فارسی صوفی شاعری
فارسی صوفی شاعری کا عظیم سرمایہ/صوفی نامہ
گدڑی شاہ ثالث کے نام سے معروف، ممتاز صوفی بزرگ، شاعر، مصنف اور عثمانیہ چلہ، اجمیر کے سجادہ نشیں تھے، تصوف، عرفان اور عشقِ الٰہی پر آپ کی متعدد تصانیف اور گیارہ شعری مجموعے شائع ہوئے جبکہ آپ کی تعلیمات کا بنیادی محور عشق، اخلاص اور احترامِ انسانیت تھا۔
صفی پور کے اردو و فارسی کے صاحبِ طرز شاعر تھے، تصوف سے گہری وابستگی رکھتے تھے اور مخدوم خادم صفی کے مرید تھے، ان کا شعری مجموعہ ’’خیابانِ خلیل‘‘ اردو اور فارسی غزلیات پر مشتمل ہے۔
سلسلۂ چشتیہ کے عظیم بزرگ حضرت نصیرالدین چراغِ دہلی کے خلیفہ اور دکن میں تصوف، علم، رواداری اور انسان دوستی کے مؤثر مبلغ تھے، جن کا مزار کلبرگی میں واقع ہے۔
تیرھویں صدی ہجری کے مقبول زمانہ صوفی اور پیر بیگہہ میں واقع آستانہ چشتی چمن کے روح رواں
معروف صوفی اور اردو، فارسی اور سرائیکی زبان کے صوفی شاعر تھے۔
چودھویں صدی ہجری کے مقبول صوفی شاعر، آپ کی درگاہ بریلی شہر کے نومحلہ میں واقع ہے۔
درگاہ خواجہ خانون، گوالیار کے گدی نشیں اور وہاں کے معروف صوفی شاعر
اردو اور فارسی کے ممتاز نعت گو شاعر تھے، طویل عرصہ جے پور میں تدریسی خدمات انجام دیں، ان کا منتخب کلام ’’موجِ کوثر‘‘ کے نام سے شائع ہوا جبکہ نعتیہ شاعری ان کی نمایاں ادبی شناخت ہے۔