تلاش کا نتیجہ "shokh"
Tap the Advanced Search Filter button to refine your searches
مارا ہے بیاںؔ کو جن نے اے شوخکیا جانیے کون سی ادا تھی
پہن کر جامہ بسنتی جو وہ نکلا گھر سوںدیکھ آنکھوں میں مری پھول گئی ہے سرسوں
موسم ہولی ہے دن آئے ہیں رنگ اور راگ کےہم سے تم کچھ مانگنے آؤ بہانے پھاگ کے
مہیا سب ہے اب اسباب ہولیاٹھو یارو بھرو رنگوں سے جھولی
قاتل وہ شاخ ہے تری یہ تیغ آب دارجس کو نہ گل کا غم ہے نہ حاجت ثمر کی ہے
ہولی کے اب بہانے چھڑکا ہے رنگ کس نےنام خدا تجھ اوپر اس آن عجب سماں ہے
کبھی شاخ سبزہ وبرگ پر کبھی غنچہ وگل وخار پرمیں چمن میں چاہے جہاں رہوں مرا حق ہے فصل بہار پر
اور بھی ان نے بیاںؔ ظلم کچھ افزود کیاکیا اس شوخ سے تیں عشق کا اظہار عبث
معشوق پابوس میں عاشق نے بچھائی آنکھیںفرش گل پر کبھی اس شوخ کو چلنے نہ دیا
کہتا ہے نالہ آہ سے دیکھیں تو کون جلداس شوخ سنگ دل میں کرے تو ہے گھر کہ ہم
ڈوبی جاتی ہے ناؤ ہستی کیموج گریہ کا زور ریلا ہے
مے خانہ میں خودی کو نہیں دخل شیخ جیبے خودی ہوا ہے جن نے پیا ہے وہ جام خاص
لینے والے اپنی آنکھوں سے لگا لیتے ہیں اسےآنکھ کا تارہ ہے صندل حضرت مخدوم کا
بیشک خدا بنے جو ‘فنا’ توڑے عبدیتخودبینیوں کا اپنی جو پایا شکست ہو
کیا غم جو ٹوٹ جایں جگر، جاں، کلیجہ، دلپر تیری چاہ کی نہ تمنا شکست ہو
شوخی رنگ گل رخسار اس پر ختم ہےعکس سے لعل یمن ہیرے کا بندا ہو گیا
ناز گل کا شہید ہے جو فناؔقبر پر گل رخوں کا میلہ ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
Urdu poetry, urdu shayari, shayari in urdu, poetry in urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books