کسی کی یاد کیسی کیوں کسی کو یاد کرتا ہے
کسی کی یاد کیسی کیوں کسی کو یاد کرتا ہے
کہ نا حق حسرتوں کا خون دل ناشاد کرتا ہے
یہ کیوں بیٹھے بٹھائے زندگی برباد کرتا ہے
بیاں کیا اے دل مضطر غم بے داد کرتا ہے
یہاں تو ہونٹ سی دیتے ہیں جو فریاد کرتا ہے
یہاں کوئی نہیں رہتا ہے اہل آشیاں بن کے
چمن میں جھانکتی پھرتی ہے برق آسماں بن کے
یہ سب ساماں مہیا کر دیے ہیں تونے الجھن کے
جہاں صیاد رہتا ہے یہاں تنکے نشیمن کے
ارے تو کون سی بستی میں گھر آباد کرتا ہے
نئی لے کا ہو پھر آغاز اے نغمات خوابیدہ
بہ صد انداز لو انگڑائیاں اثرات خوابیدہ
رہو گے تابکے مدہوش احساسات خوابیدہ
وہ جلوہ بار ہوتا ہے اٹھو جذبات خوابیدہ
خدا کا شکر ہے پیاسے کو دریا یاد کرتا ہے
مسافر نے فراہم کر لیا ہے کوچ کا ساماں
نزع کا وقت ہے آنکھوں میں آکر رک گئی ہے جاں
فنا کی گود میں سو جائے گا جاگا ہوا مہماں
وہ آتے ہیں کہ موت آتی ہے بالیں پر میری نازاںؔ
یہی اب دیکھنا ہے کون پہلے یاد کرتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.