آقا جو محمد ہے عرب اور عجم کا
آقا جو محمد ہے عرب اور عجم کا
بے مثل نمونہ ہے مروت کا کرم کا
حاصل ہے جنہیں تیرے غلاموں کی غلامی
لیتے نہیں وہ نام کبھی قیصر و جم کا
کہتے ہیں جسے اہلِ جہاں احمد مرسل
دریا ہے وہ الفت کا وہ منبع ہے کرم کا
جلوے سے ترے تیرگیِ دہر ہوئی گم
دنیا کا عجب اختر تقدیر ہے چمکا
جس قوم کی جانب ہے تری چشم عنایت
اس کو نہیں ارماں کوئی دینار و درم کا
فردوسِ نظر ہے ترے مسکن کی زیارت
روضہ ترا دنیا میں بدل باغِ ارم کا
کیا دلؔ سے بیاں ہو تیرے اخلاق کی توصیف
عالم ہوا مداح ترے لطف و کرم کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.