عید میلاد النبی
کفر کے ظلمت کدے میں نور پیدا کر دیا
نورِ وحدت سے اندھیرے میں اجلا کر دیا
شاہد حسنِ حقیقت کو تماشا کر دیا
ہر تماشائی کو اک جلوے نے موسیٰ کر دیا
آنکھ کی پتلی کو اک حیرت کا پتلا کر دیا
قصرِ کسریٰ آج کے دن ہو گیا تھا سر نگوں
مل گیا مٹی میں قیصر کی ضلالت کا جنوں
ہو گیا باطل بتوں کی شانِ حشمت کا فسوں
رک گیا الحاد کی شریان میں دورانِ خوں
کفر کو اسلام کے تیروں نے عنقا کر دیا
عید میلادِ محمد جامِ مے بردوش ہے
مست اِدھر عابد ادھر زاہد بھی عشرت کوش ہے
آج واعظ بھی ہے میکش شیخ بھی مے نوش ہے
دیکھیے محفل کی محفل بے پئے مدہوش ہے
ذکرِ حضرت نے عجب وہ کیف پیدا کر دیا
کیا محبت کیا مروت کیا سخاوت کیا عطا
ہر ادا پیاری ہے ہر انداز ہے راحت فزا
حسنِ دل کش کے کرشمے ہیں نہایت دل ربا
اور چشمِ کیف زا ہے کس قدر معجز نما
ہر نظر کو جس نے رشکِ موجِ صہبا کر دیا
چھا گیا ابرِ کرم اٹھ کر گل و گلزار پر
حسن نے کی جلوہ ریزی شاخ و برگ و بار پر
نور کی بارش ہوئی ہر سو در و دیوار پر
گوہر آگیں ابر برسا دامن کہسار پر
آپ نے صحرا کو اک رحمت کا دریا کر دیا
آپ کی خاطر بنے تھے یہ زمین و آسماں
آپ کی ہستی کا شاہد منظر کون و مکاں
آپ کا دربارِ اقدس سجدہ گاہِ انس و جاں
سر بسجدہ آپ کے قدموں پہ ہیں شاہانِ جہاں
آپ نے ذرے کو مہر ادنیٰ کو اعلیٰ کر دیا
جو حقیقت آشنا ہیں حق سے ہیں جو با خبر
علمِ تاریخ مذاہب پر جو رکھتے ہیں نظر
نکتہ ہائے دانش و حکمت سے ہیں جو بہرہ ور
جانتے ہیں مانتے ہیں ہو گیا ٹکڑے قمر
آپ نے جس وقت انگلی سے اشارا کر دیا
مردے زندہ ہوگئے تھے عیسوی اعجاز سے
بول اٹھے مٹھی میں پتھر آپ کی آواز سے
طور پر موسیٰ نہ واقف ہو سکے جس راز سے
آپ کو خلوت میں بلوا کر عجب انداز سے
حق نے ہر رازِ حقیقت آشکارا کر دیا
باعثِ تکوینِ موجودات ہے جس کا وجود
جس کی ہستی کا طفیلی ہے جہانِ ہست و بود
گلشنِ عالم میں جس کے حسن کی ہے سب نمود
بھیج اب اے قیسؔ اس پر تو دل و جاں سے درود
گم رہوں کو جس نے منزل سے شناسا کر دیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.