Font by Mehr Nastaliq Web

"نجات الرشید "عہدِ اکبری کی اہم تصنیف

ڈاکٹر سعد ظفر

"نجات الرشید "عہدِ اکبری کی اہم تصنیف

ڈاکٹر سعد ظفر

MORE BYڈاکٹر سعد ظفر

    دلچسپ معلومات

    یہ مقالہ سہ ماہی دبیر (لکھنؤ) کے جولائی تا دسمبر 2019 کے شمارے میں صفحہ 185 پر شائع ہوا۔

    عبدالقادر بن ملوک شاہ بن حامد شاہ، متخلص بہ قادری، ہندوستان میں دسویں صدی ہجری کے معروف و مقبول نثر نگار ہیں، وہ مؤرخ، قلم کار، مترجم، شاعر، موسیقی دان اور بادشاہ اکبر کے پیشِ امام (بروز بدھ) تھے، وہ بدایونی اور ملا بدایونی کے نام سے بھی شہرت رکھتے ہیں، راجستھان کے بساور کے مضافات ٹوڈہ بھیون میں 17 ربیع الاول سنہ 947 ھ مطابق 21 اکتوبر 1540ء میں شیر شاہ سوری کے عہد میں ایک فاروقی گھرانے میں پیدا ہوئے، وہ شیخ پنجو سنبھلی کے شاگر اور شیخ مبارک ناگوری کے تربیت یافتہ تھے، تحصیل علم کے بعد وہ حسین خان کے یہاں نو سال تک مامور خدمت رہے اور 981 ھ میں جلال خان قورچی کے توسط و سفارش سے اکبر کے دربار میں ملازمت اختیار کر لی، وہ خود رقمطراز ہیں کہ

    و در اواخر ذی حجه این سال فقیر بحسب تقدیر که زنجیر پائے تقدیر است از صحبت حسین‌ خان گسسته و از بداون به آگره آمده به وسیله جلال‌ خان قورچی و مرحوم جالینوسی حکیم عین‌الملک شاهنشاهی را ملازمت نمود

    بدایونی نے متعدد مذہبی کتابوں کا سنسکرت سے فارسی زبان میں ترجمہ کیا، انہوں نے سنگھاسن بتیسی (نامہ خرد افزا)، اتھرین (اتھروید)، مہا بھارت اور راماین جیسی کتب کا ترجمہ کیا، اس کے علاوہ بھی انہوں نے کئی ترجمے کیے لیکن ان کی شاہکار تصنیف منتخب التواریخ ہے جسے تاریخ بدایونی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، بدایونی 1004 ھ میں بدایوں میں انتقال کر گئے۔

    ان کی ایک کتاب نجات الرشید بھی ہے، اس کتاب کو بدایونی نے اپنی عمر کے آخری پڑاؤ (منتخب التواریخ سے قبل) میں نظام الدین احمد ہروی کے ایما اور تشویق پر لکھا، یہ کتاب ظاہرا فقہی موضوعات پر مشتمل ہے، اس کے سارے مسائل کو عقلی و نقلی دلائل کے ساتھ ساتھ حکایات و امثلہ سے مزین و مرتب کیا گیا ہے اور جابجا قدیم شعرا کے مناسب اشعار سے عبارت کی پیوندکاری کی گئی ہے، وہ کبھی تصوف و عرفان کے مسائل پر بحث کرتے ہیں تو کبھی اخلاقی مطالب اور انسانی سجایا و طبائع کے بارے میں بات کرتے ہیں۔

