تلاش کے نتائج
تلاش کا نتیجہ "होश-ओ-ख़िरद"
اشعار کے متعلقہ نتیجہ "होश-ओ-ख़िरद"
شعر
آنا ہے جو بزم جاناں میں پندار خودی کو توڑ کے آاے ہوش و خرد کے دیوانے یاں ہوش و خرد کا کام نہیں
جگر مرادآبادی
شعر
باہوش وہی ہیں دیوانے الفت میں جو ایسا کرتے ہیںہر وقت انہی کے جلووں سے ایمان کا سودا کرتے ہیں
فنا بلند شہری
شعر
کہ خرد کی فتنہ گری وہی لٹے ہوش چھا گئی بے خودیوہ نگاہ مست جہاں اٹھی مرا جام زندگی بھر گیا
فنا بلند شہری
شعر
خرد ہے مجبور عقل حیراں پتہ کہیں ہوش کا نہیں ہےابھی سے عالم ہے بے خودی کا ابھی تو پردہ اٹھا نہیں ہے
افقر موہانی
شعر
نہ وہ ہوش ہے نہ وہ بے خودی نہ خرد رہی نہ جنوں رہایہ تری نظر کی ہیں شوخیاں یہ کمال ہے ترے ناز میں
قیصرؔ شاہ وارثی
شعر
تری طلب تیری آرزو میں نہیں مجھے ہوش زندگی کاجھکا ہوں یوں تیرے آستاں پر کہ مجھ کو احساس سر نہیں ہے
فنا بلند شہری
شعر
اے چاراگر خوش فہم ذرا کچھ عقل کی لے کچھ ہوش کی لےبیمار محبت بھی تجھ سے نادان کہیں اچھا ہوگا