Font by Mehr Nastaliq Web

گناہ پر اشعار

جانتا ہوں میں کہ مجھ سے ہو گیا ہے کچھ گناہ

دل ربا یا بے دلوں سے دل تمہارا پھر گیا

کشن سنگھ عارفؔ

جو مانگنا ہو خدا سے مانگو اسی سے بخشش کی التجا ہو

گناہ ڈھل کر ہو پانی پانی سنبھل کے چلیے قدم قدم پر

سنجر غازیپوری

طفیل آل مہم نجات ہوگی نجیب

سیاہ کار اگر اور گناہگار ہوں، میں

نجیب لکھنوی

شرمندہ ہوں گناہ سے اپنے میں اس قدر

کیا چشم پر گنہ کو تیری دو بدو کریں

عطا حسین فانی

معصومئ جمال کو بھی جن پہ رشک ہے

ایسے بھی کچھ گناہ کئے جا رہا ہوں میں

جگر مرادآبادی

گرداب گناہ میں پھنسے ہیں

دامان دل و نگاہ تر ہے

معین نظامی

یہی خیر ہے کہیں شر نہ ہو کوئی بے گناہ ادھر نہ ہو

وہ چلے ہیں کرتے ہوئے نظر کبھی اس طرف کبھی اس طرف

اکبر وارثی میرٹھی

فرشتے مرے بانٹ لیں کچھ گناہ

کمی ہو گر انباری دوش میں

ریاض خیرآبادی

گناہ کرتا ہے برملا تو کسی سے کرتا نہیں حیا تو

خدا کو کیا منہ دکھائیگا تو ذرا اے بے حیا حیا کر

فقیر محمد گویا

بے پیے بھی صبح محشر ہم کو لغزش ہے بہت

قبر سے کیوں کر اٹھیں بار گناہ کیوں کر اٹھے

ریاض خیرآبادی

کرو رندو گناہ مے پرستی

کہ ساقی ہے عطا پاش و خطا پوش

بیدم شاہ وارثی

دل کو بٹھائے دیتی ہے تکلیف راہ کی

کیوں کر کوئی اٹھائے یہ گٹھری گناہ کی

کوثر خیرآبادی

متعلقہ موضوعات

بولیے