    دسویں صدی ہجری کا ہندوستان بہت سے الٹ پھیر سے دوچار ہوا اس لئے کہ اس دور میں ہندوستان تیموریوں کے تسلط میں آگیا تھا اور بابر ان کا سرخیل تھا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا ہمایوں تخت سلطنت پر متمکن ہوا اگرچہ پندرہ سال تک اس کو ہندوستان سے باہر زندگی گزارنا پڑی مگر اس نے قزلباش فوجوں اور صفوی حکمرانوں کی مدد سے دوبارہ اپنے باپ کی گدی حاصل کر لی اس کے بعد اس کا بیٹا اکبر ہندوستان کی گدی پر جلوہ افروز ہوا اور پچاس سال تک حکومت کی بادشاہ اکبر کا عہد ہندوستانیوں کے لیے بہت سی نوید اور بعض مذہبی خرافات لے کر آیا، یہ الگ بات ہے کہ اکبری عہد کو سنہری عہد کہا گیا لیکن یہ بات بھی صحیح ہے کہ مذہبی مسلمانوں اور ہندوں کے لئے یہ دور بہت تلخ بھی تھا، اس دور میں بہت سے گروہ ایسے وجود میں آئے جو جدیدیت کے علمبردار تھے انہوں نے آزاد منشی کو اپنا شیوہ بنایا اکبر خود بھی متعصب علماء کی گرفت سے آزاد ہونا چاہتا تھا اور وہ آزادی کو پسند بھی کرتا تھا اسی سبب سے اس کے ارد گرد تجدد پسند افراد اکٹھا ہوگئے جس کے نتیجے میں عوام الناس کے درمیان ایک قسم کا خلل پیدا ہو گیا، اس دوری و خلل کو دور کرنے کے لئے بہت سی کوششیں کی گئیں اور حالات کو دوبارہ بحال کرنے کے نتیجے میں کئی تحریکیں وجود میں آئیں علما اور اصلاح کنندگان نے فردا فردا بہت کوششیں کیں شیخ عبد الحق محدث دہلوی انہیں علما میں سے تھے جنہوں نے اصلاح معاشرہ کے لیے انتھک کوششیں کیں۔

    جو علما، عوام الناس کے لیے متفکر تھے ان میں سے ایک نام ملا عبدالقادر بدایونی کا بھی تھا وہ اگرچہ اکبر کے امام اور درباری ملازم تھے مگر اصلاح معاشرہ اور ایک نستعلیقی سماج کی تعمیر کے لیے بہت فکر مند تھے زیر بحث رسالہ ان کی انہیں کوششوں میں سے ایک ہے یہ کتاب عبادات کے لئے ابھارتی اور شوق دلاتی ہے اور خرافات سے متنفر و بیزار کرتی ہے، اس لیے اگر ہم اس کتاب کو ان کی دوسری کتاب منتخب التواریخ سے مقایسہ کرتے ہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نجات الرشید ایک قسم کا مقدمہ یا منتخب التواریخ کا ابتدائی نقش ہے اور وہ موضوعات جو کہ نجات الرشید میں خوبصورت جملوں اور سادہ سبک کے ساتھ آئے ہیں وہی ان کی اگلی کتاب یعنی منتخب التوریخ میں تند و تلخ لہجے کی صورت میں وارد ہوئے ہیں اور ان میں طنز و بیزاری شامل ہو گئی ہے۔

    بدایونی نے نجات الرشید میں معاشرے کی خرابیوں اور ان کی اصلاح کی صورتوں کو آشکار کیا ہے، اگرچہ اس کتاب کے موضوع کے سلسلے میں اختلاف ہے، کتاب کے مطالعہ کے بعد ایسا معلوم پڑتا ہے کہ کتاب اپنے معاصر عہد کی خرابیوں اور بدلاو کے بارے میں ہے ، معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب ظاہرا فقہی اور معنوی طور سے صوفیانہ ہو مگر اس کی اصلی روح اصلاح معاشرہ خصوصا اس عہد کے مسلمانوں کی اصلاح ہے جو کہ آج بھی افادہ و استفادہ سے خالی نہیں، محققین نے اس کتاب کے موضوع کے بارے میں مختلف قسم کی آراء کا اظہار کیا ہے اس کتاب کے بارے میں انسائکلوپیڈیا آف اسلام کہتا ہے کہ

    A work on Sufism, ethics and the Mahdawi Movement of Badauni s day”

    یہ بات صاف ہے کہ اس کا موضوع تصوف نہیں ہے لیکن اگر اس کا موضوع اخلاق شمار کیا جائے تو بھی درست نہیں اس لیے کہ خود بدایونی نے اس کتاب کے اخلاقی ہونے کے بارے میں عدم اتفاق ظاہر کیا ہے وہ اسی کتاب میں لکھتے ہیں کہ

    واگر توفیق رفیق باشد مجملی از آن اخلاق در دفترها علاحده بعد ازین مذکور می گردد، ان شاء الله تعالی آنچه درین وقت بالفعل ضروری است بیان گناهانی است ورای اخلاق که بزبان شرع، اسم صغیره و کبیره بران اطلاق می‌ رود

    اس لیے اگر ہم یہ کہیں کہ یہ رسالہ اکبری عہد میں رائج مذہبی انحرافات کے رد عمل میں لکھا گیا اور اس کا موضوع اصلاح معاشرہ ہے، تو زیادہ مناسب معلوم پڑتا ہے اور اس طرح سے ہم سید معین الحق جو کہ اس کتاب کے مرتب و محشی ہیں کی رائے کے زیادہ قریب پہنچ جاتے ہیں وہ اس کتاب کے مقدمے میں اس کے موضوع کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ حقیقت ہے کہ اس کا موضوع تصوف نہیں بلکہ قرآن، حدیث اور فقہ کی روشنی میں شعائر اسلام یا اسلامی اقدار کی تشریح ہے

    نجات الرشید صرف ادبی لحاظ سے ہی اہمیت کی حامل نہیں ہے بلکہ اس میں تاریخی، اصلاحی، فقہی، عرفانی پہلو کے ساتھ ساتھ اور بھی خصائص پائے جاتے ہیں، یہ کتاب دسویں صدی ہجری کے سماجی حالات کو بھی بیان کرتی ہے، اس میں ان مسائل کو جگہ دی گئی ہے جو مصنف کے عہد یا اس سے کچھ سال پہلے وجود میں آئے اور اس موضوع پر جامع ترین کتاب ہے، چونکہ یہ کتاب اپنی انفرادیت و جامعیت کے باوجود ابھی تک محققین کی توجہ کو اپنی طرف جلب نہ کرسکی اور جو کچھ اس کتاب کے بارے میں اطلاعات و معلومات ہیں وہ بہت ہی کم اور مایوس کرنے والی ہیں اور دو یا تین مختصر و ناکافی مقالوں کے سوا کچھ نہیں ہے اس لئے اس کے بارے میں مزید بحث کی ضرورت ہے۔

    بدایونی نے اس کتاب کو لکھنے کی جو وجہ بتائی ہے کافی دلچسپ ہے کیوں کہ اس سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ کس طرح سے لوگ شکوک و شبہات سے بچتے تھے، وہ کہتے ہیں کہ ان کے ایک دوست نظام الدین احمد ہروی (958ھ تا 1003ھ) جو کہ اکبر کے دربار میں ملازم تھے وہ ایک دن ان کے پاس ایک طومار لے کر آئے جس کو انہوں نے خود تیار کیا تھا اور مجھے اس کو پورا کرنے کے لئے مہمیز کیا، فرماتے ہیں کہ

    یکی از اصحاب رفعت و ارباب مکنت لا یزال کاسمه، نظام الدین احمد که صورتش لطف مجسم و حقیر را رسم اخلاص با او مستحکم بود، طوماری داد مشتمل بر ایراد عیوب دل و آفات نفس از قلیل و کثیر و محتوی بر مقدار بعضی از افراد گناهان کبیره و صغیره و فرمود که چون این جرائم و کبائر ذمائم که دانستن آن از عظائم عزائم است، اینجا بر سبیل اجمال است، بتفصیل و دلیل باید که پاره دیگر اضافه ساخته منشاء و ماخذ آنها را درمیان ایجاز مخل اطناب ممل بیان کنی

    ایک دوسری جگہ جو کہ شاید نظام الدین احمد کی وفات کے بعد کا اضافہ ہے فرماتے ہیں کہ

    چوں باعث و بانی این خطاب مستطاب میرزای مرحومی و مغفوری و مبروری بود

    یہاں پر یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ آخر کار نظام الدین نے اس کو خود کیوں نہیں پورا کیا ؟ کیوں بدایونی کو اس کے لئے آمادہ کیا؟ اس سلسلے میں سید معین الحق صاحب نے تین امکانا ت پیش کئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ نظام الدین اکبر کے درباری ملازم تھے اس لئے وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ اکبر کی بے التفاتی کا شکار ہو جائیں یا ملازمت کی وجہ سے ان کو اتنی فرصت نہیں تھی کہ وہ اس کو پورا کر سکیں یا پھر بڑھاپے کے سبب سے ان کی ہمت جواب دے گئی ہو (مقدمہ نجات الرشید) تو یاد رکھنا چاہیے کہ نظام الدین احمدنے 1003 ھ میں وفات پائی ہے اس لئے تیسری توجیہ خارج از بحث ہے اس لئے کہ 45 سال کی عمر ایسی نہیں ہوتی ہے کہ اعضائے بدن مضمحل ہو جائیں، اب دوسری وجہ یعنی عدم فرصتی باقی رہ جاتی ہے اور یہ سبب بھی اہمیت کے قابل نہیں، اس لئے باوجود یکہ نظام الدین اس مدت میں متعدد قسم کی مشغولیات رکھتے تھے مثلا وہ 991 ھ میں گجرات ڈسٹرکٹ میں 998 ھ تک مخالفین کی سرکوبی اور اکبر کی حکومت کو استحکام بخشنے کے لئے بہت ہی نمایاں خدمت انجام دیتے رہے اور پھر 1000 ھ میں اجمیر، گجرات اور مالوہ میں 1002 تک بخشی گری کے عہدے پر مامور و مشغول رہتے ہیں اس لئے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ مہمات و مشغولیات ان کے اس کام میں مخل ہوں، اس لئے کہ بہت سی کتابیں ہیں جو کہ سفر و محاصرہ کی حالت میں لکھی گئی ہیں . خود نجات الرشید کو بدایونی نے سفر کی حالت میں لکھا ہے :

    و چون عجاله اکثر در سفر نوشته شده و کتابها در نظر نه بود

    دوسری جگہ پر انہوں نے مقام مسافرت کا بھی ذکر کیا ہے کہ

    و مقدار آنکه در سن نه صد و نود و نه که در بلده لاهور این عجاله را می نوشتم

    اس لیے صرف پہلی وجہ باقی رہ جاتی ہے وہ یہ کہ نظام الدین نہیں چاہتے تھے کہ شک کی سوئی ان کی طرف گھومے یا کوئی منفی عمل ان کی طرف منسوب ہو اور وہ شاہی عتاب کا شکار ہوجائیں اس لئے بدایونی جوکہ ان دنوں امور سلطنت سے دور اور علاحدہ تھے ان کو ان کی طبیعت کے موافق جان کر یہ کام سپر د کر دیا۔

    بدایونی متعدد صلاحیتوں کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ فن تاریخ گوئی میں بھی مہارت تامہ رکھتے تھے اور انہوں نے بہت سی تاریخیں کہی ہیں جو کہ ان کی کتاب منتخب التواریخ میں بکھری ہوئی ہیں اس لیے انہوں نے اس کتاب کو لکھنے کے بعد بھی ایک تاریخ کہی جس سے اس کتاب کا سن تالیف نکل آتا ہے کہ

    شد این نامه از لطف ایزد پدید

    بسال سعید و بروز حمید

    چو آمد نجات دلم زان بفال

    نجات الرشید است تاریخ سال

    اس سے اس کتاب کا سن تالیف 999ھ حاصل ہوتا ہے، دوسری جگہ انہوں نے اس کتاب کی سنہ تکمیل اور مقام دونوں ذکر کیا ہے کہ

    و مقدار آنکه در سن نه صد و نود و نه که در بلده لاهور این عجاله را می‌ نوشتم

    نجات الرشید سید معین الحق کی ترتیب و حواشی کے ساتھ ادارہ تحقیقات پاکستان، پنجاب یونیورسٹی لاہور سے نومبر 1972ء میں اشاعت پزیر ہوئی تھی، یہ کتاب 530 صفحات پر مشتمل ہے جس میں سات سو سے زیادہ فارسی اور عربی کے اشعار کا ذخیرہ موجود ہے جن میں سے 50 عربی اشعار اور 50 فارسی کے اشعار ملا عبدالقادر بدایونی کے شامل ہیں جس سے بدایونی کی شعری صلاحیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے، پوری کتاب سات فصل پر منقسم ہے اور ہر فصل کے ضمن میں چالیس مسائل پر گفتگو کی گئی ہے، پہلی فصل توبہ کے مسائل پر ہے، دوسری کفر صریح کے اقسام پر مبنی ہے، تیسری بدنی افعال و عبادات کے بیان میں ہے، چوتھی فصل بغیر کسی عنوان کے ہے اور اس فصل میں شاید مصنف نے کئی مسائل کو نہیں لکھا ہے اور وہ چالیس کی عدد کو نہیں پہنچتے ہیں اور پڑھنے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہیکہ جلدی میں لکھا گیا ہو، پانچویں فصل منافی مروت اور خلاف ادب کے بارے میں ہے، چھٹی محرمات اور منہیات دیگر کے عنوان سے بیان کی گئی ہے، ساتویں فصل منہیات متفرق کے عنوان سے ہے، یقینی طور پر یہ کتاب اکبری عہد کو سمجھنے کے لئے ایک بہت بڑا گنجینہ ہے، اگر منتخب التواریخ اور نجات الرشید کا آپس میں مقایسہ کیا جائے تو دونوں کے تار و پود ایک معلوم پڑتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد سے ان کا تجزیاتی مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔

    بدایونی نے اپنی اس کتاب میں جو روش اختیار کی ہے وہ معاصر سبک سے بالکل الگ ہے کیوں کہ اس عہد میں عموما منشیانہ اور تصنع آمیز طرز تحریر رائج تھی مگر بدایونی نے بالکل سادہ و سلیس نثر میں اس کتاب کو لکھا، یہ کتاب سادہ تر روش اور معقول ترشیوہ رکھتی ہے اور مترادف و متضاد الفاظ کی مقدمہ چینی سے پاک اور سادہ و رواں جملوں سے مزین اور آسان مطالب و صنعت گری بیان و معانی سے عاری ہے، مصنف نے اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ واقعہ نگاری کے وقت کبھی کبھی مترادف جملات کا بھی استعمال کیا ہے یا کوئی ضرب المثل یا بزرگوں کی زندگی سے کوئی واقعہ یا قدیم شعرا میں سے کوئی فارسی یا عربی کا شعر اپنے مطالب کو بیان کرنے کے دوران بڑھایا ہے جس سے پڑھنے والے کو تھکان محسوس نہیں ہوتی اور کبھی کبھی بدایونی اپنے کلام کے اثبات کے لئے دوران کلام کوئی ایسی حکایت جوکہ ان کے زمانے میں ہوئی ہو کو بھی بیان کرتے ہیں کہ

    در سن نه صد و هفت صد و شش در آگره جوانی پاکیزه منظری از اعیان سادات بلاد گرم سیر که در کالپی از هند توطن داشت سید موسی نام– بر هندو زنی زرگری مقبول بدیع الجمال عاشق شد و مدتهای دراز در بوته ی عشق او می سوخت و می گداخت ...... و چند مرتبه قصد بر آوردن او کرد، الاخ

    بدایونی نہ صرف فارسی زبان سے بخوبی آشنا تھے بلکہ زبان تازی پر بھی قدرت تامہ رکھتے تھے اگرچہ ایک مدت تک ترجمے کی مشغولیات کی وجہ سے ان کی رغبت فارسی سے زیادہ ہو گئی تھی لیکن اس مشغولیت کے باوجود بھی ان کی وہ کتابیں جن کو انہوں نے اپنی مرضی اور طبیعت سے لکھا ہے سب دینیات سے وابستہ ہیں وہ ہمیشہ دینیات اور تصوف کی طرف مائل رہے اسی وجہ سے اکبر چاہتا تھا کہ ان کو اجمیر میں معین الدین چشتی علیہ الرحمہ کے مرقد اقدس کا مجاور بنا دے لیکن ابو الفضل کی مداخلت کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا بدایونی نے اس بارے میں منتخب التواریخ میں بات کی ہے، وہ عربی زبان کے عالم تھے اور عربی زبان کے ادبی اشارات سے بخوبی آشنا تھے اسی لئے وہ عربی شعرا کے کلام سے بھی اپنے مطالب کو بیان کرنے کے لئے مدد لیتے ہیں، ایک جگہ وہ حشر و نشر کے بارے میں بات کرتے کرتے ابو العلاء المعری (363/449 ھ) کا شعر اس طرح سے چسپ کر دیتے ہیں کہ ان کا موقف واضح ہو جاتا ہے اور سارے اختلافات بھی رفع ہو جاتے ہیں، اگرچہ یہ شعر دیوان میں کچھ الفاظ کے پھیر بدل کے ساتھ درج ہے، دیکھیے

    قال المنجم والحكيم كلاهما

    لن يحشر الاجساد قلت اليكما

    ان صح قولكما فلست بخاسر

    ان صح قولي فالخسار عليكما

    ترجمہ : منجم و حکما یہ کہتے ہیں کہ بدن محشور نہیں ہوگا، اگر ان کا قول صحیح ہے تو میں خسارے میں نہیں ہوں اور اگر یہ بات درست ہے تو تم دونوں کو نقصان ہے۔

    دوسری جگہ وہ یہ شعر بھی نقل کرتے ہیں جو اختلاف قرات کے ساتھ بھی وارد ہوا ہے کہ

    اذا کانت الغراب دلیل قوم

    سیهدیهم سبیل الها لکینا

    ترجمہ : جب کوا کسی قوم کا رہنما بن جائے تو وہ صرف ہلاکت کی طرف ہی رہنمائی کرے گا۔

    بدایونی نے اپنے اشعار کو بھی اس کتاب میں جگہ دی ہے کہ

    شاه عربی که شد جهان مظهر او سوگند سرش خورد جهان داور او خود سایه حق بود ازان سایه ندارد تا پا نه نهد کسی بجای سر او۔

    وہ کبھی ہندوستانی رسوم کے ذریعہ سے عشق خدا وندی کا درس دیتا ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ عشق کو سمجھو تو ہندوں کی عورتوں کو دیکھو جو شوہر کی وفات کے بعد شوہر کے ساتھ آگ میں جل جاتی ہیں اس لئے کہ محبوب کے بغیر عشق کوئی معنی نہیں رکھتا اور عشق کا نقطہ عروج وصل ہے جو اس دنیائے مادی میں میسر نہیں، اس اقتباس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ بدایونی متصوفانہ فکر و نظر کے حامی رہے ہیں کہ

    اما آنچه دیده آن است که بعد از مردن شوهر چهل چهل و پنجاه پنجاه و بیش از زنان نگاهی سرمتی(؟) و زر و زیور پوشیده با نعش شوهر مرده بازی کنان و سخن گویان بشوق تمام سوخته اند و پروانه وار در وفای او و خود را بباد فنا در داده و در بعضی دیار مردان نیز که خدمتی متعین نزدیکی داشته اند از روی وصلات همراه صاحب خود در آتش افتاده اند و عجب از مردانگی ما سست نهادان که مقدار زنان هم در وادی محبت نشدیم و نسبت صدق عشق با محبوب حقیقی درست نه کرده ایم و اگر غیرتی داشتیم همین تازیانه بس بود اما کاهل تنان را ازینها چه باک، در طریق عشق نتوان شد کم از هندو زنی از برای مرده سوزد زنده جان خویش را

    اس مختصر مقالے میں طول کے سبب سے اس کتاب کے بارے میں بہت ہی مختصر اطلاعات فراہم کی گئی ہیں گویا کہ یہ ایک نجات الرشید کا مختصر تعارف ہے، یہ کتاب ایک ایسا معجون ہے جس کا قوام فقہ، تصوف، اخلاق و اصلاح کی آمیزش سے تیار کیا گیا ہے، کتاب نقد و بررسی کا تقاضا کرتی ہے اس لئے کہ اس کی بہت سی جگہوں پر اشعار، الفاظ و بیت کی تبدیلی کے ساتھ درج کئے گئے ہیں، اگر اس کتاب کا نظر عمیق سے مطالعہ کیا جائے تو یہ کتاب عہد اکبری کی تہذیب و ثقافت کی جابجا نشان دہی کرتی ہوئی نظر آتی ہے جوکہ افادہ و استفادہ سے خالی نہیں اس لئے کہ بنیادی طور پر یہ کتاب ان مسائل پر گفتگو کرتی ہوئی نظر آتی ہے جو اس دور میں عوام الناس کے درمیان غلط طریقے سے رائج ہو گئے تھے۔

    منابع و ماخذ :

    • آزاد : مولانا محمد حسین، دربار اکبری، مطبع ایچ ایس آفسیٹ پریس چاندنی محل نئی دهلی 2- 2012.

    • بدایونی : عبدالقادر، منتخب التواریخ. منشی نول کشور 1867.

    • بدایونی : عبدالقادر، نجات الرشید ، به ترتیب و حواشی سید معین الحق، اداره تحقیقات پاکستان،پنجاب یونیورسٹی ، مطبوعه ظفر سنز پرنٹرز، 9- کوپر روڈ، لاهور، نومبر 1972.

    • بدایونی: عبد القادر، منتخب التواریخ ،جلد اول، دوم و سوم،تصحیح مولوی احمد علی صاحب چاپ تهران .

    • الديوان ابي العلا’ المعري https://www.aldiwan.net

    • عبد الرحمن : سید صباح الدین، بزم تیموریه، دارالمصنفین شبلی اکیدمی اعظم گره 1995.

    • E.G.Brill.FIRST ENCYCLOPEDIA OF ISLAM 1913-36 volume 2 London New York 1987

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے