نعت و منقبت
پیغمبرِ اسلام حضرت محمد پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی اندازِ بیاں کو نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔ عربی زبان میں نعت کے لیے لفظ "مدحِ رسول" استعمال ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابہ کرام نے نعتیں لکھیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ اسی طرح اشعار کے ذریعے کسی صوفی کی تعریف کرنے کو منقبت کہتے ہیں۔
پنجاب کے شاعر، ادیب اور انشا پرداز تھے، جو جوشؔ ملسیانی کے شاگرد اور ’’کلیاتِ برہمن‘‘ کے مرتب تھے، نیز نعتیہ شاعری میں بھی عقیدتِ رسول کا اظہار کرتے تھے۔
ممتاز شاعر و ادیب تھے جو جوشؔ ملسیانی کے شاگرد اور متعدد ادبی رسائل کے مدیر رہے، اور نعتیہ شاعری میں بھی عقیدتِ رسول کا والہانہ اظہار کیا۔
ممتاز مقبول عام شاعر، حب الوطنی کے نظموں کے لئے مشہور ، پدم بھوشن کا اعزار
’’سخنواران کاکوری‘‘ کے مصنف اور ’’میخانۂ ادب‘‘ (کراچی) کے سرپرست
معزز کائستھ خاندان کے شاعر تھے جو شمشاد لکھنوی کے شاگرد رہے اور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ آبائی وطن گروار، بلیا میں گزارا۔
عشقِ رسول میں وارفتہ نعت گو شاعر تھے جنہوں نے محبتِ نبوی کو اپنے کلام کی روح بنایا۔
حاجی وارث علی شاہ کے معتقد اور نعتیہ کلام کا مجموعہ "معطر معطر" کے شاعر
مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ کے شعبۂ اردو کے صدر اور دائرہ شاہ اجمل، الہ آباد کے چشم و چراغ
لدھیانہ کے صاحبِ مطالعہ و صاحبِ ذوق شاعر تھے، انگریزی ادب میں ایم۔اے کیا، 1952ء سے شعر گوئی کا آغاز کیا اور اپنے ادبی حلقے میں استادِ سخن کی معتبر حیثیت رکھتے تھے۔