خانقاہ قادریہ محمدیہ، امجھر شریف کی جشن سجادگی کی روداد
خانقاہ قادریہ محمدیہ، امجھر شریف کی جشن سجادگی کی روداد
ٹی ایم ضیاؤالحق
MORE BYٹی ایم ضیاؤالحق
ریاستِ بہار کے ضلع اورنگ آباد میں ایک قدیم قصبہ امجھر شریف واقع ہے، جہاں ایک معروف صوفی بزرگ حضرت سیدنا محمد قادری بغدادی نے قیام فرمایا، روایات کے مطابق آپ تقریباً چھ سو سال قبل بغداد سے اس خطے میں تشریف لائے، آپ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی بارہویں پشت سے تعلق رکھنے والے بزرگ اور بہار میں سلسلۂ قادریہ کے اولین صوفی بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں۔
روایات کے مطابق حضرت سیدنا محمد قادری بغدادی کو اس خطے میں امن، عدل، محبت اور دینی شعور کو فروغ دینے کی بشارت ہوئی، آپ بغداد سے یہاں تشریف لائے اور اپنی روحانی، اصلاحی اور انسانی خدمات کا آغاز کیا، اسی مقام پر آپ نے ایک خانقاہ کی بنیاد رکھی جو بعد میں خانقاہ قادریہ محمدیہ، امجھر شریف کے نام سے معروف ہوئی، صدیوں سے یہ خانقاہ روحانی تربیت، اصلاحِ باطن، دینی تعلیم اور خدمتِ خلق کا مرکز رہی ہے۔
15 اگست 2026ء کو اسی تاریخی خانقاہ میں پندرہویں سجادہ نشیں کی دستار بندی کی تقریب منعقد ہوئی، اس موقع پر خانقاہ چشتیہ منعمیہ ابوالعلائیہ، گیا سے سید احمد فضیل اور سید عطا فیصل منعمی کی شرکت پہلے سے طے تھی، صبح تقریباً آٹھ بجے ہم تینوں کے علاوہ احمد فضیل کے صاحبزادے نور مطیع اللہ بھی ہمارے ساتھ تھے اور ہم جشن سجادگی میں شرکت کے لیے گیا سے ہم لوگ روانہ ہوئے۔
ہم لوگ ہسپورہ پہنچے ہی تھے کہ ہمارے دوست سید محمد متین الدین پر سید عطا فیصل کی نظر پڑ گئی، انہوں نے کہا کہ ’’دیکھیے، آپ کے دوست!‘‘ گاڑی روکی گئی اور زبردستی متین کو بھی گاڑی میں اپنے ساتھ بٹھا لیا، ویسے ان کو گیا جانا تھا پر متین بھی ہمارے سفر میں شامل ہوگئے۔
امجھر شریف پہنچنے کے بعد جن حضرات سے ہماری ملاقات ہوئی، اس میں عظمت ایوب قادری، سید منظر علی اور سید شاہ ابوالمحاسن قادری گیلانی، سید ہدایت قادری بھی موجود تھے، سب نے نہایت محبت اور خلوص کے ساتھ ایک دوسرے سے ملاقات کی اور کچھ دیر باہمی گفتگو بھی ہوئی، اس مختصر ملاقات نے سفر کی خوشی کو مزید بڑھا دیا اور جشن سجادگی کے روحانی ماحول میں اپنائیت کا ایک خوب صورت احساس پیدا ہوا۔
اسی تاریخی اور روحانی سلسلے میں خانقاہ قادریہ محمدیہ، امجھر شریف میں عرسِ سیدنا کے موقع پر مختلف روحانی و بابرکت تقریبات منعقد ہوئیں، بعد نمازِ فجر قرآن خوانی ہوئی، جبکہ صبح 10 بجے توشۂ شریف کی فاتحہ ادا کی گئی۔
اس کے بعد صبح 11 بجے حضرت الحاج سید شاہ عبدالرزاق محمد حسین قادری صاحب کی دستارِ سجادگی کی پُرنور تقریب منعقد ہوئی، جس میں آپ کو خانقاہِ قادریہ محمدیہ، امجھر شریف کا پندرہواں سجادہ نشیں مقرر کیا گیا۔
مسندِ سجادگی پر فائز ہونے سے قبل کئی علما و مشائخِ کرام نے خطاب فرمایا، ان میں سید شاہ صباح الدین منعمی کی تقریر بھی شامل تھی، اس کے بعد حضرت ڈاکٹر سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی، سجادہ نشیں خانقاہ منعمیہ، متن گھاٹ نے اپنے پُرمغز اور بصیرت افروز خطاب سے حاضرین کو مستفید فرمایا۔
