فارسی صوفی شاعری
فارسی صوفی شاعری کا عظیم سرمایہ/صوفی نامہ
سلسلۂ وارثیہ کے بانی، وسیع المشرب صوفی بزرگ اور دیویٰ شریف کے روحانی پیشوا تھے۔
فارسی کے مقبول ترین شاعر اور اپنے دیوان سے فال نکالنے کے لئے مشہور
عظیم آباد کے جلیل القدر عالم، صوفی، شاعر اور شمس العلما تھے جنہوں نے علم، ادب اور تصوف کی بے مثال خدمات انجام دیں۔
مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور
جید عالم، زاہد صوفی اور عربی، فارسی و اردو کے قادرالکلام شاعر تھے۔
شاہ برکت اللہ مارہروی کے نبیرہ، خانقاہ برکاتیہ کے سجاہ نشیں، بلند پایہ عالم، طبیب اور "کاشف الاسرار" و "فیض الکلمات" جیسی علمی و تصوف پر مبنی تصانیف ان کی یادگار ہیں۔
اردو کے ممتاز نعت گو شاعر تھے، ابتدا میں غزل کہتے تھے مگر سفرِ حجاز کے بعد نعت گوئی کو اپنا مستقل میدان بنایا، گیارہ مرتبہ حج کی سعادت حاصل کی، جس کے باعث ’’زائرِ حرم‘‘ کے لقب سے مشہور ہوئے، ان کے نعتیہ مجموعوں میں گلبانگِ حرم، بستانِ حرم اور الاسماء المنظومہ لنبی الرحمۃ نمایاں ہیں۔