حضرت شاہ شرف الدین نیر قادری کا وصال چراغِ معرفت ایک نور سے دوسرے نور میں منتقل ہوا
حضرت شاہ شرف الدین نیر قادری کا وصال چراغِ معرفت ایک نور سے دوسرے نور میں منتقل ہوا
ٹی ایم ضیاؤالحق
MORE BYٹی ایم ضیاؤالحق
ریاستِ بہار کی سرزمین صدیوں سے علمی، روحانی اور صوفیانہ روایات کی امین رہی ہے، اسی سرزمین پر واقع اورنگ آباد میں ایک نہایت قدیم اور بابرکت خانقاہ موجود ہے، جسے خانقاہ قادریہ محمدیہ، امجھر شریف کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ خانقاہ سلسلۂ قادریہ کی ایک اہم کڑی ہے اور گزشتہ کئی صدیوں سے دینِ اسلام کی اشاعت، روحانی تربیت اور سماجی خدمت کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
روایات کے مطابق آج سے تقریباً چھ سو سال قبل شیخ عبدالقادر جیلانی کی بارہویں پشت میں سے ایک بزرگ حضرت سیدنا محمد قادری بغدادی بغداد سے اشاعتِ حق کے لیے اس علاقے میں تشریف لائے، اس وقت یہ مقام امجا کے نام سے معروف تھا جہاں دیو کنڈ نامی ایک راجہ کی حکومت تھی، اس کے ظلم و ستم سے عوام سخت پریشان تھے اور امن و امان کی صورتحال نہایت خراب تھی، ایسے میں حضرت سیدنا محمد قادری بغدادی کو بشارت ہوئی کہ وہ اس خطے کا رخ کریں اور وہاں امن قائم کریں، چنانچہ آپ یہاں تشریف لائے، راجہ کے ظلم کا خاتمہ کیا، امن و انصاف قائم کیا اور اسی مقام پر ایک خانقاہ کی بنیاد رکھی جو بعد میں خانقاہ قادریہ محمدیہ کے نام سے معروف ہوئی۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ خانقاہ نہ صرف ایک روحانی مرکز کے طور پر ابھری بلکہ اس نے سماجی اور تعلیمی میدان میں بھی اہم کردار ادا کیا، یہاں آنے والے لوگوں کو روحانی سکون کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت اور دینی تعلیم بھی فراہم کی جاتی رہی، یہ خانقاہ نسل در نسل لوگوں کی رہنمائی کرتی رہی اور علاقے میں دینی شعور کو فروغ دیتی رہی۔
اسی عظیم سلسلے کی چودھویں کڑی کے طور پر حضرت شاہ شرف الدین نیر قادری مسندِ سجادگی پر فائز ہوئے، آپ کی پیدائش 1968 میں امجھر شریف میں ہوئی، آپ ایک ایسے خانوادے میں پیدا ہوئے جو صدیوں سے دین کی خدمت اور روحانی قیادت کا فریضہ انجام دیتا آ رہا تھا، آپ کے والد حضرت شاہ جلال الدین ابدال قادری عرف دھنو بابو اپنے وقت کے جید بزرگ اور اسی خانقاہ کے سجادہ نشیں تھے، ان کے وصال کے بعد آپ 4 جون 2000 کو مسندِ سجادگی پر فائز ہوئے اور نہایت اخلاص کے ساتھ اس ذمہ داری کو نبھاتے رہے۔
آپ نے اپنے دورِ سجادگی میں دینی و سماجی میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں، آپ نے خانقاہ کی تعمیرِ نو کروائی اور ایک وسیع مہمان خانہ تعمیر کرایا تاکہ دور دراز سے آنے والے زائرین کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں، آپ نے تعلیم کے میدان میں خصوصی توجہ دیتے ہوئے لڑکیوں کے لیے ایک مدرسہ قائم کیا جہاں عالمیت تک کی تعلیم دی جاتی ہے، یہ اقدام علاقے کی بچیوں کے لیے ایک قیمتی تحفہ ثابت ہوا۔
صحت کے شعبے میں بھی آپ کی خدمات قابلِ قدر ہیں، آپ نے ایک اسپتال قائم کیا جہاں غریب اور نادار افراد کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، اس کے علاوہ آپ نے غریبوں اور عام لوگوں کی سہولت کے لیے ایک کمیونٹی ہال بھی تعمیر کروایا جو مختلف سماجی اور فلاحی کاموں کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس طرح آپ نے خانقاہ کو محض ایک روحانی مرکز نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک فعال سماجی ادارہ بنا دیا۔
حضرت نیر کی شخصیت کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ آپ نے خانقاہ کو عوام الناس سے جوڑے رکھنے کا عظیم کام انجام دیا، آپ کے دروازے ہر خاص و عام کے لیے ہمیشہ کھلے رہتے تھے، آپ رشتوں کا بے حد لحاظ رکھتے تھے اور ہر شخص کے ساتھ محبت اور خلوص کا برتاؤ کرتے تھے، آپ نہایت زندہ دل، خوش مزاج اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے، جس کی وجہ سے ہر شخص آپ سے قربت محسوس کرتا تھا۔
اسی تناظر میں خانقاہ چشتیہ منعمیہ، گیا کے شاہ عطا فیصل منعمی فرماتے ہیں کہ حضرت شاہ شرف الدین نیر قادری کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ آپ نے خود کو مسلکی اختلافات سے دور رکھا اور ہمیشہ بنیادی دینی کاموں کی طرف توجہ دی، جو صوفیائے کرام کی اصل روش رہی ہے۔
آپ کی محفلیں علم و حکمت کے ساتھ ساتھ خوشگوار ماحول کا حسین امتزاج ہوتی تھیں، آپ نہ صرف ایک روحانی پیشوا تھے بلکہ ایک بہترین منتظم، مخلص سماجی کارکن اور ایک ہمدرد انسان بھی تھے، آپ نے ہمیشہ لوگوں کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھا اور ان کے حل کے لیے بھرپور کوشش کی۔
حضرت نیر کا 24 اپریل 2026 کو طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا، آپ کی وفات سے نہ صرف امجھر شریف بلکہ پورے بہار اور اطراف کے علاقوں میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے، جسے پُر کرنا آسان نہیں ہوگا، آپ کی رحلت کی خبر سن کر ہر آنکھ اشکبار ہو گئی اور ہر دل غمزدہ ہے۔
آپ نے اپنے پیچھے دو بیٹوں اور دو بیٹیوں پر مشتمل ایک بھرا پورا خاندان چھوڑا ہے، آپ کے صاحبزادگان میں سید محمد حسین قادری اور سید عفان قادری شامل ہیں جو اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دینی و سماجی خدمات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
یہ مضمون سید ثناؤاللہ رضوی اور سید عظمت ایوب قادری سے حاصل شدہ تفصیلی معلومات کی روشنی میں ترتیب دیا گیا ہے۔
خدا سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ اور عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.