Font by Mehr Nastaliq Web

کسی کی یاد کیسی کیوں کسی کو یاد کرتا ہے

نازاں شولا پوری

کسی کی یاد کیسی کیوں کسی کو یاد کرتا ہے

نازاں شولا پوری

MORE BYنازاں شولا پوری

    کسی کی یاد کیسی کیوں کسی کو یاد کرتا ہے

    کہ نا حق حسرتوں کا خون دل ناشاد کرتا ہے

    یہ کیوں بیٹھے بٹھائے زندگی برباد کرتا ہے

    بیاں کیا اے دل مضطر غم بے داد کرتا ہے

    یہاں تو ہونٹ سی دیتے ہیں جو فریاد کرتا ہے

    یہاں کوئی نہیں رہتا ہے اہل آشیاں بن کے

    چمن میں جھانکتی پھرتی ہے برق آسماں بن کے

    یہ سب ساماں مہیا کر دیے ہیں تونے الجھن کے

    جہاں صیاد رہتا ہے یہاں تنکے نشیمن کے

    ارے تو کون سی بستی میں گھر آباد کرتا ہے

    نئی لے کا ہو پھر آغاز اے نغمات خوابیدہ

    بہ صد انداز لو انگڑائیاں اثرات خوابیدہ

    رہو گے تابکے مدہوش احساسات خوابیدہ

    وہ جلوہ بار ہوتا ہے اٹھو جذبات خوابیدہ

    خدا کا شکر ہے پیاسے کو دریا یاد کرتا ہے

    مسافر نے فراہم کر لیا ہے کوچ کا ساماں

    نزع کا وقت ہے آنکھوں میں آکر رک گئی ہے جاں

    فنا کی گود میں سو جائے گا جاگا ہوا مہماں

    وہ آتے ہیں کہ موت آتی ہے بالیں پر میری نازاںؔ

    یہی اب دیکھنا ہے کون پہلے یاد کرتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے