Font by Mehr Nastaliq Web

تبصرہ : "رباعیاتِ غالب" ایک مطالعہ

ڈاکٹر مظفر بلخی

تبصرہ : "رباعیاتِ غالب" ایک مطالعہ

ڈاکٹر مظفر بلخی

MORE BYڈاکٹر مظفر بلخی

    التفات امجدی شعروسخن کی دنیا کا ایک معتبر، بااثر اور نمائندہ نام ہے، بہت جلد وہ اپنی شاعرانہ خصوصیات اور انفرادیت سے متعارف ہوئے، شاعری افتاد طبع اور فطری ذوق کا حصہ ثابت ہوئی اور ان کی شناخت بن گئی، سربرآوردہ علمی اور ادبی شخصیات کی انہیں پزیرائی ملی اور ساتھ ہی عوامی مقبولیت بھی، ہر حلقۂ ذوق میں شاعری مقبول اور اثر انداز ہوئی، مشاہیر علم و ادب نے اسے زیرِ بحث بنایا، خاطر خواہ کلام کیا اور رموزونکات کو سراہا، حسنِ صوت کے اعلیٰ معیار اور ہم آہنگی سے ان کی شاعری اثر انگیز ہوئی، خانقاہوں میں اہلِ سماع اور صاحبانِ کیف سرمست و بے خود ہوئے، فارسی اور عربی کلام کی تاثیر اردو میں محسوس کی گئی۔

    شاعری ہی نہیں، التفات امجدی کی علمی و ادبی خدمات کا دائرہ وسیع ہے، اس کے بہت سے گوشے ہیں، نثر میں بھی متعدد کتابیں طباعت پزیر ہو چکیں لیکن ان میں شعر و سخن امتیازی اور نمایاں ہے، اب یہ ’’رباعیاتِ غالب‘‘ بھی منظوم اردو ترجمہ کے ساتھ ان کی ادبی نگارشات کا قابلِ ذکر حصہ بن گئی، ایک تو رباعی کا مشکل ترینِ مشقِ سخن اور اس میں غالب کا پروازِ تخیل فارسی کلام میں لیکن التفات امجدی نے بخوبی اسے اردو میں منتقل کیا اور سو سے زائد فارسی رباعیوں کی منظوم ترجمانی کی ہے، یہ ایک اہم پیش کش ہے جو اہلِ علم و ادب کے درمیان گراں قدر نگاہوں سے دیکھی جائے گی، رباعیات گوئی کا فن کوئی آسان نہیں، مشقِ سخن کے اعتبار سے یہ اگر چہ قدیم ترین ہے اور کہنہ مشق استاد شعرا نے اس پر طبع آزمائی کی ہے لیکن دوسرے اصنافِ سخن کے مقابلہ اس کا دائرہ محدود ہی رہا، یہ صنف مروج عام نہ ہوسکی اسی لیے رباعیات میں دواوین و کلیات کی تعداد دوسری اصناف سے کم ہے، کیوں کہ یہاں بحر و وزن میں جدت و اختراع کی گنجائش نہیں ہوتی، یہ اپنی ہیئت، ساخت اور صنعت میں مخصوص اور روایتی ہے، قادرالکلام شعرا نے ہی اسے مشقِ سخن بنایا، ماہرین نے جملہ اصنافِ سخن میں اسے مشکل ترین قرار دیا ہے، بیشتر شعرا کی رباعیات ان کے مجموعی کلام کا صرف ایک حصہ رہیں۔

    اس تناظر میں التفات امجدی کی رباعیات کا ایک اور مجموعہ طباعت پزیر ہے جو ان کی سرکردہ مہمات و مشکلات اور ارتقائی منزل کو متعین کرتا ہے جس میں فارسی، عربی اور اردو کے نمائندہ کلام سے اکتساب، فنی کنہیات کی باریک رسی اور اس پر تضمین گوئی کی منزل شامل ہے پھر ایک کہنۂ مشق شاعر کی طرح رباعیات گوئی کی سرکردہ منزل بھی، رباعیات غالب پہلا مجموعہ نہیں بلکہ یہ تسلسلِ مشق سخن کا ہی ایک حصہ ہے، رباعیات کے تین مجموعے اس سے قبل بھی شائع ہو چکے ہیں۔

    التفات امجدی کی علمی و ادبی خدمات سے میں متعارف تو ضرور تھا لیکن راہ و رسم حالیہ دنوں کی ہی ہے، براہِ راست ملاقات اور گفت وشنید کا موقع نہ آسکا لیکن ان کی تخلیقات سے میں متاثر ہوتا رہا اور اس نے دل و دماغ اور احساسات پر ایسا نقش بنایا جیسے یہ تعلق نہ جانے کب کا اور دیرینہ ہو۔ شروعات ان کی دوکتابوں ’’سروش غیب‘‘ اور ’’روحِ سماع‘‘ کے تعارف سے ہوئی پھر ایک سلسلۂ ملاقات قائم ہوگیا، پہلے تو ان کی علمی و ادبی خدمات ہی پیش نظر تھیں، اب شخصیت بھی اثر انداز ہوتی گئی، شخصیت کی اصل جاذبیت ان کی خاکساری اور کسرِ نفسی میں نظر آئی، بالمشافہ ملاقات سے پہلے گمان بھی ایسا ہی تھا، کیونکہ کہ انہوں نے جن چیدہ اور برگزیدہ ہستیوں سے کسبِ فیض کیا، ان کے کلام پر تظمین و طبع آزمائی کی، موضوعِ سخن بنایا، اس کا تقاضہ یہی ہے اور یہ ان کا ہی نہیں بلکہ خود التفات امجدی کا بھی تعارف ہے جس سے ان کا ذوق، رجحان اور شخصیت روشناس ہوتی ہے، مزید انہیں جو روحانی مرجعِ فیض اور خاندانی نسبت حاصل ہے اس کا تقاضہ بھی یہی ہے، اس پس منظر میں بھی متعدد کتابیں ہیں جو ان کے زیر تصنیف و تالیف منظرِ عام پر آچکیں، ان میں ان کی اپنی آبائی و جدی خانقاہ امجدیہ سیوان سے شائع ہونے والی سلوک و تصوف کی کتابیں بھی شامل ہیں، اپنی علمی اور پیشہ ورانہ مصروفیتوں کے ساتھ اسے بھی جاری رکھا، صرف نظریا مؤخر ہونے نہیں دیا اور شعر گوئی بھی اپنے تسلسل کے ساتھ جاری رہی بلکہ ان کی شعری تخلیقات تو بعض تشنہ گوشوں کی تجسیم و تکمیل ہے، ایسے متداول کلام جو رواجِ زمانہ ہیں جن کے معدودے چند اشعار ہی معروف عام ہوئے، روح سماع میں وہ مکمل ہیں۔ فارسی اور عربی کے نمائندہ کلام اس کتاب میں شامل کئے گئے ہیں، سروش غیب بھی دراصل بہترین کلام کے گہرے ذوق کا مظہر ہے جو تظمین کی صورت میں سامنے آئی، فارسی اور عربی کلام کی اردو میں یہ صورت گری ایک اہم اضافہ ہے جس سے ان زبانوں کی اپنی داخلی صنعت اور مسحور کن کیفیت کی لذت ملتی ہے، یوں تو تظمین کے نشانات کم و بیش اکثر شعرا کے یہاں موجود ہیں لیکن سروش غیب اس کی ایک اعلیٰ اور مدون صورت ہے۔

    اسی کے ساتھ رباعیات گوئی کا بھی سلسلۂ مشق سخن جاری رہا جو ایک دشوار گزار منزل ہے جس کے زیر و زبر طئے کرنا آسان نہیں، اردو فارسی کے کم ہی شعرا نے اس میں طبع آزمائی کی، رباعیات کا فن مضمون بندی اور اثر آفرینی میں مقبول تو ہوا لیکن فنی بندشوں سے مروج عام نہ ہوسکا، رباعی لحن و ترنم سے بھی زیادہ ہم آہنگ نہ ہوسکی اور نظم و نثر کا آمیزہ بن گئی، اگرچہ یہ مشقِ سخن بہت قدیم ہے، تیسری صدی ہجری میں فارسی شاعر رودؔ کی سے اس کی ابتدا ہوئی، عمر خیام کے زمانہ میں ایک دورِ عروج بھی رہا، غزل گوئی کی طرح اسے مقبولیت حاصل ہوئی لیکن رفتہ رفتہ غزل نے اپنی سہل گوئی سے رباعیات کی جگہ لے لی، چارمصرعوں کی دو بحروں میں چوبیس اوزان کی پابندی اور اس میں ایک مربوط خیال دراصل شاعر کی فنی اور فکری صلاحیتوں کا امتحان ثابت ہوا، رباعیات کی یہی فنی مشکلات اسے غزل کی آزاد خیالی اور پراگندہ حالی سے اگر ممتاز کرتی ہے تو دشوار بھی بناتی ہے، اسی لیے رباعیات میں عشقیہ مضامین کم اور صوفیانہ و فلسفیانہ مضامین زیادہ ہیں۔

    غالب کی طبیعت میں یہ دونوں عناصر موجود ہیں، ان کی شاعری میں جہاں کیفیات عشق اور جذبات واحساسات کا فطری اظہار ہے، وہاں مضامین بندی میں بھی وہ بلند خیالی کے اعلیٰ نمونہ ہیں، ان کے کلام کی رنگارنگی کو آل احمد سرور نے جلوۂ صدرنگ کہا ہے، رباعیات گوئی ان کی سرشت و طبیعت کا ہی حصہ ہے، وہ اس طرف مائل بھی ہوئے، ان کے تخیلات کی بلند پردازی بجا طورپر غزل سے زیادہ رباعیات گوئی کی متقاضی تھی اور خود بقول غالب مضامین تو پردۂ غیب سے ان کے خیال میں آیا کرتے ہیں، فکر و فلسفہ کے شاعر علامہ اقبال نے بھی انھیں مشہور فلسفی گوئٹے سے تشبیہہ دی اور شاعر تخیل کہا ہے۔

    تیرے فردوس تخیل سے ہے قدرت کی بہار

    تیری کشتِ فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ وار

    فکری عناصر تو غالب کی غزلیات میں بھی ہیں لیکن منتشر خیالی صورت میں، رباعیات میں یہی نظم کی طرح مربوط، جامع اور فکر انگیز ہوکر سامنے آئے، غالب نے فارسی کو اظہار فکر کے لیے ترجیح دی، وہ اپنے فارسی کلام پر نازاں بھی رہے، رباعیات کے لئے انھیں فارسی ترکیب وصنعت اور الفاظ کی بندش پسند آئی اس لیے کہ فکر کی ترسیل میں الفاظ کا بھی بڑا گہرا ربط ہے، تخیلات جن الفاظ کے وسیلہ سے آئے ہوں، وہی فطری اور موزوں ہیں، فکرانسانی الفاظ کو خود منتخب کرتی ہے، الفاظ کے رد و بدل میں فکر متاثر نہ ہو، یہ قابلِ لحاظ ہے، اسی لیے ترجمانی کی ادائیگی آسان نہیں، مزید کلام بھی منظوم ہو اور اس کی ترجمانی بھی منظوم یہ اور بھی مشکل ہے لیکن التفات امجدی نے اسے اردو میں نہایت شگفتگی اور فنی مہارت سے منتقل کیا ہے، غالب کے خیالات کو اپنی اردو رباعی میں اچھی طرح پرونے کی کوشش کی ہے، جہاں ضرورت محسوس کی وہاں ان الفاظ کو برقرار رکھا ہے جو غالب اپنے خیالات کی ادائیگی میں لائے ہیں، جیسے غالب کی ایک رباعی ہے۔

    امروز کہ روز عید و نو روز بود

    روز فرخندہ و دل افروز بود

    ہر عیش و نشاطے کہ در ایں روز بود

    ہر روز ترا ز بخت فیروز بود

    اسی رباعی کا منظوم اردو ترجمہ جس میں عروضی معیار کو برتنے کے ساتھ غالب کے اپنے الفاظ ایک خاص سلیقہ سے پیش کئے گئے ہیں۔

    ہے آج کا دن عید کا نو روز کا دن

    مسعود و مبارک یہ دل افروز کا دن

    ملتا رہے ہر عیش و نشاط دائم

    ہر دن ہو تجھے قسمتِ فیروز کا دن

    رباعی اپنی تعریف میں محض پند و نصیحت، حکیمانہ درس اور استقرائی نہیں بلکہ حسی، جذباتی اور جمالیاتی کیفیتوں سے بھی عبارت ہے، کیفیتیں بدلتی ہیں، دائمی اور استقرائی نہیں ہوتیں، رباعی بھی بحر و وزن کی شرط کے ساتھ شاعری کے تمام لوازم پورا کرتی ہے، التفات امجدی کے یہاں بھی یہ تقاضے اپنی کیفیتوں کے ساتھ موجود ہیں، الفاظ کی تبدیلی سے فرق واقع نہیں ہوتا، شعر کی ماہیئت و کیفیت برقرار رہتی ہے، صرف اندازِ بیان بدل جاتا ہے، تصرفات لفظی سے کیفیت متاثر نہیں ہوتی، متناسب، موزوں اور بے ساختہ الفاظ کے استعمال پر انہیں اچھی مہارت ہے، جیسے ایک رباعی میں اصل اور ترجمہ کا اندازِ بیان مختلف ہے لیکن کیفیت ایک ہی ہے، اس رباعی میں غالب نے آں خستہ کہہ کر ایک عاشق کی نشان دہی کی ہے، جس کی ایک کیفیت ہے، توالتفات امجدی نے عشق کی اسی کیفیت کو اپنے انداز میں بیان کیا ہے جس میں عاشق مبتلا ہے، عاشق سود وزیاں سے بے خبر، انجام سے بے پرواہ او ر ہمہ وقت معشوق اس کی نظروں میں سمایا ہوا ہے، یہ اپنے پیرایۂ بیان میں عشق کی دائمی اور استقرائی صورت ہے لیکن ساتھ ہی واقعاتی اور حادثاتی کیفیت سے بھی خالی نہیں، جو شاعری کا لازمہ ہے، دونوں رباعیوں سے ایک ہی تاثر ملتا ہے، ایک ہی کیفیت بنتی ہے، یہ اظہارِ بیان کی قدرت ہے جس میں دائمی حقیقت خود ایک کیفیت کے ساتھ ہوتی ہے، غالب کے اندازِ بیان میں یہ ایک رباعی ہے۔

    آں خستہ کہ در نظر بجز یارش نیست

    با سود و زیاں خویشتن کارش نیست

    طالب ز طلب، رہین آثارش نیست

    ہر چند حنا برگ دہد بارش نیست

    یہی رباعی مترجم کے اندازِ بیان میں مختلف ہوکر بھی ہم آہنگی کا احساس دلاتی اور اسی کیفیت کی بازگشت ہے جو غالب کے پیش نظر ہے۔

