ نعت، غزل، رباعی، قطعہ اور نظم پر مشتمل تھا۔
میرٹھ کے اردو و ہندی کے شاعر، پنڈت منگل سین چوراسیا کے فرزند اور شریف اللہ ربط میرٹھی و مولانا شعیب احمد ندرت میرٹھی کے شاگرد تھے، جنہوں نے ایک دیوان بھی مرتب کیا۔
خانقاہ بلخیہ فردوسیہ، فتوحہ سجادہ نشیں کے برادر اصغر اور علم و آگہی سے معمور
خانقاہ مجیبیہ، پھلواری شریف کے معروف سجادہ نشیں، آپ کا دیوانِ معجز بیان نعتیہ کلام کے لیے مشہور ہے جبکہ ان کی شاعری میں تصوف نمایاں ہے۔