Font by Mehr Nastaliq Web

عید میلاد_النبی

قیس جالندھری

عید میلاد_النبی

قیس جالندھری

MORE BYقیس جالندھری

    کفر کے ظلمت کدہ میں نور پیدا کر دیا

    نور وحدت سے اندھیرے میں اجلا کر دیا

    شاہد حسن حقیقت کو تماشا کر دیا

    ہر تماشائی کو اک جلوے نے موسیٰ کر دیا

    آنکھ کی پتلی کو اک حیرت کا پتلا کر دیا

    قصر کسریٰ آج کے دن ہو گیا تھا سرنگوں

    مل گیا مٹی میں قیصر کی ضلالت کا جنوں

    ہو گیا باطل بتوں کی شان حشمت کا فسوں

    رک گیا الحاد کی شریان میں دوران خوں

    کفر کو اسلام کے تیروں نے عنقا کر دیا

    عید میلاد محمد جام مے بردوش ہے

    مست ادھر عابد ادھر زاہد بھی عشرت کوش ہے

    آج واعظ بھی ہے میکش شیخ بھی مے نوش ہے

    دیکھیے محفل کی محفل بے پیے مدہوش ہے

    ذکر حضرت نے عجب وہ کیف پیدا کر دیا

    کیا محبت کیا مروت کیا سخاوت کیا عطا

    ہر ادا پیاری ہے ہر انداز ہے راحت فزا

    حسن دل کش کے کرشمے ہیں نہایت دل ربا

    اور چشم کیف زا ہے کس قدر معجز نما

    ہر نظر کو جس نے رشک موج صہبا کر دیا

    چھا گیا ابر کرم اٹھ کر گل و گلزار پر

    حسن نے کی جلوہ ریزی شاخ و برگ و بار پر

    نور کی بارش ہوئی ہر سو در و دیوار پر

    گوہر آ گئیں ابر برسا دامن کہسار پر

    آپ نے صحرا کو اک رحمت کا دریا کر دیا

    آپ کی خاطر بنے تھے یہ زمین و آسماں

    آپ کی ہستی کا شاہد منظر کون و مکاں

    آپ کا دربار اقدس سجدہ گاہ انس و جاں

    سر بہ سجدہ آپ کے قدموں پہ ہیں شاہان جہاں

    آپ نے ذرے کو مہر ادنیٰ کو اعلیٰ کر دیا

    جو حقیقت آشنا ہیں حق سے ہیں جو با خبر

    علم تاریخ مذاہب پر جو رکھتے ہیں نظر

    نکتہ ہائے دانش و حکمت سے ہیں جو بہرہ ور

    جانتے ہیں مانتے ہیں ہو گیا ٹکڑے قمر

    آپ نے جس وقت انگلی سے اشارا کر دیا

    مردے زندہ ہو گئے تھے عیسوی اعجاز سے

    بول اٹھے مٹھی میں پتھر آپ کی آواز سے

    طور پر موسیٰ نہ واقف ہو سکے جس راز سے

    آپ کو خلوت میں بلوا کر عجب انداز سے

    حق نے ہر راز حقیقت آشکارا کر دیا

    باعث تکوین موجودات ہے جس کا وجود

    جس کی ہستی کا طفیلی ہے جہان ہست و بود

    گلشن عالم میں جس کے حسن کی ہے سب نمود

    بھیج اب اے قیسؔ اس پر تو دل و جاں سے درود

    گمرہوں کو جس نے منزل سے شناسا کر دیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے