Font by Mehr Nastaliq Web

فارسی صوفی شاعری

فارسی صوفی شاعری کا عظیم سرمایہ/صوفی نامہ

1817 -1905

سلسلۂ وارثیہ کے بانی، وسیع المشرب صوفی بزرگ اور دیویٰ شریف کے روحانی پیشوا تھے۔

1315 -1390

فارسی کے مقبول ترین شاعر اور اپنے دیوان سے فال نکالنے کے لئے مشہور

کثرت سے نوحہ و سلام کہنے والے

1816 -1886

عظیم آباد کے جلیل القدر عالم، صوفی، شاعر اور شمس العلما تھے جنہوں نے علم، ادب اور تصوف کی بے مثال خدمات انجام دیں۔

1875 -1951

مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور

-1961

حاجی وارث علی شاہ کے مرید اورعرش گیاوی کے شاگرد

1855 -1916

خانقاہ حسنیہ ابوالعلائیہ، شہسرام کے بانی

1817 -1846

جید عالم، زاہد صوفی اور عربی، فارسی و اردو کے قادرالکلام شاعر تھے۔

1454 -1516

اناالحق کا نعرہ بلند کرنے والے

1719 -1783

شاہ برکت اللہ مارہروی کے نبیرہ، خانقاہ برکاتیہ کے سجاہ نشیں، بلند پایہ عالم، طبیب اور "کاشف الاسرار" و "فیض الکلمات" جیسی علمی و تصوف پر مبنی تصانیف ان کی یادگار ہیں۔

1909 -1965

اردو کے ممتاز نعت گو شاعر تھے، ابتدا میں غزل کہتے تھے مگر سفرِ حجاز کے بعد نعت گوئی کو اپنا مستقل میدان بنایا، گیارہ مرتبہ حج کی سعادت حاصل کی، جس کے باعث ’’زائرِ حرم‘‘ کے لقب سے مشہور ہوئے، ان کے نعتیہ مجموعوں میں گلبانگِ حرم، بستانِ حرم اور الاسماء المنظومہ لنبی الرحمۃ نمایاں ہیں۔

1080 -1131/41

مشہورغزل گو شاعر اور فلسفی

بولیے