تلاش کا نتیجہ "کم"
Tap the Advanced Search Filter button to refine your searches
کتنے کم ظرف دنیا میں وہ لوگ ہیں اک ذرا غم ملا آنکھ نم ہو گئیغم بھی اللہ کی اک بڑی دین ہے حوصلا چاہیے ضبط غم کے لیے
کم نہیں گلشن میں شبنم گل بدن گل پیرہنغسل کر مل مل کے گر آب رواں ملتا نہیں
اندھیرے لاکھ چھا جائیں اجالا کم نہیں ہوتاچراغ آرزو جل کر کبھی مدھم نہیں ہوتا
مسند کم خواب شاہاں کو کہاں حاصل یہ قدرمنزلت تیرے گداؤں کی جو خاکستر میں ہے
رک گئے آنسو مرے درد جگر کچھ کم ہوااس بت سیمیں بدن کا جب نظارہ ہو گیا
میں نے بخشی ہے تاریکیوں کو ضیا اور خود اک تجلی کا محتاج ہوں،روشنی دینے والی کو بھی کم سے کم اک دیا چاہیئے اپنے گھر کے لیے
نہیں چلتی کوئی تدبیر غم میںیہی کیا کم ہے جو آنسو رواں ہے
سیمابؔ کو شگفتہ نہ دیکھا تمام عمرکم بخت جب ملا ہمیں غم آشنا ملا
میری زباں پہ شکوۂ اہل ستم نہیںمجھ کو جگا دیا یہی احسان کم نہیں
بے فائدہ الم نہیں بے کار غم نہیںتوفیق دے خدا تو یہ نعمت بھی کم نہیں
پیری نے بھرا ہے پھر جوانی کا روپعاشق ہوئے ہم ایک بت کم سن کے
تم ہو شریک غم تو مجھے کوئی غم نہیںدنیا بھی مرے واسطے جنت سے کم نہیں
ہر قدم کے ساتھ منزل لیکن اس کا کیا علاجعشق ہی کم بخت منزل آشنا ہوتا نہیں
ایسے بھی ہیں دنیا میں جنہیں غم نہیں ہوتااک غم ہے ہمارا جو کبھی کم نہیں ہوتا
حشر کے دن امتحاں پیش خدا دونوں کا ہےلطف ہے انکی جفا میری وفا سے کم رہے
تم مرے رونے پے ہنستے ہو خدا ہنستا رکھےیہ بھی کیا کم ہے کہ رو کر تو ہنسا سکتا ہوں، میں
میری زندگی پے نہ مسکرا،مجھے زندگی کا الم نہیںجسے تیرے غم سے ہو واسطہ وہ خزاں بہار سے کم نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
Urdu poetry, urdu shayari, shayari in urdu, poetry in urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books