’’گلشنِ راز‘‘ قدیم اور ’’گلشنِ راز‘‘ جدید
دلچسپ معلومات
ماہنامہ نقوش، لاہور، شمارہ نمبر 121، صفحہ نمبر 315۔
یہ دونوں مثنویاں دو جلیل القدر اور مشہور مصنفوں کی ہیں جو شاعر اور دانشور بھی ہیں اور دانائے راز بھی، یہ چند سوالوں کا جواب ہیں جو ایک سوال کرنے والے کو دیے گئے ہیں، ان دونوں کے زمانے میں تقریباً سات سو سال کا فرق ہے، ان سوالوں کے جو جواب دیے گئے ہیں، ان میں کسی خاص فرق کے تلاش کی ضرورت نہیں کیونکہ آخری مصنف نے خود اعتراف کر لیا ہے کہ فرق صرف انداز بیان کا ہے۔
مصرع : بہ طرز دیگر از مقصود سفتم
گلشنِ را ز تقدیم حضرت علامہ نجم الدین محمود شبستری کی تصنیف ہے، پروفیسر براؤن نے محمود شبستری کو سنائیؔ، عطاؔ، رومیؔ اور جامیؔ کی صحت میں شمار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران میں صوفی شاعر بہت ہوئے ہیں اور اب بھی ہیں مگر جس پائے کے شاعر محمودؔ شبستری، رومیؔ اور عطارؔ تھے ایسے نہ ان سے پہلے ہوئے اور نہ ان کے بعد
اس مثنوی کی وجہ تصنیف خود مصنف نے اس طرح بیان کی ہے۔
’’خراسان کے ایک بزرگ نے جو وہاں کے بہترین اور سر بر آوردہ مشائخ میں سے تھے ایک قاصد کو چند سوال دے کر بھیجا، یہ سوالات نظم میں تھے وہ سوال قاصد نے تبریز کی ایک مجلس میں پیش کیے جہاں شہر کے تمام بزرگ اور اکابر موجود تھے، سب نے بالاتفاق مجھ سے جواب دینے کے لیے کہا، ان بزرگوں میں ایک ایسے بھی تھے جو ان معارف کو بارہا میری زبان سے سن چکے تھے، انہوں نے فرمایا کہ ان سوالوں کا جواب فی البدیہہ دیا جائے میں نے معذرت میں کہا کہ ان مسائل کو میں اپنے رسائل میں بیان کرچکا ہوں، انہوں نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ جس طرح یہ سوال نظم میں ہیں اسی کے مطابق جواب بھی نظم میں ہی ہونا چاہیں، چنانچہ میں نے بغیر فکر کیے ان جوابات کو نظم میں بیان کرنا شروع کر دیا، نثر میں ان مسائل پر بہت سی کتابیں میں کم نظم میں یہ مسائل اس سے پہلے بیان نہیں کیے گئے تھے، یہ بات میں فخریہ نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ معذرت اور بطور خدا کے شکر کے کہہ رہا ہوں، عروض و قافیہ اور الفاظ میں معنی نہیں سماتے ہیں اور سمندر کو کوزے میں بند نہیں کیا جاسکتا ویسے مجھے شاعری سے بھی عار نہیں ہے۔
کیونکہ سو قرنوں میں بھی ایک عطارؔ پیدا نہیں ہوتا ہے۔
مرا زیں شاعری خود عار ناید
کہ در صد قرن یک عطارؔ ناید
لیکن میں نے جو کچھ کہا ہے وہ کسی سے ماخوذ نہیں ہے تاہم میں نے جو کچھ کہا ہے اس کے لیے یہ دعویٰ بھی نہیں ہے کہ کسی اور نے نہیں کہا ہوگا ہوسکتا ہے کہ بہ سبیل اتفاق توارد ہوگیا ہو مگر یہ باتیں کسی سے سنی ہوئی نہیں ہیں بلکہ میرے مشاہدات ہیں‘‘
یہ تمہید خود حضرت محمودؔ شبستری کی ہے، اس پر شارح گلشنِ راز حضرت محمد بن یحییٰ بن علی الجیلانی النورنجشی نے یہ صراحت کی ہے کہ جن بزرگ نے خراسان سے یہ سوالات دریافت کیے تھے وہ امیر سید حسینی شیخ الاسلام بہاؤالدین زکریا ملتانی کے خلیفہ تھے شیخ بہاؤالدین زکریا ملتانی شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی مصنف عوارف المعارف کے خلیفہ ہیں، شرح گلشنِ راز ۸۷۷ ھ مطابق ۱۴۷۲ء کی تصنیف ہے یعنی اصل تصنیف سے ایک سو ساٹھ سال بعد کی محمد بن علی الجیلانی کا سلسلۂ ارادت اس طرح مشہور بزرگ حضرت شیخ علاؤالدولہ سمنانی تک پہنچتا ہے، محمد بن علی الجیلانی حضرت سید محمد نور بخش کے مرید ہیں اور وہ حضرت خواجہ اسحاق ختلافی کے مرید ہیں اور وہ حضرت سید علی ہمدانی کے مرید ہیں وہ حضرت شیخ محمود مزدقانی کے مریدہیں اور وہ حضرت شیخ علاؤالدولہ سمنانی رحمتہ اللہ علیہم کے مرید ہیں حضرت سمنانی کا سلسلہ بارہ واسطوں سے حضرت جنید بغدادی سے ملتا ہے اور حضرت جنید بغدادی دو واسطوں سے حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے بیعت ہیں۔
شارح گلشنِ راز نے یہ بھی لکھا ہے کہ جن بزرگ کے فرمانے سے محمود شبستری نے سوالات کا منظوم جواب دیا وہ حضرت شیخ امین الدین تھے جو محمود شبستری کے پیر تھے، یہاں یہ معلوم کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ گلشن راز کے شارح محمدبن علی الجیلانی خود بھی حضرت محمود شبستری کی طرح وحدۃ الوجود کے شدت سے مالی ہیں اور سلسلے کے اعتبار سے حضرت شیخ علاؤالدولہ سمنانی سے منسلک ہیں، شیخ علاؤالدولہ وحدۃ الوجود کے مخالف سمجھے جاتے ہیں، شیخ عبدالرزاق کاشی سے اس مسئلے میں ان کا اختلاف رہا ہے، مولانا جامی علیہ الرحمۃ نے نفحات الانس میں دونوں بزرگوں کے مکتوب نقل کیے ہیں، یہ بات توجہ طلب ہے کہ صوفیوں میں کوئی مرید اصول میں اپنے مرشد سے مخالفت نہیں کرسکتا نہ کہ مسئلہ توحید میں جو اصلِ اصول ہے، اس صورت میں محمدبن علی الجیلانی اپنے شیخ سلسلہ شیخ علاؤالدور سمنانی کے خلاف وحدۃ الوجود کی موافقت نہیں کر سکتے تھے اس صورت حال میں حضرت مولانا جامیؔ نے شیخ عبدالرزاق کاشی اور امیر اقبال سیستانی کی جو گفتگو نقل کی ہے وہ اس اختلاف کا بہترین حل ہے، امیر اقبال سیستانی شیخ علاؤالدولہ سمنانی کے مرید ہیں، مولانا جامیؔ نے لکھا ہے۔
امیر اقبال سیستانی کا سلطانیہ کے راستے میں شیخ عبدالرزاق کاشی کا ساتھ ہوگیا، شیخ نے اس مسئلے میں امیر اقبال کا غلو دیکھا تو پوچھا کہ تمہارے شیخ ( علاؤالدولہ سمنانی) کا شیخ محی الدین ابن عربی کے بارے میں کیا اعتقاد ہے، امیر اقبال نے کہا وہ ابن عربی کو عظیم الشان انسان مانتے ہیں اور محارف کا امام سمجھتے ہیں لیکن ابن عربی کے اس قول کو کہ حق تعالیٰ وجودِ مطلق ہے غلط سمجھتے ہیں اور اسے پسند نہیں کرتے؟ (نفحات الانس از جامیؔ)
بعض صوفیوں نے ابن عربی کی اس اصطلاح کو پسند نہیں کیا کیونکہ وجود مطلق کی اصطلاح خالص فلسفیانہ ہے قدیم تصوف میں یہ اصطلاح نظر نہیں آتی لیکن اصل مسئلہ یعنی لا موجود الا اللہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے تعبیر اور انداز بیان کا اختلاف ضرور ہے، جن دانشوروں نے بھی اس بات پر غور کیا ہے کہ ہم اور یہ محسوس ہونے والا عالم کیا ہے؟ انہوں نے اس سوال کے مختلف جواب دیے ہیں یہاں تفصیل کا موقع نہیں ہے صرف اسلامی صوفیوں اور نظریہ مایا کے حامیوں کا مسلک بیان کرنا ہے، یہ مکاتب فکر اس پر متفق ہیں کہ حقیقی وجود ایک ہے اور وہ برہمایا خدا ہے لیکن خود ہم اور یہ عالم کیا ہے؟ اس سوال کے جواب مختلف ہیں جو اصحاب اس فرق پر غور نہیں کرتے اور اس نظریۂ مایا صرف نصف حصے پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں وہ کئی طرح کی غلط فہمیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں مثلاً یہ کہ وحدت الوجود و حقیقی خدا کا ہے لیکن سری شنکر کے نزدیک یہ دکھائی دینے والا عالم دھوکا ہے یہ عالم جہالت سے بنا ہے اور اس کے فنا ہونے سے ہی پر نجات اور عرفان کا دار مدار ہے۔
اسلامی صوفی خصوصاً شیخ اکبر محی الدین ابن عربی اور جمہور صوفیہ جن کو اہل نور کہا جاتا ہے ان کا مسلک ہے کہ ظاہر و باطن خدا کے سوا کوئی موجود نہیں ہے یہ دکھائی دینے والا عالم جو خدا کا غیر محسوس ہوتا ہے اور جسے ماسوا کہتے ہیں خدا کے علاوہ اور اس کا غیر نہیں ہے غیرت اور اکثر جو محسوس ہوتا ہے وہ حق ہی ہے خلق تو صرف معقول یعنی ہمارے ذہن کی پیدا وار ہے، اس کے علامہ اقبال نے اس شعر میں بیان کیا ہے۔
بہ بزم ما تجلی باست بنگر
جہاں نا پید و او پیداست بنگر