    محبوب سے ہٹتی نہیں عاشق کی نظر

    ہے نفع و ضرر کی نہیں کچھ اس کو خبر

    طالب کو غرض اپنے ہی مطلوب سے ہے

    ہے برگِ حنا فقط، نہیں اس میں ثمر

    اس طرح تصرف کے باوجود التفات امجدی کے یہاں غالب کے مدعائے خیال کی پوری پوری ادائیگی ہے، صاف، شستہ پیرایۂ بیان میں، کوئی ابہام و اشکال نہیں، رباعی مرصع اردو سانچے میں ڈھلی ہوئی، جب کہ غالب اپنے خیالات میں ادعا و تعلی کے شکار رہے، اپنے خیال سے سمجھوتہ نہیں کیا، تخیل کو باقی رکھنے میں عروضی رعایت بھی مجروح ہو تو کوئی حرج نہیں، جیسا کہ ایک مشہور رباعی پر ماہرینِ عروض کو یہ اعتراض ہے کہ رباعی کا مصرعہ ثانی بے وزن ہے لیکن غالب نے دانستہ اس خطا کو بھی روا رکھا، یہی نزاکتِ خیال غالب کی گزرگاہِ مشکلات میں سے ہے اور التفات امجدی اس سے بھی گزرے ہیں، اس طرح کی رباعیوں میں ایک رباعی ہے جس میں ایک لفظ ’’رک‘‘ زائد ہے لیکن غالب یہاں رک کی تکرار کو ہی پسند کرتے ہیں۔

    دکھ جی کے پسند ہوگیا ہے غالب

    دل رک رک کر بند ہوگیا ہے غالب

    واللہ کہ شب کو نیند آتی ہی نہیں

    سونا سوگند ہوگیا ہے غالب

    ایسی ہی ایک مشکل رباعی اور قطعہ کی مشابہت ہے، ان میں باہمی یکسانیت کی کئی علامتیں ہیں، جیسے قطعہ نگاری میں بھی عموماً وہی چار مصرعے ہیں اور ہر بند میں وہی تسلسل خیال بھی، اقبال جیسے عظیم شاعر نے بھی اپنے ایک قطعہ کورباعی میں شمار کرلیا، جب کہ یہ رباعی کے اوزان سے مختلف ہے، اس کا آخری مصرعہ زبان زد عام ہوا اور مقبول ہوکر کئی فارسی کتابوں کا عنوان بن گیا لیکن اہلِ فن نے اسے قطعہ ہی شمار کیا ہے، صنعت کو سمجھنے اور اس کے تقابل کے لیے بطورِ نمونہ پیش ہے۔

    ہزاراں سال با فطرت نشستم

    بہ او پیوستم و از خود گسستم

    ولیکن سر گزشتم ایں سہ حرفست

    تراشیدم، پرستیدم، شکستم

    شاید ان ہی ترددات سے اکثر شعرا رباعی کی طرف مائل نہیں ہوئے، تنگ دائرہ میں مربوط خیال کو باندھنا آسان نہیں اسی لیے قادرالکلام شعرا سے بھی خطا ہوئی، اس مشکل صنف میں طبع آزمائی التفات امجدی کی فنی وابستگی اور دانستگی کا ثبوت ہے یہ کسی شاعر کا ابتدائی مشقِ سخن نہیں ہوتا، طبع زاد ہونے کے ساتھ شاعر کی ریاضت کا بھی اس میں دخل ہے پھر ماہرینِ فن نے ان کی رباعیات پر جورائے زنی کی اور جن ہم عصر مشاہیر رباعی گو شعرا کی صف میں جگہ دی ہے وہ التفات امجدی کی فنی صلاحیتوں پر مزید حرف سند ہے، امید ہے کہ ان کی دیگر تصانیف کی طرح رباعیات غالب کو بھی وہی مقبولیت حاصل ہوگی، یوں تو اکثر اصناف میں انہوں نے طبع آزمائی کی لیکن صنف رباعی میں ان کا مقام ایک اختصاص کے ساتھ نمایاں ہوا ہے، التفات امجدی کی رباعیات کا یہ مجموعہ علم و ادب کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت ہے جو غالب کی فارسی شاعری اور اس کی بلندیٔ فکر کو اردو میں سمجھنے کا موقع فراہم کرے گا، فکر غالب رباعیات کے سانچے میں ڈھل کر تادیر باقی رہے گی اور اہلِ فکر و نظر کے لیے مفید ہوگی۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے