تلاش کا نتیجہ "barq-o-sharar"
Tap the Advanced Search Filter button to refine your searches
مسرتیں بھی ہیں اے برقؔ غم کا آئینہسکون کو بھی تو ہم اضطراب کہتے ہیں
ذرے کو آفتاب کا ہمتا بنا دیاعشق نبی نے قطرے کو دریا بنا دیا
شوخی رنگ گل رخسار اس پر ختم ہےعکس سے لعل یمن ہیرے کا بندا ہو گیا
ہر اک ادا کو تری لا جواب کہتے ہیںستم کو بھی کرم بے حساب کہتے ہیں
برق کا اکثر یہ کہنا یاد آتا ہے مجھےتنکے چنوانے لگی ہم سے جدائی آپ کی
بیٹھ کر روئے جہاں غربت میں دریا ہو گیاچار آنسو جب گرے آنکھوں سے چوکا ہو گیا
ہر ایک جزو ہے آئینہ وسعت کل کاہر ایک حرف کو ہم ایک کتاب کہتے ہیں
تمہارا آئینۂ دل ہے کچھ غبار آلودتم اپنے آئینۂ دل کو تابدار کرو
ہے باریک تار نظر سے زیادہدکھائی نہ دے گی کمر دیکھ لینا
یا تو نے نظر خیرہ کر دی اے برق تجلی یا ہم ہیدیدار میں اپنی آنکھوں کا احسان اٹھانا بھول گئے
وہم ہے شک ہے گماں ہے بال سے باریک ہےاس سے بہتر اور مضمون کمر ملتا نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
Urdu poetry, urdu shayari, shayari in urdu, poetry in urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books