Font by Mehr Nastaliq Web

رباعیات

رباعیات رباعی کی جمع ہے، یہ عربی کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی چار کے ہیں۔ شاعرانہ مضمون میں رباعی اس صنف کا نام ہے جس میں چار مصرعوں میں ایک مکمل مضمون ادا کیا جاتا ہے۔ رباعی کے 24 اوزان ہیں، پہلے دوسرے اور چوتھے مصرعے میں قافیہ لانا ضروری ہے۔

1126 -1198

ایران کا مشہور فارسی شاعر

1748 -1826

خواجہ ضیاؤالدین کے صحبت یافتہ اور شاہ نصیر دہلوی کے شاگرد رشید

1563 -1603

سلسلہ نقشبندیہ کے مشہور صوفی ہیں جو اپنے نام خواجہ بیرنگ سے بھی مشہور ہیں اور مجدد الف ثانی کے پیرو مرشد ہیں۔

1321 -1422

سلسلۂ چشتیہ کے عظیم بزرگ حضرت نصیرالدین چراغِ دہلی کے خلیفہ اور دکن میں تصوف، علم، رواداری اور انسان دوستی کے مؤثر مبلغ تھے، جن کا مزار کلبرگی میں واقع ہے۔

1715 -1788

عظیم آباد کے ممتاز صوفی شاعر اور بارگاہ حضرت عشق کے روح رواں

1996

خانقاہ ناصریہ، سہارن پور کے چشم و چراغ

1142 -1236

ہندوستان کے مشہور صوفی جنہیں غریب نواز اور سلطان الہند بھی کہا جاتا ہے۔

1721 -1785

صوفی شاعر، ہندوستانی موسیقی کے گہرے علم کے لئے مشہور

1721 -1785

صوفی شاعر، میرتقی میر کے ہم عصر ، ہندوستانی موسیقی کے گہرے علم کے لئے مشہور

چودھویں صدی ہجری کے مقبول صوفی شاعر، آپ کی درگاہ بریلی شہر کے نومحلہ میں واقع ہے۔

1917

اردو کے شاعر اور ادبی کارکن تھے، اردو و فارسی کے علمی ماحول میں تربیت پائی اور مولانا شیخ تصدق حسین سے فیض حاصل کیا، انہوں نے آزادی کی تحریک میں حصہ لیا اور ادبی انجمنوں کے قیام کے ذریعے اردو شاعری کے فروغ میں کردار ادا کیا۔

1905 -1976

’’آپ کو پاتا نہیں جب آپ کو پاتا ہوں میں‘‘ لکھنے والے شاعر

1840

اردو کے ممتاز نعت گو شاعر تھے، ان کے کلام میں عشقِ رسول، سوز و گداز اور سادگیِ بیان نمایاں ہے۔

1851 -1915

حضرت علی سجاد بن شاہ نعمت اللہ پھلواروی کے فرزند، صاحبِ علم صوفی شاعر اور اپنی غزل "اگر اس بارگاہِ پاک میں تیرا گزر ہووے" کے لیے مشہور۔

1934 -1994

کوثر نیازی سیاست دان، عالم دین، شاعر، ادیب، صحافی، مقرر اور دانشور تھے۔

1898 -1983

اردو کے ممتاز شاعر تھے، وکالت کے پیشے سے وابستہ رہے اور نوح ناروی سمیت کئی اہلِ فن سے اصلاحِ سخن لی، ان کا شعری مجموعہ "کیفِ سرمدی" جبکہ "انوارِ حقیقت" اور "انوارِ تصوف" ان کی اہم تصانیف ہیں۔

بولیے