درد دل کر مجھے عطا یا رب
درد دل کر مجھے عطا یا رب
دے مرے درد کی دوا یا رب
لاج رکھ لے گناہ گاروں کی
نام رحمٰن ہے ترا یا رب
عیب میرے نہ کھول محشر میں
نام ستار ہے ترا یا رب
بے سبب بخش دے نہ پوچھ عمل
نام غفار ہے ترا یا رب
زخم گہرا سا تیغ الفت کا
میرے دل کو بھی کر عطا یا رب
بھول کر بھی نہ آئے یاد اپنی
میرے دل سے مجھے بھلا یا رب
خاک کر اپنے آستانے کی
یوں ہمیں خاک میں ملا یا رب
میری آنکھیں مرے لیے ترسیں
مجھ سے ایسا مجھے چھپا یا رب
ٹیس کم ہو نہ دردِ الفت کی
دل تڑپتا رہے مرا یا رب
نہ بھریں زخمِ دل ہرے ہوکر
رہے گلشن ہرا بھرا یا رب
تیری جانب یہ مشتِ خاک اڑے
بھیج ایسی کوئی ہوا یا رب
داغِ الفت کی تازگی نہ گھٹے
باغ دل کا رہے ہرا یا رب
سبقت رحمتی علیٰ غضبی
تو نے جب سے سنا دیا یا رب
آسرا ہم گناہ گاروں کا
اور مضبوط ہو گیا یا رب
ہے انا عند ظن عبدی بی
مرے ہر درد کی دوا یا رب
تونے میرے ذلیل ہاتھوں میں
دامنِ مصطفیٰ دیا یا رب
تو نے دی مجھ کو نعمتِ اسلام
پھر جماعت میں لے لیا یا رب
کر دیا تونے قادری مجھ کو
تیری قدرت کے میں فدا یا رب
دولتیں ایسی نعمتیں اتنی
بے غرض تونے کیں عطا یا رب
دے کے لیتے نہیں کریم کبھی
جو دیا جس کو دے دیا یا رب
تو کریم اور کریم بھی ایسا
کہ نہیں جس کا دوسرا یا رب
ظن نہیں بلکہ ہے یقین مجھے
وہ بھی تیرا دیا ہوا یا رب
ہوگا دنیا میں قبر و محشر میں
مجھ سے اچھا معاملہ یا رب
اس نکمے سے کام لے ایسے
یہ نکما ہو کام کا یا رب
مجھے ایسے عمل کی دے توفیق
کہ ہو راضی تری رضا یا رب
جس نے اپنے لیے برائی کی
ہے یہ نادان وہ بُرا یا رب
ہر بھلے کی بھلائی کا صدقہ
اس برے کو بھی کر بھلا یا رب
میں نے بنتی ہوئی بگاڑی بات
بات بگڑی ہوئی بنا یا رب
میں نے سبحٰن ربی الاعلیٰ
خاک پر رکھ کے سر کہا یا رب
صدقہ اس دی ہوئی بلندی کا
پستیوں سے مجھے بچا یا رب
بونے والے جو بوئیں وہ کاٹیں
یہ ہوا تو میں مر مٹا یا رب
آہ جو بُو چکا ہوں وقت درد
ہوگا حسرت کا سامنا یا رب
صدقہ ماہِ ربیع اول کا
گیہوں اس کھیت سے اگا یا رب
پاک ہے دُرد و درد سے جومی
جام اس کا مجھے پلا یا رب
کرکے گستردہ خوان ادعونی
تونے بندوں کو دی صلا یا رب
آستان پر ترا منگتا
سن کر آیا ہے صدا یا رب
نعمت استجب سے پائی بھیک
ہاتھ پھیلا ہوا مرا یارب
تجھ سے وہ مانگوں میں جو بہتر ہو
مدعی ہو نہ مدعا یا رب
مجھے دونوں جہاں کے غم سے بچا
شاد رکھ شاد دائما یا رب
مجھ پر اور میرے دونوں بھائیوں پر
سایہ ہو تیرے فضل کا یا رب
عیش تینوں گھروں کے تینوں کو
اپنی رحمت سے کر عطا یا رب
میرے فاروق و حامد و حسنین
درد و غم سے رہیں جدا یا رب
لختِ دل مصطفیٰ حسین رضا
ہر جگہ پائیں مرتبہ یا رب
سایہ پنجتن ہو پانچوں پر
دائما ہو تری عطا یا رب
دونوں عالم کی نعمتیں پائے
مرتضیٰ بہر مصطفیٰ یا رب
علم و عمر و عمل فراغ معاش
مجتبیٰ کو بھی کر عطا یا رب
کر دے فضل و نعم سے مالا مال
غم الم سے انھیں بچا یا رب
بال بیکا کبھی نہ ہو ان کا
بول بالا ہو دائما یا رب
میری ماں میری بہنیں بھانجے سب
پائیں آرام دوسرا یا رب
اور بھی جتنے میرے پیارے ہیں
حاجتیں سب کی ہوں روا یا رب
میرے احباب پر بھی فضل رہے
تیرا تیرے حبیب کا یا رب
اہلسنت کی ہر جماعت پر
ہر جگہ ہو تیری عطا یا رب
دشمنوں کے لیے ہدایت کی
تجھ سے کرتا ہوں التجا یا رب
تو حسنؔ کو اٹھا کر کے
ہو مع الخیر خاتمہ یا رب
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.