رباعیات
رباعیات رباعی کی جمع ہے، یہ عربی کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی چار کے ہیں۔ شاعرانہ مضمون میں رباعی اس صنف کا نام ہے جس میں چار مصرعوں میں ایک مکمل مضمون ادا کیا جاتا ہے۔ رباعی کے 24 اوزان ہیں، پہلے دوسرے اور چوتھے مصرعے میں قافیہ لانا ضروری ہے۔
خواجہ ضیاؤالدین کے صحبت یافتہ اور شاہ نصیر دہلوی کے شاگرد رشید
سلسلہ نقشبندیہ کے مشہور صوفی ہیں جو اپنے نام خواجہ بیرنگ سے بھی مشہور ہیں اور مجدد الف ثانی کے پیرو مرشد ہیں۔
سلسلۂ چشتیہ کے عظیم بزرگ حضرت نصیرالدین چراغِ دہلی کے خلیفہ اور دکن میں تصوف، علم، رواداری اور انسان دوستی کے مؤثر مبلغ تھے، جن کا مزار کلبرگی میں واقع ہے۔
عظیم آباد کے ممتاز صوفی شاعر اور بارگاہ حضرت عشق کے روح رواں
ہندوستان کے مشہور صوفی جنہیں غریب نواز اور سلطان الہند بھی کہا جاتا ہے۔
صوفی شاعر، میرتقی میر کے ہم عصر ، ہندوستانی موسیقی کے گہرے علم کے لئے مشہور
چودھویں صدی ہجری کے مقبول صوفی شاعر، آپ کی درگاہ بریلی شہر کے نومحلہ میں واقع ہے۔
اردو کے شاعر اور ادبی کارکن تھے، اردو و فارسی کے علمی ماحول میں تربیت پائی اور مولانا شیخ تصدق حسین سے فیض حاصل کیا، انہوں نے آزادی کی تحریک میں حصہ لیا اور ادبی انجمنوں کے قیام کے ذریعے اردو شاعری کے فروغ میں کردار ادا کیا۔
اردو کے ممتاز نعت گو شاعر تھے، ان کے کلام میں عشقِ رسول، سوز و گداز اور سادگیِ بیان نمایاں ہے۔
حضرت علی سجاد بن شاہ نعمت اللہ پھلواروی کے فرزند، صاحبِ علم صوفی شاعر اور اپنی غزل "اگر اس بارگاہِ پاک میں تیرا گزر ہووے" کے لیے مشہور۔
کوثر نیازی سیاست دان، عالم دین، شاعر، ادیب، صحافی، مقرر اور دانشور تھے۔
اردو کے ممتاز شاعر تھے، وکالت کے پیشے سے وابستہ رہے اور نوح ناروی سمیت کئی اہلِ فن سے اصلاحِ سخن لی، ان کا شعری مجموعہ "کیفِ سرمدی" جبکہ "انوارِ حقیقت" اور "انوارِ تصوف" ان کی اہم تصانیف ہیں۔