نعت و منقبت
پیغمبرِ اسلام حضرت محمد پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی اندازِ بیاں کو نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔ عربی زبان میں نعت کے لیے لفظ "مدحِ رسول" استعمال ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابہ کرام نے نعتیں لکھیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ اسی طرح اشعار کے ذریعے کسی صوفی کی تعریف کرنے کو منقبت کہتے ہیں۔
نعت و میلاد کی روایت کو عملی اور روحانی رنگ عطا کرنے والی شخصیت۔
معروف صوفی شاعر اور بابا تاج الدین ناگپوری کے خلیفہ یوسف شاہ تاجی کے مرید
مرزا غالب کے شاگرد رشید اور حضرت فخرالدین فخر جہاں کے مرید
ایک صاحبِ علم اور خوش فکر شاعر تھے، جنہوں نے ہجرت کے بعد پاکستان میں علمی و ادبی میدان میں اپنی شناخت قائم کی اور اپنے شعری مجموعے کلامِ ضمیر کے ذریعے اپنے فکری و ادبی ذوق کو نمایاں کیا۔
سونی خاندان کے شاعر تھے، سیماب اکبرآبادی کے شاگرد اور مختلف اصنافِ سخن کے ساتھ خلوص سے نعت گوئی کرنے والے ادیب تھے۔
نعت، مناقب اور مقدس مقامات کے منظوم سفرناموں کے ممتاز شاعر۔
الہ آباد یونیورسیٹی کے شعبۂ اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر اور حمید ویشالوی کے شاگرد رشید
ٹھاکر خاندان کے شاعر تھے، غلام حسین رئیس نیازی اور دیوی دیال آتش بہاول پوری سے اصلاح لی، ’’گلستانِ معرفت‘‘ مرتب کیا اور محبت و عقیدت سے نعتیہ شاعری کی۔
شاعر، مدیر اور آزادی کی جد و جہد میں حصہ لینے والے ایک سرگرم سیاسی کارکن
ممتاز نعت گو شاعر، عالمِ دین اور خانوادۂ قادریہ بشیریہ کی روحانی شخصیت تھے۔