Font by Mehr Nastaliq Web

درد_دل کر مجھے عطا یا رب

حسن رضا بریلوی

درد_دل کر مجھے عطا یا رب

حسن رضا بریلوی

MORE BYحسن رضا بریلوی

    درد دل کر مجھے عطا یا رب

    دے مرے درد کی دوا یا رب

    لاج رکھ لے گناہ گاروں کی کی

    نام رحمان ہے ترا یا رب

    عیب میرے نہ کھول محشر میں

    نام ستار ہے ترا یا رب

    بے سبب بخش دے نہ پوچھ عمل

    نام غفار ہے ترا یا رب

    زخم گہیرا سا تیغ الفت کا

    میرے دل کو بھی کر عطا یا رب

    بھول کر بھی نہ آئے یاد اپنی

    میرے دل سے مجھے بھلا یا رب

    خاک کر اپنے آستانہ کی

    یوں ہمیں خاک میں ملا یا رب

    میری آنکھیں مرے لیے ترسیں

    مجھ سے ایسا مجھے چھپا یا رب

    ٹیس کم ہو نہ درد الفت کی

    دل تڑپتا رہے مرا یا رب

    نہ بھریں زخم دل ہرے ہو کر

    رہے گلشن ہرا بھرا یا رب

    تیری جانب یہ مشت خاک اڑے

    بھیج ایسی کوئی ہوا یا رب

    داغ الفت کی تازگی نہ گھٹے

    باغ دل کا رہے ہرا یا رب

    سبقت رحمتی علیٰ غضبی

    تو نے جب سے سنا دیا یا رب

    آسرا ہم گناہ گاروں کا

    اور مضبوط ہو گیا یا رب

    ہے انا عند ظن ابدی بی

    مرے ہر درد کی دوا یا رب

    تونے میرے ذلیل ہاتھوں میں

    دامن مصطفیٰ دیا یا رب

    تو نے دی مجھ کو نعمت اسلام

    پھر جماعت میں لے لیا یا رب

    کر دیا تونے قادری مجھ کو

    تیری قدرت کے میں فدا یا رب

    دولتیں ایسی نعمتیں اتنی

    بے غرض تونے کیں عطا یا رب

    دے کے لیتے نہیں کریم کبھی

    جو دیا جس کو دے دیا یا رب

    تو کریم اور کریم بھی ایسا

    کہ نہیں جس کا دوسرا یا رب

    ظن نہیں بلکہ ہے یقین مجھے

    وہ بھی تیرا دیا ہوا یا رب

    ہوگا دنیا میں قبر و محشر میں

    مجھ سے اچھا معاملہ یا رب

    اس نکمے سے کام لے ایسے

    یہ نکما ہو کام کا یا رب

    مجھے ایسے عمل کی دے توفیق

    کہ ہو راضی تری رضا یا رب

    جس نے اپنے لیے برائی کی

    ہے یہ نادان وہ برا یا رب

    ہر بھلے کی بھلائی کا صدقہ

    اس برے کو بھی کر بھلا یا رب

    میں نے بنتی ہوئی بگاڑی بات

    بات بگڑی ہوئی بنا یا رب

    میں نے سبحٰن ربی الاعلیٰ

    خاک پر رکھ کے سر کہا یا رب

    صدقہ اس دی ہوئی بلندی کا

    پستیوں سے مجھے بچا یا رب

    بونے والے جو بوئیں وہ کاٹیں

    یہ ہوا تو میں مر مٹا یا رب

    آہ جو ہو چکا ہوں وقت درد

    ہوگا حسرت کا سامنا یا رب

    صدقہ ماہ ربیع اول کا

    گیہوں اس کھیت سے اگا یا رب

    پاک ہے درد و درد سے جو مے

    جام اس کا مجھے پلایا یا رب

    کر کے گستردہ خوان ادعونی

    تونے بندوں کو دی صلا یا رب

    آستاں پر ترا منگتا

    سن کر آیا ہے یہ صدا یا رب

    نعمت استجب سے پائی بھیک

    ہاتھ پھیلا ہوا مرا یارب

    تجھ سے وہ مانگوں میں جو بہتر ہو

    مدعی ہو نہ مدعا یا رب

    مجھے دونوں جہاں کے غم سے بچا

    شاد رکھ شاد دایماً یا رب

    مجھ پر اور میرے دونوں بھائیوں پر

    سایہ ہو تیرے فضل کا یا رب

    عیش تینوں گھروں کے تینوں کو

    اپنی رحمت سے کر عطا یا رب

    میرے فاروق و حامد و حسنین

    درد و غم سے رہیں جدا یا رب

    لخت دل مصطفیٰ حسین رضا

    ہر جگہ پائیں مرتبہ یا رب

    سایۂ پنجتن ہو پانچوں پر

    دایماً ہو تری عطا یا رب

    دونوں عالم کی نعمتیں پائے

    مرتضیٰ بہر مصطفیٰ یا رب

    علم و عمر و عمل فراغ معاش

    مجتبیٰ کو بھی کر عطا یا رب

    کر دے فضل و نعم سے مالا مال

    غم الم سے انہیں بچا یا رب

    بال بیکا کبھی نہ ہو ان کا

    بول بالا ہو دایماً یا رب

    میری ماں میری بہنیں بھانجے سب

    پائیں آرام دوسرا یا رب

    اور بھی جتنے میرے پیارے ہیں

    حاجتیں سب کی ہوں روا یا رب

    میرے احباب پر بھی فضل رہے

    تیرا تیرے حبیب کا یا رب

    اہل سنت کی ہر جماعت پر

    ہر جگہ ہو تیری عطا یا رب

    دشمنوں کے لیے ہدایت کی

    تجھ سے کرتا ہوں التجا یا رب

    تو حسنؔ کو اٹھا کر کے

    ہو مع الخیر خاتمہ یا رب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے