مولانا عبد القدیر حسرتؔ
حضرت مولانا عبدالقدیر صدیقی حسرتؔ ان بزرگانِ ملت میں سے تھے جو صدیوں بعد ہی کسی ملک میں پیدا ہوتے ہیں اور جن کے فیوض و برکات سے عوام و خواص عرصۂ دراز تک مستفید و مستنیر ہوتے رہتے ہیں۔
وہ کوئی پیشہ ور صوفی نہ تھے اور نہ موجودہ عہد کے نام ناد صوفیوں کی طرح کسبِ معیشت و ثروت کی خاطر تصوف و عرفان کی طرف مائل ہوئے تھے، وہ اصل میں ایک جید عالم بلکہ بحرالعلوم اور علومِ دینیات کے استادالاساتذہ تھے لیکن دنیا دار عالموں اور فاضلوں کی طرح اپنے علم و فضل سے حصول دولت و جاہ اور نمود و نمائش کا کام نہیں لیتے تھے، یہی وجہ ہے کہ مخلوق اپنی طرح طرح کی حاجتوں اور تکلیفوں کا مداوا ان سے پاتی تھی اور ان کے فیضان علمی و روحانی سے شاد کام اور بامراد واپس جاتی تھی۔
مولانا سے گذشتہ چالیس سالوں میں مجھے بارہا ملنے اور شرف فیض حاصل کرنے کے مواقع ملے ہیں، ۱۹۳۱ء میں جب میں یورپ سے واپس ہو کر جامعہ عثمانیہ میں اردو کا مددگار پروفیسر مقرر ہوا تو مولانا وہاں شعبۂ دینیات کے پروفیسر تھے اور اساتذہ کی کمیٹیوں اور مرحوم کلیۂ جامعۂ عثمانیہ کے شفیق صدر مولوی محمد عبدالرحمٰن خاں صاحب مدظلہ کے اجلاس پر ان سے تقریباً روز ہی ملاقات ہوتی تھی، ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم مرحوم حسبِ عادت اپنے دلچسپ مزاحیہ انداز میں مختلف موضوعات پر مولانا سے بحث کیا کرتے اور اپنے لطیفوں سے لطف اندوز کیا کرتے تھے، ایک بار میری طرف اشارہ کرکے مولانا کو توجہ دلائی کہ
’’آپ ان سے کچھ نہیں فرماتے، یہ بالکل انگریز بنے پھرتے ہیں اور مذہب و تصوف کو نہیں مانتے
مولانا نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ
’’میاں یہ سید کا بچہ ہے، ادھر ادھر بھٹک کر اپنے راستے پر خود بخود آ جائے گا، اس کے ظاہر کو مت دیکھو‘‘
خلیفہ صاحب نے قہقہہ مارتے ہوئے کہا
’’جب ہی تو ایسی ہیٹ پہن رکھی ہے، جس کے نیچے سبز کپڑے کا استر جھانک رہا ہے‘‘
جب مولانا وظیفہ حسن خدمت پر جامعہ سے علیحدہ ہوئے تو ان کے دولت کدہ کے علاوہ شہر کی مختلف تقریبوں میں بھی ان سے شرفِ نیاز حاصل ہوتا رہا اور قوالی اور صوفیوں کی بعض مضحکہ خیز حرکتوں کے بارے میں ان سے اپنے خیالات ظاہر کرکے شبہات دور کرتا رہا، ایک بار دیکھا کہ مولانا اپنے قدیم مکان واقع محلۂ رکاب گنج کے صحن میں بنوٹ کے کرتب دکھا رہے ہیں اور شہر کے بڑے بڑے پہلوان اور ماہرِ فن دادِ تحسین و آفریں دے رہے ہیں، یہ اس وقت کی بات ہے جب ان کا سن شریف ساٹھ (۶۰) سال سے متجاوز ہوچکا تھا مگر چال کی پھرتی اور داؤ پیچ کی چالاکی سے بالکل نوجوان معلوم ہوتے تھے۔
مولانا میرے کام اور مصروفیتوں کی بڑی قدر و منزلت کرتے اور ظاہر ہے کہ یہ محض خورد نوازی اور ہمت افزائی کے لیے تھا، ان کے علم و فضل کا اعتراف اور تصنیفات و تالیفات کا کام اس وقت شرو ہوچکا تھا، جب کہ میں پیدا بھی نہیں ہوا تھا، چنانچہ میں نے اپنی ایک کتاب داستانِ ادب حیدرآباد میں ان کا ذکر ایک ایسے دور کے ادیبوں میں کیا تھا جس کا کوئی ادیب و شاعر اس وقت زندہ نہیں تھا، اس وقت پہلے پہل مجھے شبہ تھا کہ یہ وہی عبدالقدیر ہیں یا کوئی دوسرے اور جب یقین ہوگیا کہ یہ وہی ہیں تو اردو کے دو پرانے اربابِ قلم شاہ میراں جی شمس العشاق بیجا پوری اور ملا وجہی کی عمر اور تالیفات کے طویل دور کے بارے میں بھی میرا شبہ دور ہوگیا۔
غالباً ۱۹۴۵ء کا واقعہ ہے کہ میرے والد مرحوم حافط سید شاہ ابوالبرکات زعم کے پہلے عرس میں مولانا نے بنفسِ نفیس شرکت فرمائی اور اس وقت نہ معلوم کیا دل میں آیا کہ میرے کم سن لڑکے سید تقی الدین کو دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ
’’ لاؤ اس کی دستار بندی کریں‘‘
مجھے اس بات کا خواب و خیال بھی نہ تھا، میں نے عرض کیا کہ
’’یہ کام تو ایک تقریب چاہتا ہے، جس کی میں نے تیاری نہیں کی ہے، نہ یہ بچہ ابھی اس قابل ہے‘‘
مولانا نے فرمایا
’’آپ تو اب دوسرے کاموں میں مصروف ہیں، خاندانی خدمات اور موروثی روایات کی پابندی آپ سے نہ ہوسکے گی، مسندِ ارشاد خالی نہ رہنی چاہیے‘‘
یہ فرمایا اور اپنی اوڑھنی بچہ کو اڑھائی اور اپنا شملہ اتار کر اس کا ایک سرا اپنے ہاتھ میں بچے کے ہاتھ کے ساتھ تھاما اور باقی شملہ حاضرینِ محفل کے ہاتھوں میں دور دور تک پہنچ گیا تو مولانا تلقین فرمانے لگے، جن لوگوں نے شملہ کو ہاتھ میں رکھ کر بچے کے ساتھ ساتھ تلقین و ارشاد کے الفاظ دھرائے ان میں مولانا سید محمد بادشاہ حسینی، مولانا پیر محمود مجددی، مولانا سید شاہ ولی اللہ حسینی صاحب، حضرت امجد مرحوم، نواب معین نواز جنگ، نواب عزیز نواز جنگ اور حضرت مولانا معین نواز جنگ، نواب عزیز نواز جنگ، اور حضرت مولانا کے خلفا قاضی محمد منیرالدین منیر مرحوم اور حضرت حبیب علی بھی شامل تھے۔
اس واقعہ کو حکیم شفا مجددی مرحوم اور مولوی مراد علی صاحب طالع نے اپی کتابوں میں تفصیل سے لکھا ہے جو چھپ چکی ہیں۔
اس واقعہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک دو سال کے اندر اندر والد مرحوم کی درگاہ و گنبد کے ساتھ ساتھ خانقاہ اور مدرسہ و کتب خانہ کی عمارتیں بھی بن کر تیار ہوگئیں، ہر سال عرس کے موقع پر خود مولانا پابندی کے ساتھ تشریف فرما ہوتے تھے اور بچے کو صدر میں بٹھا کر خود پہلو میں تشریف رکھتے اور جب تک شریک محفل رہتے محفل کا رنگ ہی کچھ اور ہوتا،
ان مواقع پر مولانا مجھ سے ارشاد فرماتے تھے کہ
’’آپ کو کئی لڑکیاں ہیں، ان کی تقریبیں انجام دینی ہیں، میں ہر سال یہاں تعمیری کامیں اضافہ دیکھتا ہوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اپنے فرائض سے غافل ہوں‘‘
ایک سال تو یہاں تک فرمایا کہ
’’اب تعمیر بند، ہر لڑکی کے نام ہر مہینے کچھ رقم الگ جمع کر دیا کرو تاکہ وقت پر کام آئے‘‘
چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور اب سوچتا ہوں کہ اگر مولانا کی نصیحت پر عمل نہ کرتا تو بعد میں کتنا پریشان ہونا پڑتا!، سید تقی الدین کو مولانا نے نہ صرف خلافت سے سرفراز کیا بلکہ سالہا سال تک اس لڑکے کو خود تعلیم و تربیت دیتے تھے، اس سے اندازہ ہوگا کہ مولانا استادالاساتذہ ہونے کے باوجود کم عمر اور کم سواد بچوں کی تعلیم کو اپنے لیے کسر شان یا تضیع اوقات نہیں سمجھتے تھے، ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ مصروف تھا، صبح سے شام تک مختلف مدارج کے اصحاب اور جماعتیں تفسیر، حدیث فقہ اور تصوف کا درس حاصل کرتیں اور خاص خاص اوقات میں محفل سماع بھی منعقد ہوتی رہتی تھی، میں کسی جماعت میں کبھی شریک نہ ہوسکا مگر مختلف اوقات میں جب بھی شرفِ نیاز کے لیے حاضر ہوتا تو بڑی توجہ اور شفقت و محبت سے پیش آتے تھے، سالگرہ کے موقع پر چند سالوں سے میں التزام کے ساتھ شریک رہتا تھا، اس دھوم دھام اور تزک و احتشام کی تقریب شاید ہی بڑے بڑے بادشاہوں کو بھی منافی نصیب ہوئی ہو، مولانا کے جملہ مرید اور معتقد پھولوں کے ہار پیش کرتے اور ان کا ایک انبار ہو جاتا تھا اور مولانا اپنے خاص خاص احباب اور معتقدین کو اپنے دستِ مبارک سے یہ ہار تقسیم فرماتے تھے، یہ اعزاز مجھے اور سید تقی الدین کو بھی بارہا حاصل ہوچکا ہے۔
سید تقی الدین کو مولانا نے نہ صرف خلافت سے سرفراز کیا بلکہ سالہا سال تک اس لڑکے کو خود تعلیم و تربیت دیتے تھے، اس سے اندازہ ہوگا کہ مولانا استادالاساتذہ ہونے کے باوجود کم عمر اور کم سواد بچوں کی تعلیم کو اپنے لیے کسر شان یا تضیع اوقات نہیں سمجھیتے تھے، ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ مصروف تھا، صبح سے شام تک مختلف مدارج کے اصحاب اور جماعتیں تفسیر، حدیث فقہ اور تصوف کا درس حاصل کرتیں اور خاص خاص اوقات میں محفل سماع بھی منعقد ہوتی رہتی تھی، میں کسی جماعت میں کبھی شریک نہ ہوسکا مگر مختلف اوقات میں جب بھی شرف نیاز کے لیے حاضر ہوتا تو بڑی توجہ اور شفقت و محبت سے پیش آتے تھے، سالگرہ کے موقع پر چند سالوں سے میں التزام کے ساتھ شریک رہتا تھا، اس دھوم دھام اور تزک و احتشام کی تقریب شاید ہی بڑے بڑے بادشاہوں کو بھی منانی نصیب ہوئی ہو، مولانا کے جملہ مرید اور معتقد پھولوں کے ہار پیش کرتے اور ان کا ایک انبار ہو جاتا تھا اور مولانا اپنے خاص خاص احباب اور معتقدین کو اپے دست مبارک سے یہ ہار تقسیم فرماتے تھے، یہ اعزاز مجھے اور سید تقی الدین کو بھی بارہا حاصل ہو چکا ہے۔
آخری سالگرہ کے موقع پر بھی میں حسن اتفاق سے حیدرآباد میں موجود تھا اور مولانا کی خدمت میں حاضر ہوا تھا مگر غلط فہمی کی وجہ سے ایک روز قبل چلا گیا، تیاریاں ہو رہی تھیں، مولانا آرام فرما رہے تھے، میں تھوڑی دیر مولانا کے روبرو کھڑا رہا، خادموں نے آوازیں بھی دیں مگر مولانا کو نیند لگ چکی تھی، چہرہ پر علالت اور کمزروری کے کوئی آثار نہ تھے حالاں کہ عرصے سے بیمار اور فریش تھے، افسوس ہے کہ یہ سالگرہ آخری ثابت ہوئی۔
اب حیدرآباد میں ایک خلا پیدا ہوچکا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے علم و فضل، تصوف و عرفان اور اسوۂ حسنہ کی ایسی مستجمع الصفات ہستیاں شاذ و نادر ہی نظر آئیں گی، زمانہ بدلتا جا رہا ہے، زمانے کے تقاضے بدل گئے ہیں، اب ایسے بزرگوں کی یاد ستاتی رہے گی جو زمانہ کے نبض شناس تھے اور جنہوں نے ابنائے زماں کے دکھ درد کو پرکھا، ان کے زخموں پر پھائے رکھے بلکہ درد و غم میحں ان کا ساتھ دیا، سچ تو یہ ہے کہ عہد حاضر میں یہی سب سے بڑی ولایت اور کرامت ہے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.