نعت و منقبت
پیغمبرِ اسلام حضرت محمد پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی اندازِ بیاں کو نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔ عربی زبان میں نعت کے لیے لفظ "مدحِ رسول" استعمال ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابہ کرام نے نعتیں لکھیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ اسی طرح اشعار کے ذریعے کسی صوفی کی تعریف کرنے کو منقبت کہتے ہیں۔
حیدرآباد کے معزز کشن پرشاد خانوادے سے تعلق رکھتے تھے، اردو و فارسی کے شائق اور نعت گو شاعر تھے، جنہوں نے 1958ء میں باقاعدہ شعر گوئی کا آغاز کیا اور ’’پرشاد‘‘ تخلص اختیار کیا۔
ممتاز شاعر، مصنف، فارسی داں، ریاستی عہدیدار اور رفاہی شخصیت تھے، جنہوں نے اردو، فارسی اور ہندی میں متعدد تصانیف چھوڑیں اور نعتیہ شاعری میں محبتِ رسول کے جذبات کا مؤثر اظہار کیا۔
شملہ کے شاعر اور آئی پی ایس افسر تھے، جو ڈی آئی جی کے منصب تک پہنچے اور غزل، نعت، قطعہ، رباعی و گیت سمیت مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی، جبکہ ان کا شعری مجموعہ ’’گلِ تر‘‘ 1984ء میں شائع ہوا۔
ادو، مظفرگڑھ کے شاعر، ادیب اور اردو کے فروغ کے فعال کارکن تھے، جنہوں نے جے رام داس ’’فلک‘‘ اور آتش بہاولپوری سے اصلاحِ سخن لی اور نعتیہ شاعری میں محبت و عقیدت کو سادہ و مؤثر انداز میں پیش کیا۔
معروف شاعر تھے، جنہوں نے غزل کے ساتھ نعتیہ شاعری میں بھی عشقِ رسول کے جذبات کا مؤثر اظہار کیا اور ’’آئینۂ راز‘‘ و ’’راز و نیاز‘‘ سمیت متعدد شعری مجموعے شائع کیے۔
محبتِ رسول سے سرشار ممتاز نعت گو شاعر، محقق اور ماہرِ لسانیات تھے۔
دکن میں سلسلۂ چشتیہ کے معروف صوفی اور سراج اورنگ آبادی کے پیر و مرشد
ممتاز شاعر اور ادبی کارکن تھے، جنہوں نے غزل و نظم کے ساتھ نعتیہ شاعری میں بھی عقیدتِ رسول کا مؤثر اظہار کیا اور اردو کی ترویج کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔
عشقِ رسول سے سرشار نعت گو شاعر تھے جنہوں نے اپنے کلام میں عقیدتِ نبوی کو دل آویز انداز میں پیش کیا۔
تعلیم و ادب دونوں میدانوں میں اخلاص کے ساتھ خدمات انجام دینے والے سخنور۔