وحدۃ الوجود کے نظریے کو صحیح تسلیم کرنے کے بعد جو ایراد واقع ہوتے ہیں یا ذہن میں جو شکوک پیدا ہوتے ہیں سائل خراسانی نے انہیں بیان کیا ہے اور ان کا جواب مانگا ہے، چنانچہ محمودؔ شبستری نے ان کا جواب دیا ہے اور علامہ اقبال کی رائے میں شیخ محمود شبستری کے زمانے سے آج تک اتنے بہتر جواب نہیں دیے گئے اور اس موضوع پر اس سے بہتر تصنیف نہیں ہوئی مگر چونکہ علامہ تصوف کی قدیم اصطلاحات کو اس زمانے کے مزاج کے مطابق نہیں سمجھتے اس لیے انہوں نے ضرورت محسوس کی کہ ان باتوں کو ’’بہ طرز دیگر‘‘ بیان کیا جائے۔
اس جگہ یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اگر نظریہ وحدت الوجود غلط ہے یا علامہ اس کے قائل نہیں ہیں تو ان کو اس بہ طرز دیگر کی ضرورت کیوں پیش آئی مثلاً یہ سوال کیا گیا کہ جب سارا عالم حق یا ند ہے اور ان کی حقیقت ایک ہے تو پھر یہ قدیم اور حادث کس طرح علیٰحدہ ہوتے کہ ایک خدا ہوگیا اور ایک عالم یا یہ کر جب عارف بھی خدا ہی اور معروف بھی خدا ہی ہے تو پھر انسان کو معرفت حاصل کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی۔
ان سوالوں کا ایک سیدھا سادا جواب یہ بھی ہوسکتا تھا کہ کہاں خدا اور کہاں بندہ، نہ کبھی یہ ایک تھے نہ کبھی جدا ہوئے، کہاں عارف اور کہاں معروف اور یہ جواب وہی ہے جو علمائے ظاہر اور وہ لوگ دیتے ہیں جو وحدت الوجود کو کفر زندقہ یا کم سے کم مغالطہ کشفی سمجھتے ہیں لیکن ان سوالوں کا جواب دینے والوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ وحدت الوجود کو حق سمجھا اور وسائل کے شکوک دور کیے اور اس کے ساتھ ہی ان مسائل کی بہترین تشریح کی۔
تصوف اور خصوصا وحدت الوجود کے متعلق علامہ اقبال کے بیان بہت متضاد ہیں لیکن ان کی تصانیف کو اگر تاریخی اعتبار سے ترتیب دیا جائے تو یہ مشکل باآسانی حل ہو جاتی ہے اور ثابت ہو جاتا ہے کہ اسرارِ خودی سے ارمغان حجاز تک آتے آتے انہوں نے تصوف اور وحدت الوجود کی تائید شروع کر دی تھی اور اسرار خودی میں ابن عربی کے جس نظر یے کو وہ مسلمانوں میں قوتِ عمل کے فقدان کا ذمہ دار قرار دے چکے تھے بعد کی تصانیف میں اسی نظریے کی تائید کرتے نظر آتے ہیں، خود ان کی یہ تصنیف ’’گلشنِ راز‘‘ اس بات کا پورا ثبوت ہے۔
یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اسلام میں الخطاط ابن عربی سے بہت پہلے شروع ہو چکا تھا اور اس کے جو وجوہ تھے وہ تاریخ اسلام کے معمولی طالب علم سے بھی پوشیدہ نہیں ہیں، اس کے علاوہ کتنے مسلمان تھے جو ابن عربی کے نظریے سے واقف تھے اور اسے حق سمجھتے تھے اور آج کتنے مسلمان ہیں جو ان مسائل کو سمجھتے ہیں عجیب بات یہ ہے کہ ہندؤوں کے تنزل میں نظر یۂ مایا کا اثرا بھی ایک کسی محقق نے ثابت نہیں کیا۔
یہاں عرض کرنا یہ ہے کہ گلشنِ راز جدید کی روسے بھی علامہ اقبال وحدة الوجود کو حق سمجھتے ہیں اور اپنی تصانیف میں جگہ جگہ اس کی صراحت کرتے ہیں۔
تو اسے نادان دلِ آگاه دریاب
بخود مثلِ نیاگاں راه دریاب
چساں مؤمن کند پوشیده را فاش
زلا موجود الا اللہ دریاب
(ارمغانِ حجاز)
اس کے علاوہ علامہ صوفیوں کی طرح خودی کی تکمیل کے لیے فنا کو ضروری سمجھتے ہیں۔
اند کے اندر حرائے دل نشیں
ترکِ خود کن سوئے حق ہجرت گزیں
محکم از حق سو سو ئے خود گام زن
لات و عزائے ہوس را سر شکن
بخود گم بهر تحقیق خودی شو
انا الحق گوئی و صدیق خودی شو
منورِ شو از نورِ من رانی
مژه بر ہم مزن تو خود نمائی
علامہ اس کے قائل ہیں کہ اسلامی تصوف نے خودی کے لیے نئے باب کھولے ہیں اور خودی کا فلسفہ اسلامی حکما اور صوفیہ سے ماخوذ ہے لیکن ان کے خیال میں تصوف کے مخصوص اصطلاحات جو کہ فرسودہ ما بعد الطبعیات نے تشکیل کی میں ایک نئے دماغ پر موت کا سا اثر ڈالتے ہیں، اس کے پیش نظر انہوں نے جگہ جگہ ’’بہ طرز دیگر از مقصود سُفتم‘‘ پر عمل کیا ہے، چنانچہ بقا باللہ کے بجائے خودی مردِ کامل یا عارف کی جگہ مردِ مؤمن وغیرہ اصطلات مقرر کی ہیں اور عام صوفیوں کے انداز بیان سے قطع نظر مخصوص صوفیہ کی تقلید کی ہے، مثلاً اکثر جگہ فتوح الغیب کی تقلید میں ترکِ جہات کی تلقین فرماتے ہیں۔
کمالِ زندگی دیدارِ ذات است
طریقش رستن از بند جہات است
(گلشن رازِ جدید)
گلشنِ راز (جدید) علام اقبال کی تصنیف ہے اس کی بحر بھی وہی ہے جو تقدیم مثنوی کی ہے اور سوال بھی وہی ہیں علامہ نے اس کا سببِ تصنیف یہ بیان کیا ہے کہ اہلِ مشرق کے دلوں سے وہ موز جاتا رہا جو ان کی خصوصیت تھی وہ بے جان تصویر کی طرح ہو گئے ہیں، نہ ان کے دل میں کوئی مدعا ہے نہ تو ان کے ساز میں کوئی آواز ہے، کفن پہن کر میں نے قبر میں آرام کیا جب بھی کوئی فقہ محشر نہ دیکھ سکا، میری نگاہ نے ایک دوسرا انقلاب دیکھا اور میں نے محمودؔ شبستری کے نامے کا جواب ایک دوسرے طرز سے لکھا یہ واقعہ ہے کہ محمودؔ شبستری کے زمانے سے آج ہمارے زمانے تک کسی نے محمود شبستری کی طرح ہمارے دل میں آگ روشن نہیں کی کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں نے شاعروں کی طرح افسانہ لکھا ہے اور بغیر شراب پئے مست ہوگیا ہوں بلکہ میں نے کچھ تو عرصے اپنے باطن میں خلوت اختیار کی اور تب ایک لازوال جہان پیدا کیا اس قسم کی شاعری سے مجھے شرم نہیں آتی کیوں کہ سو قرنوں میں بھی ایک عطار پیدا نہیں ہوتا میں جبریل امین کا ہم داستان ہوں میں نے پہلے خودی کے کیف کو آزمایا اور پھر اہل مشرق پر تقسیم کردیا اگر جیل بھی میرا کلام پڑھے تو اپنے مقام سے بیزار ہو جائے اور خدا کی تجلی اور وصالِ جاودانی کے بجائے انسان کا سا سوز و گداز اور غم پنہاں مانگے لگے۔
اس طرح دونوں مصنفوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ ان کی واردات اور ان کا کشف و شہود ہے، گلشنِ راز جدید شاعری کے بہترین نمونوں میں سے ہے اگر چہ مسائل پر شاعری غالب آگئی ہے شاید اس لیے بھی کہ علامہ اقبال نے جواب نامۂ محمود سوچ سمجھ کر اور فرصت میں لکھا ہے لیکن حضرت محمود شبستری نے یہ مثنوی فی البدیہہ لکھی ہے اور اہلِ علم سمجھتے ہیں کہ فلسفیانہ مضامین کا نظم کرنا بذاتِ خود ایک دشوار کام ہے نہ کہ فی البدیہہ اور اہل علم کی ایک محفل میں بیٹھ کر نظم کرنا اور اس خوبی سے نظم کرنا جو شاعرانہ اعجازِ بیان کا ایک شاہکار ہے۔
قاصدِ خراسانی نے سب سے پہلا سوال تفکر سے متعلق کیا ہے، تفکر کی اسلام میں بڑی اہمیت ہے قرآن نے جگہ جگہ تفکر کی تاکید کی ہے، بعض حدیثوں میں تفکر کو طاعت و عبادت پر ترجیح دی گئی ہے، صوفیوں میں تفکر کی اہمیت تمام اعمال و عبادات سے زیادہ ہے اسی لیے سب سے پہلا سوال سائل نے تفکر کے متعلق کیا ہے، اس موقعہ پر مولانا عبدالرحمٰن جامیؔ کی دو رباعیاں نقل کی جاتی ہیں جو اپنی جامعیت اور حسنِ بیان کے اعتبار سے بے نظیر ہیں اور علامہ اقبالؔ کے جواب کے سمجھنے میں ان سے سہولت ہوگی۔
گر در دلِ تو گل گزرد گل باشی
در بلبلِ بے قرار بلبل باشی
تو جز وی و حق کل است گر رونے چند
اندیشۂ کل پیشہ کنی کل باشی
اے برادر تو ہمیں اندیشۂ
مابقی تو استخوان و ریشۂ
گر گل است اندیشۂ تو گلشنی
ور بود خارِ تو ہمہ گلخنی
(لوائح جامیؔ)
اب محمودؔ شبستری اور اس کے بعد اقبالؔ کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔
پہلا سوال :-
نخست از فکر خویشم در تحیر
چہ چیز است آنکہ گویند ش تفکر
تفکر کیا ہے؟ شبستری فرماتے ہیں کہ باطل سے حق کی طرف جانے اور جزو میں کل مطلق یعنی خلق میں حق کا مشاہدہ کرنے کا نام تفکر ہے، یہ راہ دور و دراز ہے موسیٰ کی طرح عصا (یعنی اپنی ہستی کا احساس) چھوڑ دو وادی ایم میں داخل ہو جاؤ اور ان انا اللہ (میں خدا ہوں) کی آواز سنو فکر صحیح بغیر تجرید و خلوت کے حاصل نہیں ہوتی، تشبیہ کا خیال نابینائی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور صرف ایک آنکھ سے دیکھنے کا نتیجہ تنزیہہ ہے تنگ چشمی سے تناسخ کا عقیدہ پیدا ہوتا ہے اہلِ ظاہر کی آنکھیں بیمار ہیں کہ ظاہر کو نہیں دیکھتے بلکہ مظاہر کو دیکھتے ہیں۔
