فارسی صوفی شاعری
فارسی صوفی شاعری کا عظیم سرمایہ/صوفی نامہ
معروف ہندو عالم و فاضل اور فارسی شاعر تھے، جن کے نعتیہ کلام میں فارسی دانی، شعری ذوق اور بارگاہِ رسالت مآب سے گہری عقیدت نمایاں ہے۔
نویں ہجری صدی کے اواخر اور دسویں صدی ہجری کے آغاز کے نامور فارسی گو شاعروں میں سے ہیں۔
حیدرآباد کے جلیل القدر عالمِ دین، صوفی، مصلحِ معاشرہ اور شاعر تھے، جنہوں نے دینی تعلیم، اصلاحِ امت اور عشقِ رسول کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
کائستھ شاعر، ادیب اور نعت گو تھے، جنہوں نے 1931ء میں باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا، مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی اور نعت گوئی سے خصوصی شغف رکھا۔
خانقاہ مجیبیہ، پھلواری شریف کے سجادہ نشیں اور پہلے امیر شریعت
برصغیر کے ممتاز صوفی، عالم اور شاعر تھے، آپ مارہرہ میں خانقاہ قائم کی اور فارسی و ہندوی میں عشقی اور پیمی تخلص سے شاعری کی، آپ کی معروف تصانیف پیم پرکاش اور دیوانِ عشقی ہیں۔
ہندوستان کے جلیل القدر صوفی بزرگ جو خواجہ نظام الدین اؤلیا کے معاصر تھے، جن کی روحانی جولانگاہ علم، عشق، شاعری اور معرفت سے معمور تھی اور جن کی نظرِ کرم آج بھی دلوں کو سیراب کرتی ہے۔
نظام آباد میں ایک علمی، روحانی اور مؤثر کن شخصیت سے لبریز صوفی
معروف نعت گو شاعر اور ’’بے خود کئے دیتے ہیں انداز حجابانہ‘‘ کے لیے مشہور
ممتاز خواتین شاعرات میں شمار ہوتی تھیں، جو اردو و فارسی میں شعر کہتی تھیں، معروف شاعر بوڑ سنگھ کی اہلیہ تھیں اور نعتیہ شاعری میں محبت و عقیدتِ رسول کا پُرخلوص اظہار کرتی تھیں۔