سرم شوریدۂ روئے محمد
سرم شوریدۂ روئے محمد
دلم آشفتۂ موئے محمد
میرا سر حضرت محمد کا دیوانہ ہے، میرا دل آپ کے زلف میں پرا گندہ ہے۔
بجز نامش نخواندم ہیچ حرفے
فغان من ہمہ ہوئے محمد
آپ کے نام کے سوا میں نے کوئی بات نہیں پڑھی ہے، میری تمام آہ و فغاں آپ کی آواز ہے (ہو سے مراد نعرۂ قلندرانہ ہے، حب الٰہی اور حب رسول میں یہ نعرہ لگاتے ہیں)۔
بود چشم مرا کحل الجواہر
غبارے از سر کوئے محمد
میری آنکھ کا سرمہ آپ کی گلی کا غبار ہے۔
بہ جنگ اے فردؔ من ناصح میندیش
کہ دارد زور بازوئے محمد
جنگ محبت میں اے ناصح میرے فردؔ کی فکر مت کر کیوں کہ وہ آپ کے بازوئے حمایت کی طاقت رکھتا ہے۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 192)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.