دوسرا سوال ہے :-
کدا میں فکر مارا شرط راہ است
چرا گہ طاعت و گاہے گناہ است
راہِ معرفت میں کس قسم کی فکر درکار ہے اور کبھی فکر عبادت ہو جاتی ہے اور کبھی گناہ، اس کا کیا سبب ہے؟ اس کے جواب میں شبستری نے صوفیہ کا مشہور قول بیان کر دیا ہے کہ خدا کی ذات میں فکر نہ کرو بلکہ اس کی صفات میں فکر کرو، ذات میں فکر کرنا گناہ ہے ذات میں فکر باطل ہو جاتی ہے اس کی ذات آیات سے روشن نہیں ہے بلکہ آیات اس کی ذات سے روشن ہیں تمام عالم اس کے نور سے ظاہر ہوا ہے خدا کی ذات عالم سے روشن نہیں ہے جہاں خدا کا نور دلیل ہو وہاں جبرئل کو گفتگو کی مجال نہیں ہے، فرشتے کو خدا کا قرب حاصل ہو مگر لی مع اللہ کے مقام میں فرشتے کی بھی گنجائش نہیں، محمودؔ شبستری کے مخاطب مشایخ صوفیہ ہیں اس لیے ان کا جواب ایک محقق صوفی کا سا ہے اور علامہ اقبالؔ کے مخاطب اربابِ دانش اور ان کی شاعری کے قدرداں سامعین ہیں، اقبال نے دونوں سوالوں کا ایک سوال بنا کر جواب دیا ہے اور حق یہ ہے کہ ان کا جواب شعر و فلسفہ کا بہترین امتزاج ہے، اقبال نے اکثر مقامات پر اپنی شاعری سے مشکل آسان کرلی ہے لیکن شبستری نے استدلال سے کام لیا ہے جس کے لیے علمِ طریقت و شریعت کے علاوہ بہت سے علوم جاننے اور ان کمال کی ضرورت ہے اقبالؔ کہتے ہیں۔
آدمی کے سینے میں ایک نور ہے، ایسا نور کہ اس کا غیب بھی اس کے لیے حضور ہے، میں نے اس ثابت بھی دیکھا سیّار بھی نور بھی اور نار بھی کبھی وہ برہان و دلیل پر نازاں ہے تو کبھی روحِ امیں سے نور حاصل کرتا ہے وہ خاک آلود بھی ہے اور مکان سے پاک بھی، روز و شب میں اسیر بھی ہے اور زمان سے مبرا بھی کبھی تھک جاتا ہے تو ساحل پر مقام کر لیتا ہے اور کبھی اس کے جام میں دریائے بے پایاں آجاتا ہے خود ہی دریا ہے خود ہی موسیٰ کا وہ عصا ہے جس نے دریا کا سینہ دونیم کر دیا تھا ایک آنکھ سے اپنی خلوت کو دیکھتا ہے اور دوسری آنکھ سے اپنی جلوت کو اگر ایک آنکھ بند کر لے اور صرف جلوت یا صرف خلوت کو دیکھے تو یہ گناہ ہے اور اگر دونوں آنکھیں کھول کر دیکھے یعنی ظاہر پر بھی نظر رہے اور مظہر پر بھی تو یہ صحیح راستہ ہے، اس میں ہنگامے ہیں مگر بغیر شور کے اس میں رنگ و آواز ہے مگر بے چشم و گوش کے اس کے شیشے میں سارا عالم ہے لیکن اس کا ظہور ہم پر بتدریج ہوتا ہے، زندگی اسی کے ذریعے کمند ڈال کر ہر پست و بلند کو اسیر کر لیتی ہے اور اسی کے ذریعے خود کو اپنی قید میں کر لیتی ہے اور ماسوا (غیر خدا) سے چھوٹ جاتی ہے اور ایک روز دونوں عالم اس کے شکار ہو جاتے ہیں اگر تم اس طرح دونوں عالم حاصل کر لو تو سارا زمانہ مرجائے گا مگر تم نہ مرو گے کوشش کرو اور پہلے وہ عالم تسخیر کر لو جو تمہارے اندر ہے اگر خدا کو حاصل کرنا چاہتے ہو تو اپنے آپ سے نزدیک ہو جاؤ یہ چاند تارے تمہیں سجدہ کرنے لگیں گے اور ساری کائنات کو تم اپنی مرضی کے مطابق تعمیر اور تسخیر کر سکو گے، یہی وہ بادشاہت ہے جو دین کے ساتھ تو ام ہے۔
محمودؔ شبستری سے کیے گئے سوالوں میں سے اقبال نے نو (۹) سوال منتخب کر لیے ہیں اور ان کو بھی اس انداز سے ترتیب دیا ہے کہ وہ سب سوال ایک دوسرے کا جزو معلوم ہوتے ہیں جو تقریباً سب نظریۂ وحدت الوجود سے متعلق ہیں تفکر کے متعلق دو سوالوں کو ایک قرار دے کر اس کا جواب دیا ہے جو ابھی ذکر کیا جا چکا ہے، باقی سوال یہ ہیں۔
(۲)
چہ بحر است ایں کہ علمش ساحل آمد
زقرا و چہ گوہر حاصل آمد
(۳)
وصالِ ممکن و واجب بہم چیست
حدیث قرب و بعد و بیش و کم چیست
(۴)
قدیم و محدث از ہم چوں جدا شد
کہ ایں عالم شد آں دیگر خدا شد
اگر معروف و عارف ذاتِ پاکست
چہ سود اور سرِ ایں مشتِ خاک است
(۵)
کہ من باشم مرا از من خبر کن
چہ معنی دارد اندر خود سفر کن
(۶)
چہ جزو است آنکہ او از کل فزون است
طریقت جستن آں جزو چوں است
(۷)
مسافر چوں بود رہرو کدام است
کرا گویم کہ او مردِ تمام است
(۸)
کدامی نکتہ رانطق است انا الحق
چہ گوئی ہرزہ بود آں رمزِ مطلق
کہ شد برسرِ وحدت واقف آخر؟
شناسائے چہ آمد عارف آخر؟
قدیم و محدث از ہمچوں جدا شد
کہ ایں عالم شد آں دیگر خدا شد
اگر معروف و عارف ذاتِ پاکست
چہ سودا در سرِ ایں مشتِ خاک است
سوال یہ ہے کہ اگر وجود ایک ہے تو حادث اور قدیم علیٰحدہ علیٰحدہ کیسے ہوگئے کہ ایک عالم ہو گیا اور ایک خدا اور جب پہچاننے والا اور پہچانے جانے والا ایک ہی ہے یعنی خدا تو پھر انسان کے سر میں کیا سود سمایا ہے کہ وہ معرفت حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔
شبستری اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ تو وہ ’’جمع‘‘ ہے جو عینِ واحد ہے اور تو ہی وہ واحد ہے جو عینِ کثرت ہے لیکن اس کے لیے یقین اور کشف و شہود کی ضرورت ہے تاکہ وہم غیریت کے حجاب اٹھ جائیں یہ کثرت اور دونی محض وہم ہے جسے تو اپنے غلط علم کی وجہ سے حیققت سمجھ بیٹھا ہے، اپنا علم چھوڑ دو اپنی ہستی کو غیر نہ سمجھو اور غیرت کے وہم کو تاراج کردو تو تمہارا نقطۂ اول آخر میں مل جائے گا اور ایسے مقام پر پہنچ جاؤ گے جس کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ وہاں نہ فرشتے کی گنجائش ہے نہ کسی رسول کی، پس جس وقت یہ مسافت طے ہو جاتی ہے اور یہ مقام حاصل ہو جاتا ہے تو حق اسکے سر پر تاجِ خلافت رکھ دیتا ہے وہی مرد کامل ہے جو خواجگی کے ساتھ کار غلامی بھی کرتا ہے یعنی حقیقت میں فنا ہو کر بقا حاصل کر لیتا ہے اور خدا کی منشا کے مطابق اپنے فرائض پورے کرتا ہے۔
’’قدیم و محدث از ہم چوں جدا شد‘‘
اقبالؔ اس سوال کا جواب اس طرح دیتے ہیں کہ غیرت کو ہم نے ایجاد کر لیا ہے کہ خودی اس کی وجہ سے زندہ ہے اور عارف و معروف کا فراق بہترہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ قیدم اور حادث سب ہمارے اعتبارات ہیں ہم دوش و فردا کا شمار کرتے رہتے ہیں اور آج اور کل ہے اور تھا اور ہوگا کرتے رہتے ہیں خود کو خدا سے علیٰحدہ سمجھ لینا ہماری فطرت ہے تڑپنا اور نہ پہنچنا ہماری فطرت ہے جدائی ہی سے خاک میں نظر پیدا ہوتی ہے ہم اور وہ خدا کا راز ہے اور ظاہر وباطن سب خدا کا ہی نور ہے اگر چہ ہماری محفل میں بہت سے جلوے ہیں لیکن یہ سارا جہان معدوم اور نیست ہے خدا ہی موجود اور ظاہر ہے یہ در و دیوار یہ شہر و مکاں کچھ بھی نہیں ہے یہاں ہمارے اور اس کے سوا (حقیقتِ مطلق اور مظاہرِ حقیقت کے سوا) کچھ بھی نہیں ہے خودی کو اپنی آغوش میں لے لینا اور فنا کو بقا سے ملا دینا یہی سودا ہے جو اس مشتِ خاک کے سر میں ہے حقیقت کے سمندر میں گم ہو جانا ہمارا انجام نہیں ہے اگر تم اس حقیقت کو حاصل کر لو تو پھر فنا نہیں ہے۔
سوال :-
کدا می نقطہ را نطق است انا الحق
چہ گوئی ہر زہ بود آں رمزِ مطلق
کیا انا الحق کا قول کسی حقیقت سے ناشی ہے یا محض بیہودہ بات ہے۔
شبستری نے جواب دیا ہے کہ انا الحق راز کا اظہار ہے یہاں غیر حق کہاں ہے جو انا الحق کہے، عالم کے تمام ذرے ہر وقت انا الحق میں محو ہیں قرآن نے کہا ہے کوئی شے ایسی نہیں ہے جو تسبیح نہ کرتی ہو اگر تو بھی توحید علمی سے گزر کر توحید کشفی اور توحید عیانی تک پہنچ جائے تو انا الحق کہنے لگے، وادی ایمن میں آ اور دیکھ کہ درخت بھی انی انا اللہ کہتا ہے۔
روا باشد انا اللہ از درختے
چرا نبود روا از نیک بختے
تو پھر ایک اچھا انسان سے یہ بات کیا بعید ہے جس شخص کے دل میں شک نہیں ہے وہ یقین کے ساتھ جانتا ہے کہ ہستی ایک کے سوا نہیں ہے انانیت حق ہی کو سزا وار ہے اس کی جناب میں تو میں اور وہ نہیں ہے۔
ہر آں کو خالی از خود چوں خلا شد
انا الحق اندر و صوت و صدا شد
شود باوجہ باقی غیر ہا لک
یکے گرد و سلوک و سیرو سالک
یہ تعین تھا جو ہستی سے جدا ہوگیا وگرنہ نہ خدا بندہ ہوا نہ بندہ خدا ہوگیا کیونکہ کثرت کا وجود محض ایک نمود اور جو کچھ نظر آتا ہے وہ حقیقت کے مطابق نہیں ہے آئینے کو اپنے برابر رکھو اور دیکھو اس میں یہ دوسرا شخص کون ہے، عدم ہستی کے ساتھ ضم نہیں ہوسکتا اور نور و ظلمت جمع نہیں ہوسکتے، ایک وہیمی نقطہ ہے جسے نہر جاری کہنے لگے ہیں، میرے سوا اس صحرا میں کون ہے پھر یہ آواز اور آواز کی بازگشت کیا چیز ہے عرض فانی ہے اور جوہر عرض سے مرکب ہے جسم سوا طول عرض اور عمق کے کیا ہے واقعہ یہ حق کے سوا کوئی موجود نہیں ہے اگر انا الحق کہنا چاہو تو ہوا الحق کہو کہ تم غیر نہیں ہو اپنے کو پہچانو اور ہستی وہمی کو نمود اپنے سے جدا کردو۔
مصرع : کدا می نقطہ را نطق است انا الحق
اقبالؔ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ ایک مُغ نے دیر کے حلقے میں کہا کہ زندگی نے فری کھایا اور ’’من‘‘ کہا خدا سویا ہوا ہے اور ہمارا وجود اس کے جواب ہی سے ہے تحت وفوق اور چار سو سب خواب ہے سکون و سیر و جستجو سب خواب ہے، دل بیدار اور عقل نکتہ بیں سب خواب ہے، گمان، فکر، تصدیق و یقیں سب خواب ہے یہ تیری چشمِ بیدار تیرا کردار گفتار بھی سب خواب ہے جب خدا بیدار ہو جائے گا تو پھر کچھ بھی موجود نہیں رہے گا۔
چو او بیدار گردد دیگرے نیست
متاعِ شوق را سودا گرے نیست
یہ سب صحیح ہے مگر ذرا اپنے اندر دیکھو وہ بے نشان (خودی) کون ہے جو تمہارے سینے میں پنہاں ہے، خودی کو ہی حق سمجھو خودی باطل نہیں ہے خودی جب پختہ ہو جاتی ہے تو لازوال ہوجاتی ہے یہ سارا جہاں فانی ہے سوائے خودی کے سب کچھ ہیچ ہے اپنے آپ میں گم ہو کر خودی کو پا جاؤ انا الحق کہو اور صدیقِ خودی ہو جاؤ۔
خودی را پیکرخاکی حجاب است
طلوعِ او مثالِ آفتاب است
درونِ سینۂ ما خاورِ او
فروغِ خکِ ما از جوہرِ او
تو می گوئی مرا از خود خبر کن
چہ معنی دارد اندر خود سفر کن
ترا گفتم کہ ربط جان وتن چیست
سفر در خود کن و بنگر کہ من چیست
سفر در خویش زادن بے اب و مام
ثریا را گرفتن از لبِ بام
کہ من باشم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقبالؔ کے نزدیک اپنے اندر سفر کرنے کا مطلب اندرون بینی سے ہے۔
اگر چشمے کشائی بر دلِ خویش
درونِ سینہ بینی منزلِ خویش
وہ فرماتے ہیں کہ اپنے اندر دیکھو تمہیں اپنی منزل نظر آجائے گی، ہر وقت اپنی نگہ داشت کرتے رہو تاکہ گمان سے گزر کر یقین تک پہنچ جاؤ، زندگی کا کمال ذات کا دیدار ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ جہت اور سمت یعنی تعینات کی قید سے آزاد ہو جاؤ خدا کے ساتھ خلوت اختیار کر لو اس طرح کہ وہ تمہیں دیکھے اور تم اُسے، پلک نہ جھپکاؤ اس طریقے سے تمہارا وجود (اعتباری) فنا ہو جائے گا اور اس کے بعد اس کے حضور (بقا باللہ) اس طرح محکم رہو کہ اس کے بحرِ نور میں گم نہ ہو جاؤ، خدا کی جلوہ گاہ میں اس طرح جل جاؤ کہ بہ ظاہر تم اور یہ باطن خدا روشن ہو جائے جس نے یہ دید حاصل کر لی وہی عالم کا امام ہے اور ہم نا تمام ہیں اور وہ کامل و مکمل ہے اور اس طرح یہ معلوم ہو جائے گا کہ
مسافر چوں بود رہرو کدام است
کرا گویم کہ او مردِ تمام است
دیگر
پر توِ حسنت نہ گنجد درزمین و آسماں
در حریمِ سینہ حیرانم کہ چو ں جا کر دۂ
محبت اور دید چاہے اپنی ہی ہو فراق کی متقاضی ہے اپنے دیدار کے لیے بھی آئینے کی ضرورت ہے جو بقا کا لازمہ ہے، حقیقتِ مطلق نے اپنے دیدار کے لیے کائنات کی صورت میں ظہور فرمایا اقبال جگہ جگہ اسی مقام کی طرف اشارہ کرتے ہیں، صفیہ نے کہا ہے کہ
’’انسانِ کامل وایم در فراق است‘‘
اس قول کی شرح مولانا عبدالعلی بحر العلوم نے شرح مثنوی روم میں اس طرح کی ہے کہ انسانِ کامل ہر چند سیر الی اللہ اور سیر من اللہ پوری کرلے لیکن سیر فی اللہ کی حد و نہایت نہیں ہے اس لیے کہ تجلیات الٰہی کی حد و نہایت نہیں ہے، ہر تجلی کے مشاہدے کے بعد سبالک دوسری تجلی کا طالب رہتا ہے، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قول مبارک ’’رب زدنی علما‘‘ میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔
کہ من باشم مرا از من خبر کن
چہ معنی دارد اندر خود سفر کن
حضرت شبستری نے اس سوال کے دو حصے کے لیے ہیں، ایک یہ کہ ’’من‘‘ یا انا کیا ہے اور ایک یہ کہ اپنے اندر سفر کرنے سے کیا مطلب ہے؟ دوسرے مصرعے کا جواب وہی ہے کہ ان تعینات سے رہائی حاصل کرلو۔
یکے رہ بر تراز کون و مکاں شو
جہاں بگذار و خود در خود جہاں شو
نماند درمیانہ راہ رو راہ
چو ہائے ہو شود ملحق بہ اللہ
’’انا‘‘ یا ’’من‘‘ کیا ہے؟ شبستری نے فرمایا ہے کہ وجودِ مطلق میں چونکہ نسبتیں اور اضافتیں معدوم ہیں اس لیے اس کی طرف اشارہ نہیں کیا جاسکتا لیکن جب نسبت، اضافت یا اعتبار اس حقیقت کو عارض ہوتی ہے اور ہر تعین ایک اسمِ مخصوص سے مسمیٰ ہو جاتا ہے تو اے ’’انا‘‘ کہتے ہیں در حقیقت ’’من‘‘ ہستی مطلق ہی ہے جس نے کوئی تعین روحانی یا جسمانی اختیار کر لیا۔
حقیقت کز تعین شد معین
تو او را در عبارت گفتۂ من
اپنے اندر سفر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے اندر تفکر کرو اور کون و مکان، اسما و صفات اور تمام تعینات سے گزر جاؤ۔
یہ تمام سوال اور ان کے جواب ایک ہی نظریئے (وحدت الوجود) کے گرد گردش کرتے ہیں بعض سوال اور ان کے جواب بالکل واضح ہیں اور بعض سوال ایسے ہیں جو چیستان یا لطائف کی نوعیت رکھتے ہیں ان کے بارے میں جواب دینے والوں کو اپنے جو ہر طبع، جودت ذہن اور زور بیان دکھانے کا زیادہ موقع میسر آیا ہے لیکن نظریات و مسائل کی وضاحت میں ان کی زیادہ اہمیت نہیں ہے اس لیے انہیں ترک کرنا مناسب معلوم ہوا، مثلاً
چہ بحراست ایں کہ علمش ساحل آمد
زقعرِ اوچہ گوہر حاصل آمد
چہ جز و است آنکہ او از کل فزون است
طریقِ جستن آں جزو چوں است
کہ شد بر سرِ وحدت واقف آخر
شناسائے چہ آمد عارف آخر
انسان کامل (آخری منزل)
تمام صوفی بالاتفاق انسان کو خدا کا کامل ترین مظہر قرار دیتے ہیں یعنی جو انسان کہ کشف ویقین اور ریاضت و مجاہدہ سے خلافت الٰہیہ کا مقام حاصل کر لیتا ہے وہی صوفیوں کی زبان میں انسانِ کامل اور اقبال کی زبان میں مردِ کامل کہے جانے کا مستحق ہے۔
جہاں انساں شدو انساں جہانے
ازیں پاکیزہ تر نبود بیانے
چو نیکو بنگری در اصلِ بیانے
ہموں بیند ہموں دیدست و دیدار
(گلشنِ راز قدیم)
ان اشعار کی شرح میں مولانا محمد بن علی جیلانی فرماتے ہیں کہ
’’یعنی جہاں انسان کے ساتھ مل کر انسان کے ساتھ مل کر انسان کبیر ہے اور انسان کہ سب کا خلاصہ ہے ایک جہاں ہے علیٰحدہ حق انسان میں ظاہر ہوا اور اس کی آنکھ ہوگیا اور اپنی آنکھ سے اپنا مشاہدہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اسم اللہ کا مظہر ہے اور اللہ اسم ذات ہے جو جامع ہے تمام اسما و صفات کو پس انسان تمام مراتبِ عالم کا جامع ہے اور تمام عالم حقیقت انسانی کا مظہر ہے‘‘
حضرت علی علیہ السلام کے مشہور شعر ہیں کہ
و تزعم انک جرم صغیر
وفیک انطوی العالم الاکبر
وانت الوجود و نفس الوجود
وما فیک الوجود لا یحصر
ترجمہ : تو اپنے کو ایک حقیر ہستی سمجھتا ہے حالاں کہ تجھ میں سب سے بڑا عالم پوشیدہ ہے تو ہی عینِ وجود ہے اور تجھ میں جو کچھ ہے اس کا حصر نہیں کیا جاسکتا۔
- کتاب : نقوش، لاہور (Pg. 328)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.