علم الکتاب میں مباحث تصوف و عرفان ایک خصوصی مطالعہ
دلچسپ معلومات
یہ مقالہ دبیر کے جولائی تا دسمبر 2022 کے شمارے میں شائع ہوا، شمارہ نمبر 3.4 جلد ۹ ISSN:-2394-5567)
اٹھارہویں صدی عسوی کی مایہ ناز تصنیف علم الکتاب خواجہ میر درد کے عرفانی تصورات کاوہ استعارہ ہے جس میں ان کی ذہنی پختگی اور بالغ نظری کی واضح علامات دیکھنے کو ملتی ہیں. یوں تو یہ کتاب کوئی مستقل تصنیف کے ارادہ سے تالیف نہیں دی گئی بلکہ اس کا مقصد ان رباعیات کی شرح تھاجو خود ان کی ہی موزوں طبیعت اور جولانی فکر کی پروردہ تھیں، جنہیں انہوں نے اپنے برادر حقیقی خواجہ میر اثر کے اصرار و تشویق پر شرح و تفسیرکے ساتھ بیان کیا تاہم اس کتاب کو خواجہ ناصر عندلیب کی بھی تائید و تقریظ حاصل ہے.انہوں نے اپنی اس کتاب میں رباعیات کی تشریح و توضیح کے ضمن میں تصوف و عرفان کے وہ دریا بہائے ہیں جنہیں دیکھ کر عقل ششدراور فکر متحیر نظر آتی ہے. عرفان ذات الہی اور معرفت خدا وندی کے ان مباحث کو رباعیات کی شرح کے طور پر بیان کیا ہے کہ وہ شرح سے دورایک مستقل تصنیف کی حیثیت کے طور پرظاہر ہوتی ہے اور رباعیات کا درجہ ان مباحث کے ضمن میں اتفاقی معلوم پڑنے لگتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے گویابیان مطالب کے دوران ان رباعیات کوبطور تمثیل ذکر کیا گیا ہو اور وہ اپنی اس کتاب کو کلید قفل توحید و معرفت قرار دیتے ہیں .میر دردنے اپنے اس مسودہ کو علم الکتاب سے موسوم کیا کیا ہے اور کبھی کبھی وہ اس رسالے کو شرح للواردات اور ذکر للعالمین سے بھی یاد کرتے ہیں. ان کی اس تالیف کا سنہ ۱۱۷۹ ہجری ہے جوکہ علم الکتاب کے عددسے مستخرج ہے نیز انہوں نے اپنی کتاب کے تینوں ناموں کو اس کتاب کا سال تصنیف قرار دیا ہے جو بالترتیب (۱۱۷۹، ۱۱۸۰،۱۱۸۱ ہجری) ہے لیکن درد کی صراحت کے مطابق اصلی نام علم الکتاب ہی ہے جس میں الکتاب کا الف لام جنس و استغراق کا قرار دیا گیا ہے اور فرماتے ہیں کہ اس میں جمیع کتب کا علم مجتمع ہے اور یہ بہت سے مطالب پر حاوی ہے جس سے مراد لوح محفوظ ہے جو کہ در حقیقت ام الکتاب ہے نیزاسے کتاب اللہ اور کتب احادیث کی تفسیر و تاویل قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نالہ عندلیب جو کہ ناصر عندلیب کی تصنیف ہے، بھی اس میں شامل ہے نیز اس بات کے مدعی ہیں کہ یہ کتاب جملہ علوم و معارف کا مغز ہے(درد، خواجہ میر : علم الکتاب،مطبع انصاری، دہلی،۱۳۰۸ ھ ،ص۸) انہوں نے اپنی اس کتاب میں ۱۱۱ رباعیات کی شرح کی ہے ساتھ ہی انہوں نے اس بات کا بھی التزام کیا ہے کہ ہر وارد میں ایک رباعی کے ساتھ ہی ساتھ ایک دوسری رباعی کو بھی شامل کرتے ہیں اور وہ اس عدد پر ختم کرنے کی حکمت کو بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک سو دس عدد لفظ علی کی موافقت میں تحریر فرمائے ہیں اور اس پر ایک عدد کا اضافہ اس لئے کیا گیا ہے کہ کہا جاتا کہ ان اللہ وتر و یحب الوتر(علم الکتاب،ص۹۶). ان کا یہ طریقہ کار رہا ہے کہ وہ ہر وارد کی پیشانی پر ھو الناصر ، بسم اللہ اور عربی زبان میں ایک پر مغز خطبہ کا اضافہ کیا ہے جس میں پورے وارد کو بطور خلاصہ بیان کر تے ہیں. اس ضمن میں ان کا کہنا ہے کہ کوئی اس بات پر اعتراض نہ کرے کہ ھو الناصر کو بسم اللہ پر مقدم کیوں کیا گیا ہے بلکہ وہ فرماتے ہیں کہ الناصر بھی اسماء خدا وندی کے ایک ہزار ایک ناموں میں سے ایک نام ہے اس لئے ایک دوسرے پر تقدم و تاخر کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور یہ لفظ ناصر جناب رسول اللہ کے ننیانوے ناموں میں سے بھی ایک نام ہے اور علی رضی اللہ عنہ بھی اس نام سے موسوم ہیں اور فاطمہ زہراکو بھی ناصرہ کہا جاتا ہے اور یہی نام ان کے والد کا بھی ہے لیکن فرماتے ہیں کہ اس نام کی حقیقی نسبت خدا تعالی کی طرف ہے اس لئے بسم اللہ پر مقدم کرنے سے کوئی اعتراض نہیں آتا. وہ اس بات کی بھی ہدایت کرتے ہیں کہ محررین و کاتبین کو ایسے ہی تحریر کرنا چاہئے ورنہ وہ خسران نعمت و برکات کے مستحق ہونگے۔(علم الکتاب،ص۹۵)
علم الکتاب کا موضوع متصوفانہ عناصرکا بیان ہے جسے میر درد علم الہی سے تعبیر کرتے ہیں اور ان کا یہ دعوی ہیکہ وہ اس کتاب میں انہیں مطالب کو جگہ دیتے ہیں جو شریعت مطہرہ کے عین مطابق ہوں اور جو خرافات و مزخرفات بعد زمانہ کی وجہ سے دین و آئین اسلام میں جگہ پا چکی تھیں ان کو نقد و انتقاد کے ذریعہ بے وقعت گردانتے ہیں اوران پر بحث و مباحثہ نیزجرح و تعدیل کرتے ہوئے ایک نئے زاویہ کے طور پر پیش کرتے ہیں.اس طرح انہوں نے مشکل مسائل اور فلسفیانہ دقائق کو آسان کر دیا ہے بطور خاص تصوف و عرفان کی ان فرسودہ روایات کو جو عوام کے درمیان غلط طریقے سے رائج ہو گئی تھیں اوراس دور میں انہیں تصوف کے ارکان و اساس شمار کیا جانے لگا تھا.درد نے ان کی خوبیوں اور خرابیوں کو ظاہر کر کے ان کی اصل صورت کو آئینے کی مانند صاف کیا ہے نیز عقائد اسلام میں جو فلسفیانہ عناصر شامل ہو گئے تھے ان کی چھان بین کر کے عقائد کے ان نقائص کی نشان دہی کی ہے جوکسی بھی اعتبار سے غیریت و ثانویت کا شائبہ بھی رکھتے ہوں. وہ اثبات مطالب کے دوران مختلف گروہوں و فرقوں کے نظریات و معتقدات کا بھی ذکر کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ ہی اپنی تائید و اختلاف کو بھی بیان کر تے ہیں اور اختلاف کی صورت میں اپنے موقف کو واضح کر دیتے ہیں اور اگر وہ طریقہ محمدیہ میں اس کو کسی اور تعبیر سے متعارف کراتے ہیں تو اس کی بھی توضیح کر دیتے ہیں.غرض کہ ان کی یہ کتاب بہت سے مسائل میں جدت و ندرت کی آپ اپنی مثال ہے، جہاں پر تصوف کی موشگافیاں اور شریعت کی صاف گوئیاں ایک ساتھ مجتمع نظر آتی ہیں . اس کے ساتھ ہی میر درد نے اس بات کا بھی التزام کیا ہے کہ جو لوگ تصوف کو عین اسلام قرار دیکر اس کی جملہ بدعات و اختراعات کو اسلامی روایت سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں ان کو بھی منہ توڑ جواب دیا جا سکے. اس سلسلے میں درد کا خیال یہ ہیکہ اگر تصوف شریعت کے موافق اور شانہ بہ شانہ ہے تواسلام کا جزء ہے اور اگر تصوف اپنے اندرروایات و رسومات، خرافات و مزخرفات کے ساتھ ساتھ اسلام کی بھی حمایت چاہتا ہے تو یہ کسی طور ممکن نہیں بلکہ بعید از قیاس ہے. انہوں نے اپنی کتاب کے موضوع سے متعلق بہت ہی صاف طور پر وضاحت فرما دی ہے تاکہ لوگ اس دھوکے میں نہ رہیں کہ یہ علم الہی آخر کس بلا کا نام ہے اسلئے انہوں نے مزید وضاحت فرماتے ہوئے اس کتاب کے موضوع کی وضاحت اس طرح فرمائی ہے.
این علم الکتاب ہمہ بیان الہی ست کہ فوق جمیع علوم ست و این علم مسمی بعلم الالہی المحمدی گردیدہ لیکن این علم الہی نہ آن علم الہی ست کہ مصطلح حکما ست بلکہ درین مقام وحدت الہیہ با کسوت محمدیہ جمع گردیدہ و قامت فردیت خلعت جامعیت پوشیدہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ۔۔پس امتیاز علم الہی محمدی از علم این حکما بسبب شمول و جامعیتہ اوست زیراکہ آن علم الہی حکما مقید در قید یک قسم مجردات ست و این علم حق محیط ہمہ موجودات۔۔و ہم این علم نہ آن علم اصطلاحی صوفیہ است کہ آن را تصوف می خوانند زیراکہ این زمان آنچہ جاہلان معنی تصوف معروف و مشہور نمودہ اند و ترہات و مہملہ بیمعنی دران افزودہ اند محض الحاد ست،،.(علم الکتاب،ص۶)
تصوف کے سلسلے میں ان کی اپنی رائے کچھ اس طرح ہیکہ تصوف مختلف اصطلاحات و محاورات کے جاننے کا نام ہے ٹھیک اسی طرح جیسے کہ ہم دیگر علوم و فنون کسبیہ مانند نحو و صرف کو کتابوں کے مطالعہ سے حاصل کرتے ہیں . میر درد نے متصوفین کی عام جماعت سے ہٹ کراپنے ایک الگ موقف کا انتخاب و اظہار کیا ہے کیوں کہ درد کے عہد تک اگر ہم بنظر غائر دیکھیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہیکہ متصوفین موٹے طور پردو عالمی و شہرہ آفاق نظریات میں بنٹے ہوئے نظر آتے ہیں.پہلا گروہ طرفداران وحدت الوجود کا ہے جن کے سرخیل شیخ محئی الدین ابن العربی ہیں جسے مختصر الفاظ میں ہمہ اوست سے تعبیر کیا جاتا ہے. جس نے پورے عالم اسلام میں ایک منظم و منضبط تفکیرات کے ذریعہ ، اپنے نظریات کی پرکشش و خیرہ کن روشنی سے اس قدر متاثر کر دیا کہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی کسی کے لئے اس کے خلاف لب کشائی کی گنجائش نہیں چھوڑی . دردنے اس کے نقائص کو بھی بیان کیا ہے اور فرماتے ہیں کہ طرفداران وحدت وجود واجب و ممکن کو ایک دوسرے کا عین شمار کرتے ہیں اور یہ عبد و معبود کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے ہیں اور عینیت و غیریت کو آپس میں ملا دیتے ہیں اور اسی سبب سے یہ شطحیات گوئی میں ملوث ہوکر بے ادبی کے مرتکب ہوتے ہیں باوجودیکہ عبدیت کو رسالت پر کلمہ اشہد ان لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ میں مقدم رکھا گیا ہے.دوسرا گروہ حامیان وحدت شہود کا ہے جس کے پیشرو شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی ہیں. انہوں نے جب اپنی تجدیدی سرگرمیوں کا آغاز کیا تو ان کو ابتدائی ایام میں ہی اس کے نقائص کا اندازہ ہو گیا تھا اس لئے اس کے مقابل ایک دوسرا نظریہ پیش کیا جو وحدت شہود کے نام سے جانا گیا. اور ہمہ اوست کے بجائے ہمہ ازاوست سے تعبیر کیا گیا.اگرچہ مجدد الف ثانی نے وحدت وجود کو یکسر مسترد نہیں کیا بلکہ انہوں نے اس نظریے کو راہ تصوف و عرفان کی ابتدائی منزل قرار دیا . ان کے خیال کے مطابق اگر سالک وحدت وجود کی منزل پر پہونچ کر خود کو عروج کی آخری منزل تصور کرتا ہے تو وہ خسران مراتب کا حقدار ہے وہ اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ وحدت وجود بھی عرفانیات کی منازل میں سے ایک منزل ہے مگر یہ ابتدائی منزل ہے اس راہ کی اور بھی منازل ہیں ان میں سے ایک منزل وحدت شہود کی بھی ہے جو یقینی طور پر وحدت وجود سے اعلی و ارفع ہے اور یہ وحدت الوجود کی منزل کے بعد حاصل ہوتی ہے.خواجہ میر درد کے نزدیک یہ دونوں ہی فلسفہ و نظریات مقصود اسلام نہیں بلکہ کشف و جذب کی حالت زار کا نتیجہ ہیں اور حقیقت حال سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ہے بلکہ جذبہ شوق و مستی اور کشف و مراقبہ کی حالت بے حالی کا نتیجہ ہیں جو فلسفہ و کلام کی مدد سے اسلامی تفیکرات کا حصہ بن گئی ہیں.اسی لئے میر درد خود کو اور طریقہ محمدیہ کے متبعین کوان بے نتیجہ مباحث سے دور رکھا ہے اور ان دونوں نظریات کو تعلیمات اسلام کے منافی تصور کرتے ہیں اور کسی ایک نظریہ سے پابندی کے ساتھ منسلک ہونے کو عیب تصور کرتے ہیں ان کا ماننا ہے کہ عقیدہ وہی صحیح ہے جو قرآن و حدیث کی تعلیمات کے عین مطابق اور موافق ہو.
میر درد چونکہ نقشبندیہ سلسلے سے بھی کہیں نہ کہیں مربوط تھے اس لئے انہوں نے وحدت شہود کی تائید بھی کی ہے مگر یہ توثیق کورانہ تقلید نہیں بلکہ ان کے موقف کے عین موافق اور قرآن و سنت کی موئد ہے اور ان کا مشورہ ہیکہ اہل سلوک کو چاہئے عوام کے مابین ہمہ اوست کے مسائل کے بیان سے احتراز کریں بلکہ اس کی جگہ ہمہ ازوست کے مطالب کو بیان کریں تاکہ ہر خاص و عام استفادہ کر سکیں کیوں کہ وحدت وجود کے مطالب سے اخص الخواص کے علاوہ کوئی بھی صراط مستقیم پر ثابت قدم نہیں رہ سکتا ہے۔میردرد نے وجودی و شہودی متبعین کے لئے چار درجے متعین کئے ہیں اول وہ لوگ ہیں جو توحید وجودی و شہودی کو تو جانتے ہیں اور دل میں ماسوی ذات واحد کے کسی کو اپنا حامی و ناصر نہیں سمجھتے اور بھلے ہی وہ تفصیل سے نہ جانتا ہو اسے اولیاء کی فہرست میں شامل کیا جائیگا لیکن چونکہ وہ اس علم کے رموز و اسرار کو نہیں جانتا اس لئے اسے محققین کے زمرے میں نہیں رکھا ہے.دوسرا وہ ہے جو ان علوم کی آشنائی تو رکھتا ہو مگر دل میں ماسوی ذات واحد بھی شریک کرتا ہو تو وہ محققین و مقلدین کے زمرے میں تو شمار کیا جائے گا مگرولی نہیں ہے.لیکن تیسرا وہ شخص جو شریعت سے سرو کارہی نہ رکھتا ہو اور اوٹ پٹانگ باتیں کرتا ہو وہ ملحد ہے اسے مقلد بھی نہیں کہا جائیگااور چوتھا وہ ہے جو اس علم کی مصطلحات کو بھی جانتا ہو اور اپنے اندر محبت خدا تعالی بھی رکھتا ہو اس کو ولی کامل کہا جائیگا.(ص ۱۸۵)
وہ شطحیات صوفیہ کے حوالے سے بھی بات کرتے ہیں اور انانیت صوفیا اور نفسانیت جہلا کے مابین فرق کو بھی واضح کرتے ہیں . درد کے نزدیک شطحیات کا اہم فیکٹرسکر و مستی ، وجد و تواجدہے اور وہ کہتے ہیں کہ جس وقت صوفی ابتدائی و طفولیت کے مرحلے سے باہر آتا ہے اور سلوک کے درمیانی مراحل میں پہونچتا ہے جو کہ جوانی ، عروج و غلبہ سکر کا وقت ہوتا ہے اس وقت سالک کے قلب پر جو واردات القاء ہوتے ہیں ان کو بیان کرنے لگ جاتا ہے جیساکہ مثل مشہور ہے کہ من عرف اللہ طال لسانہ لیکن جب سالک پختہ خیال اور پختہ مشق ہو جاتا ہے تب جو کچھ بھی اس پر القاء ہوتا ہے اسے اپنے سینے میں دفن رکھتا ہے اور زبان پر نہیں لاتا اور اس کا بیان معتدل ہو جاتا ہے:
چون بکہولت می رسند یعنی شروع معاملات نزول می شود کلام ایشان بحد اعتدال می آید و از شطحیات باز می ماند و چون بہ شیخوخت می رسند و دائرہ عروج و نزول تمام می گردد سکوت اختیار می کند و بی ضرورت سخن نمی گویند کہ من عرف اللہ کل لسانہ.(ص۱۲۷)
خواجہ میر درد نے اس پوری کتاب میں طریقہ محمدیہ کے بہت سے اصول و مبانی بیان کئے ہیں.طریقہ محمدیہ جو کہ نقشبندیہ مجددیہ سے نکلی ہوئی ایک شاخ ہے جس کے موسس خواجہ ناصر عندلیب (۲۵ شعبان ۱۱۰۵ ھ مطابق۱۶۹۱ ء)ہیں. علم الکتاب کے مطابق وہ سات دنوں تک حضرت حسن علیہ السلام کی خدمت سے فیضیاب ہوتے رہے جنہوں نے ان کو ایک مخصوص طریقے کی تعلیم دی اور ان کی برکت و تعلیمات سے ان کا دل بہت سے انوار سے منور ہوا.جب تعلیمات سے فراغت حاصل کی تو ناصر عندلیب نے اس بات کی اجازت چاہی کہ ان دنوں جس طریقے کی تعلیم انہیں دی گئی ہے اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ اس طریقے کا نام طریقہ حسنی رکھیں تاکہ تعلیمی مناسبت بھی حاصل ہو جائے مگر حضرت حسن علیہ السلام نے منع فرما یا کہ ہم سب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار اور ان کی لائی ہوئی شریعت کے خوشہ چین ہیں، ہمارا اوڑھنا بچھونا سب کچھ رسول اللہ کی اطاعت و فرماں برداری پر موقوف ہے اس لئے اگر نام رکھنا ہی ہے تو اسی ذات بابرکت کے نام پر نام رکھو تاکہ نسبت تامہ حاصل ہو جائے.اسی لئے اس طریقہ کا نام طریقہ محمدیہ رکھا گیا.اس کے ساتھ ہی حسن علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا چونکہ رسم دنیا ہے کہ پہلے سالک کسی شیخ کامل اور پیر طریقت کی معیت و صحبت نیز شاگردی مین رہ کر آداب و رسومات تصوف سیکھتا ہے اور مراتب تصوف و عرفان کی آگہی حاصل کرتا ہے اس کے بعد وہ مسند نشینی اختیار کرتا ہے اسلئے تم بھی کسی شیخ کامل اور پیر طریقت کی صحبت اختیار کرو. چنانچہ ناصر عندلیب دہلی کی مشہور و معروف شخصیت سعد اللہ شاہ گلشن کی خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوئے مگر انہوں نے معذرت ظاہر کی اور شیخ عبد الاحد وحدت کی خدمت میں جانے کا مشورہ دیااور کہا کہ میں نے آج تک ان جیسا صوفی با صفا نہیں دیکھااس لئے تمہارے لئے وہ مناسب ہیں اور اگر چاہنا تو گاہ گاہ میرے پاس بھی آتے رہنا .
میر درد نے اپنی اس کتاب میں اسی طریقہ محمدیہ کے متعلق بہت سے طریقے ،خصائص ، اوراد و وظائف بیان کئے ہیں نیز اس طریقے کے بہت سے ایسے اصول و تعلیمات جو دیگر سلاسل سے جداگانہ ہیں. اس کے ساتھ ہی انہوں نے کتاب میں جا بجا اس سلسلے کی برتری و فوقیت، عظمت و رفعت اور اس کی انفرادیت و امتیاز کے ساتھ اس سلسلے کو دیگر تمام سلاسل پر فوقیت دی ہے اور سلسلہ محمدیہ کو دیگر تمام سلسلوں کا متمم و خاتم بتایا ہے جیسے کہ انسان کی خلقت اگرچہ تمام مخلوقات کے بعد ہوئی مگر وہ تمام خلائق سے افضل و برتر ہے نیز جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ تمام انبیاء و رسل سے بعد میں مبعوث ہوئے مگر ختم نبوت و رسالت اور افضلیت کا سہرا آنجناب کے سر پر ہی ہے ٹھیک اسی طرح یہ طریقہ بھی اگرچہ تمام طرق سے بعد میں آیا ہے مگر سب سے افضل و متمم جملہ سلاسل ہے. جابجا اس سلسلہ کے فضائل کتاب میں بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں. ان میں سے چند اس طرح ہیں.
شرک خفی: محمدیوں کے نزدیک کفر طریقت بھی شرک خفی شمار کیا جاتا ہے یعنی شراکت نفسانیت اور مداخلت انانیت اور اس متحدہ ملت میں تفرقہ ڈالنا بھی شرک خفی ہے . محمدئین شطحیات صوفیا کو بھی شرک خفی کے زمرے میں رکھتے ہیں. ہفتاد و دو ملت: میر درد صوفیا کے متعدد طرق کو بھی شرک خفی شمار کرتے ہیں اور ان کے نزدیک حدیث میں جو بہتر فرقوں کے بارے میں آیا ہے اس سے مراد صوفیہ کے مختلف گروہ ہیں.(علم الکتاب، ص ۸۸) احترام جملہ سلاسل: محمدیوں کے نزدیک یہ لازمی ہے کہ سارے سلاسل کو حق پر جانیں اگرچہ بعض کو بعض پر فضیلت حاصل ہے ٹھیک ایسے ہی جیسے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت حاصل ہے.فضیلت طریقہ محمدیہ: میر درد طریقہ محمدیہ کو تمام طرق پر افضلیت دیتے ہیں اور اسے سارے طریقوں کا متمم و خاتم تصور کرتے ہیں.امیرالمحمدئین: میر درد فرماتے ہیں کہ محمدی جس وقت فنائیت کے درجے پر پہونچ جائیں اس وقت ان کو شطحیات سے دور رہنا چاہئے اور خدا تعالی کے رازوں کو افشاء کرنے سے خود کو بچانا چاہئے جو شخص خدا کے رازوں کی حفاظت کر سکتا ہو وہی محمدیوں کی امارت کا مستحق ہے.ذکر محمدئین: محمدیوں کے یہاں بہترین ذکر تلاوت قرآن مجید اور مطالعہ حدیث ہے نیز ان کے نکات کو سمجھنا بھی اس میں شامل ہے.نالہ عندلیب: نالہ عندلیب کا مطالعہ بھی محمدئین کے یہاں اہمیت کا حامل ہے.گناہ و توبہ: محمدی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے اس طریقے سے خارج نہیں ہوتا بلکہ وہ توبہ کرے لیکن مکرم محمدی وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو . نورو ظلمت: محمدیوں کا یہ ماننا ہے کہ خدا کی ذات کے لئے لفظ وجود کا اطلاق نہ قرآن میں کیا گیا ہے نہ حدیث میں اس لئے یہ لوگ وجود کی جگہ لفظ نور کو استعمال کرتے ہیں اور اس سے مراد وجود لیتے ہیں چونکہ دونوں کی تعریف ایک ہی ہے۔(ظاہر بنفسہ و مظہر بغیرہ) اور جیسے ،وجودکے مقابل عدم آتا ہے اسی طرح نور کے مقابلہ میں ظلمت آتا ہے.حقیقت محمدیہ: محمدی حقیقت محمدیہ کو نور اول سے تعبیر کرتے ہیں.اس کے علاوہ بھی بہت سے اصول بیان کئے ہیں مگر یہاں پر بطور نمونہ اسی پر اکتفا کیا جا رہا ہے.
اس کتاب کے مطالب بیان کرنے کے دوران وہ دیگر ارباب فن کا بھی ذکر کرتے ہیں اور مذاہب معروفہ فلسفہ و کلام، منطق و حکمت کے نظریات کو بھی پیش کرتے ہیں اور اس دوران اگر ان کو کہیں پر کچھ کلام ہوتا ہے تو وہ اسے بھی بیان کر دیتے ہیں. مطالب کتاب کو بیان کرنے کے دوران وہ قرآن و حدیث سے استدلال کو ترجیح دیتے ہیں اور تشریح و توضیح کے ساتھ ساتھ اہم نکات کی نشان دہی کر کے اس کی معنی خیزی و معنی آفرینی کا بھی ذکر نہایت ہی خوبصورتی سے کرتے ہیں.دوران کلام اگر مذاہب تصوف پر بات شروع کرتے ہیں تو تمام مشارب تصوف کے احترام کے ساتھ ہی ان کی روش کا بھی بیان کر دیتے ہیں مگر قادریہ سلسلہ سے ان کو بہت انسیت ہے چونکہ ان کا مادری سلسلہ نسب عبد القادر جیلانی سے ملتا ہے اس لئے اس کی تعریف و توصیف بھی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں.لیکن وہ سب پر نقشبندیہ سلسلہ کو فوقیت دیتے ہیں شاید اس کی وجہ ان کی بہاء الدین نقشبند سے جدی نسبت ہو یا پھر ان کے والد کا نقشبندی مجددی سلسلے سے بیعت ہو نے کی وجہ سے کیوں کہ وہ خواجہ نقشبند و مجدد الف ثانی کے اقوال کو اپنی کتاب میں جابجا نقل کرکے ان سے قلبی ارتباط کوظاہر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں. اس تصنیف سے ان کی عربی و فارسی دانی نیز دونوں زبانوں پر قدرت و صلاحیت کا بھی علم ہوتا ہے کیوں کہ انہوں نے اس کتاب میں کوئی ایسا موقع نہیں چھوڑا جہاں اپنی عربی دانی کا ثبوت نہ دیا ہو.استدلال کے وقت وہ سب سے زیادہ قرآن کو ترجیح دیتے ہوئے نظر آتے ہیں پھر حدیث کا سہارہ لیکر وہ اپنے بیان کو آگے بڑھاتے ہیں اور ان سے نئے نئے استنباط کرتے ہوئے تمام مباحث کو تکمیل تک پہونچاتے ہیں. درد کی یہ کتاب واقعی اپنے عہد میں نہ عبارت کی شگفتگی کے اعتبار سے اور نہ ہی معنی کی لطافت کے اعتبار سے اپنا ثانی نہیں رکھتی .علم الکتاب عرفانی مطالب کے بیان سے پر ہے اس کے علاوہ سکرو صحوکا بھی ذکر کیا ہے اور اخلاقیات کے بہت سے موضوعات کی طرف اشارہ کیاہے جو کہ تصوف کے باب میں نکتہ پرکار کی حیثیت رکھتے ہیں اور رویت و تجلی خداوندی کو بھی بیان کیا گیا ہے . فنا و بقا،قبض و بسط،رسالت و ولایت،حقیقت کشف و کرامت،خلوت و جلوت،فوائد تنہائی و فوائد خاموشی وغیرہ کا ذکر بہت ہی تفصیل سے کیا گیا ہے.ان کے بیان میں جدت و ندرت اور گفتگو میں متانت و سنجیدگی ہے اسی لئے انہوں نے اپنی اس کتاب میں نہایت ہی اہم موضوعات پر بحث کی ہے اور ان مشکل و ادق مسائل کو زیر بحث لائے ہیں جن کی طرف خواص علماء بھی بہت مشکل سے رخ کرتے ہیں حالانکہ ان کے مباحث پہلے بھی مورد بحث رہ چکے ہیں مگر انہوں نے ان قدیم موضوعات کو ہی اپنی بحث کا حصہ بنا کر ترقی دینے کی کوشش کی ہے اور اس کتاب میں انہوں نے اپنی ان تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائے ہیں جو ان کے دیگر رسائل میں نظر نہیں آتے.علم الکتاب اٹھارہویں صدی عیسوی میں لکھی گئی عام کتب سے جداگانہ اور اپنی جدت بیان و ندرت مضامین کے سبب تمام معاصر کتب پر فوقیت رکھتی ہے.یہ تصنیف اپنے عہد کی ان تصانیف میں شامل ہے جو تصوف و عرفان کے باب میں نہایت ہی اہم اضافہ تصور کیا جا سکتا ہے کیونکہ اٹھارہویں صدی عیسوی تصوف و عرفان کے لحاظ سے مادیت پرستی کی روز افزوں ابداعات و بدعات کی آمد کا آغاز ہے اور تصوف وعرفان کے عہد شباب کے خاتمے کی ابتداء.اس کتاب کے مطالب و مضامین اسلامی اقدار و روایات کی پاسدار اور غیر اسلامی روایات کی نشان دہی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور یہ کتاب خالص اسلامی معاملات کو ان ملاوٹوں سے پاک کرتی ہے جو مرور زمانہ کی وجہ سے اسلامی روایات کا لباس زیب تن کئے ہوئے نظر آتے ہیں. یہی وجہ ہیکہ کتاب اپنے مطالب کو بیان کرتے وقت باوجود سادگی بیان و سادہ نویسی کی کوشش کے اس روایت کو برقرار رکھنے میں قاصر ہے بلکہ وہ اپنے مطالب کے بیان کرنے میں اس وقت اور بھی قاصر نظر آتی ہے جب وہ عقائد اور فلسفیانہ مضامین کا ذکر کرتے ہیں وہاں پر درد کی سادہ نویسی مغلق،گنجلک،ثقیل و مشکل ہو جاتی ہے اور عربی و فلسفیانہ اصطلاحات کے کثرت استعمال کی وجہ سے بعض مقامات پر اگر معنی کی پاسداری کی جاتی ہے تو عبارت مغلق ہو جاتی ہے اور اگر الفاظ کا خیال رکھا جاتا ہے تومعنی مغلق ہو جاتے ہیں.تاہم اگر عربی کی مداخلت اور صنعت اقتباس کو نظر انداز کر دیا جائے تودرد کی عبارت کو سادہ نویسی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے. ان کی یہ کتاب ان کی کاوشوں کی بین دلیل ہے جس میں ان کی تمامتر صلاحیتیں ابھر کر سامنے آتی ہیں. تصوف کے باب میں یہ کتاب بے نظیر اور جدت و ندرت کے ابواب کو وا کرتی ہے. جہاں نہ روایتی تصوف سے ہمدردی ہے اور نہ ہی اس پر اندھی تقلید کی گنجائش نظر آتی ہے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.