کاش ہم سوئے مدینہ کبھی جاتے جاتے
دلچسپ معلومات
خمسہ بر غزل کفایت علی کافیؔ۔
کاش ہم سوئے مدینہ کبھی جاتے جاتے
حال دل سید عالم کو سناتے جاتے
نظر اس گنبد خضریٰ پہ جماتے جاتے
دیکھتے جلوۂ دیدار کو آتے جاتے
گلِ نظارہ کو آنکھوں سے اٹھاتے جاتے
کچھ دنوں جا کے مدینہ میں اقامت کرتے
دل دیوانہ کو مصروف عبادت کرتے
ہم بھی اتنی کبھی اثبات اطاعت کرتے
ہر سحر روضۂ اطہر کی زیارت کرتے
داغ ہجراں دلِ محزوں سے مٹاتے جاتے
عاشقی کا کبھی دم ہم بھی الٰہی بھرتے
جن کے سودے میں پریشاں ہیں انہیں پر مرتے
کیوں پریشانیٔ الزام جہاں سے ڈرتے
سر شوریدہ کو گیسوپہ تصدق کرتے
دلِ دیوانہ کو زنجیر پہناتے جاتے
تیرا احسان تھا گر ہند میں آتی آتی
اے صبا خاک مدینے کی اڑاتی لاتی
جان محزوں یہ کسی طرح سے راحت پاتی
قدم پاک کی گر خاک مدینے کی اڑاتی لاتی
چشمِ مشتاق میں بھر بھر کے لگاتے جاتے
ملتا گر طالعِ واژوں سا مددگار ہمیں
رنج فرقت کا نہ ہوتا کبھی دشوار ہمیں
ہوتا حضرت کے رخِ پاک کا دیدار ہمیں
ملتی گر خواب میں وہ دولت بیدار ہمیں
بخت خوابیدہ کو ٹھو کر سے جگاتے جاتے
جائیں ہم روضۂ اطہر کو تو ترچھے ترچھے
لیلۂ ناقہ کے سودے میں ترے متوالے
دوڑے پھرتے ہر اک وادی میں آڑے پڑتے
دشت یثرب میں ترے ناقہ کے پیچھے پیچھے
دھجیاں جیب و گریباں کی اڑاتے جاتے
حسرتِ حالِ حسن ہے یہی مرتے مرتے
سر ترے روضے کے چوکھٹ پہ کبھی ہم دھرتے
کیا عجب آپ مسیحائی کا گردم بھرتے
کافی کشتۂ دیدار کو زندہ کرتے
لبِ اعجاز اگر آپ ہلاتے جاتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.