Font by Mehr Nastaliq Web

نعت و منقبت

پیغمبرِ اسلام حضرت محمد پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی اندازِ بیاں کو نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔ عربی زبان میں نعت کے لیے لفظ "مدحِ رسول" استعمال ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابہ کرام نے نعتیں لکھیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ اسی طرح اشعار کے ذریعے کسی صوفی کی تعریف کرنے کو منقبت کہتے ہیں۔

آستانہ ماجدیہ، کراچی کے سجادہ نشیں

1918 -1984

درگاہ حضرت قطبی میاں (رامپور) کے سجادہ نشیں

خانقاہ چشتیہ نظامیہ، امیٹی، لکھنؤ کے سجادہ نشیں

1944

حاجی وارث علی شاہ کے عقیدت مند

1914

پنجاب کے شاعر، ادیب اور انشا پرداز تھے، جو جوشؔ ملسیانی کے شاگرد اور ’’کلیاتِ برہمن‘‘ کے مرتب تھے، نیز نعتیہ شاعری میں بھی عقیدتِ رسول کا اظہار کرتے تھے۔

1931 -1994

ممتاز شاعر و ادیب تھے جو جوشؔ ملسیانی کے شاگرد اور متعدد ادبی رسائل کے مدیر رہے، اور نعتیہ شاعری میں بھی عقیدتِ رسول کا والہانہ اظہار کیا۔

1928 -1974

پاکستان کا مست بادۂ الست شاعر

1905 -1984

ممتاز مقبول عام شاعر، حب الوطنی کے نظموں کے لئے مشہور ، پدم بھوشن کا اعزار

1921 -1986

’’سخنواران کاکوری‘‘ کے مصنف اور ’’میخانۂ ادب‘‘ (کراچی) کے سرپرست

1861 -1934

معزز کائستھ خاندان کے شاعر تھے جو شمشاد لکھنوی کے شاگرد رہے اور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ آبائی وطن گروار، بلیا میں گزارا۔

1915 -1979

سنی وقف بورڈ (لکھنو) کے سیکریٹری

عشقِ رسول میں وارفتہ نعت گو شاعر تھے جنہوں نے محبتِ نبوی کو اپنے کلام کی روح بنایا۔

-1971

بحیثیت نثار، شاعر، صحافی، مترجم اور مصنف مشہور

1928 -1985

حاجی وارث علی شاہ کے معتقد اور نعتیہ کلام کا مجموعہ "معطر معطر" کے شاعر

خانقاہ مجیبیہ، پھلواری شریف کے ماتحت دارالعلوم مجیبیہ کے صدر مدرس

1875

عشقِ رسول میں وارفتہ نعت گو شاعر تھے۔

1839 -1900

مرزا غالب کے شاگرد اور خواجہ قیام اصدق کے مرید

مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ کے شعبۂ اردو کے صدر اور دائرہ شاہ اجمل، الہ آباد کے چشم و چراغ

’’گلشنِ چشت‘‘ کے مصنف

مدرسہ نظامیہ، ادونی کے مدرس

1901 -1984

جمنا کرشچین کالج، الہ آباد میں اردو و فارسی کے استاد

1715 -1764

صوفی شاعر کی حیثیت سے مقبول تھے

1952 -2020

بیدم شاہ وارثی کے بڑے پوتے

1938

لدھیانہ کے صاحبِ مطالعہ و صاحبِ ذوق شاعر تھے، انگریزی ادب میں ایم۔اے کیا، 1952ء سے شعر گوئی کا آغاز کیا اور اپنے ادبی حلقے میں استادِ سخن کی معتبر حیثیت رکھتے تھے۔

فرخ آباد کے سیٹی مجسٹریٹ

پھلواری شریف کے عالمِ دین، صوفی شاعر اور شورش پھلواروی کے شاگرد تھے۔

بولیے