آخر میں حضرت سید شاہ عابد قادری نے نہایت جامع اور پُرمغز دعا فرمائی، جس کے بعد دستار بندی کا سلسلہ شروع ہوا، یہ لمحہ نہایت روحانی اور جذباتی تھا، جب خانقاہ کی صدیوں پرانی سجادگی کی روایت ایک نئی نسل کے سپرد کی جا رہی تھی۔
اس روحانی اور تاریخی موقع پر بہار و اطراف کی مختلف خانقاہوں کے سجادہ نشینان، مشائخِ کرام اور معزز شخصیات نے شرکت کی اور بابو حضور سید عبدالرزاق قادری صاحب کو دستارِ سجادگی سے نوازتے ہوئے اپنی دعاؤں اور نیک تمناؤں سے سرفراز فرمایا۔
تقریب میں حضرت الحاج سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی (سجادہ نشیں خانقاہ منعمیہ، میتن گھاٹ) حضرت الحاج سید شاہ صباح الدین احمد چشتی (سجادہ نشیں خانقاہ چشتیہ منعمیہ رام ساگر، گیا) سید شاہ ارباب اشرف (خانقاہ درویشیہ اشرفیہ، بیتھو شریف، گیا) حضرت سید نورالدین اصدق (ناظمِ اعلیٰ خانقاہ بشیریہ، پیر بگھہ) سید شاہ مجیب الحق عمادی (خانقاہ عمادیہ، پٹنہ) سید غلام فیاض حسین فیاضی (سجادہ نشیں خانقاہ فیاضیہ، پٹنہ) سید مناظر حسن قادری (خانقاہ قادریہ حمادیہ، داؤد نگر) سید ولی اللہ ضیا قادری (خانقاہ قادریہ، داؤد نگر) سید شاہ منظر علی قادری (سلیمانیہ قادریہ، بمنڈیہہ، داؤد نگر) سید احرار عالم شہبازی (خانقاہ شہبازیہ، بھاگل پور) سید شاہ سلمان چشتی (خانقاہ چشتیہ، شیخپورہ) سید ابوذر حسنات (خانقاہ قادریہ ابدالیہ، شہسرام) سید شاہ امان اللہ قادری (خانقاہ قادریہ، گیا) شاہ معروف احمد عثمانی (خانقاہ برہانیہ کمالیہ، دیورہ) سید ارشد شمسی (خانقاہ شمسیہ، ارول) سید ہدایت علی قادری رزاقی (خانقاہ بانسہ شریف)، سید شاہ افضال فیاضی (خانقاہ ابوالفیاضیہ، پٹنہ) سید شاہ ارشد افضلی (خانقاہ افضلیہ، نوادہ) سید شاہ ارشاد (خانقاہ اصدقیہ، پیر بگھہ) سید شاہ فاضل شرف (خانقاہ خلوت مخدوم جہاں، بہار شریف) خانقاہ شاکریہ، پنڈ شریف کے نمائندہ سید سعیدالدین غازی، خانقاہ قلندریہ بہار شریف، سید نسیم فضل قادری، سید حامد رضا قادری اور سید زکی قادری، امجھر شریف، سید شاہ عتیق الرحمٰن قادری، سیدالعلوم دیشر گڑھ اور عبدالرقیب قادری، نمائندہ خانقاہِ طاہریہ پتاشپور، بنگال نے شرکت کی۔
ان مختلف خانقاہوں اور روحانی مراکز سے وابستہ مشائخ کی شرکت نے اس تقریب کو مزید معنویت عطا کی، یہ اجتماع محض ایک دستار بندی کی تقریب نہیں تھا بلکہ مختلف خانقاہوں اور سلاسل کے درمیان محبت، اخوت، روحانی تعلق اور باہمی احترام کی ایک خوب صورت مثال بھی تھا۔
امجھر شریف کی اس بابرکت سرزمین پر پندرہویں سجادہ نشیں کی دستار بندی نے خانقاہ کی صدیوں پرانی روحانی روایت کو ایک نئی نسل تک منتقل کرنے کے عزم کو بھی نمایاں کیا، یہ ایک ایسی روایت کا تسلسل ہے جس کی بنیاد حضرت سیدنا محمد قادری بغدادی نے رکھی اور جسے بعد کے سجادگان نے اپنی دینی، روحانی اور سماجی خدمات کے ذریعے آگے بڑھایا۔
یہ موقع اس بات کی یاد دہانی بھی تھا کہ خانقاہی نظام کی اصل روح عبدیت، تواضع، اصلاحِ باطن، محبتِ انسانیت اور خدمتِ خلق میں ہے، حضرت سیدنا سے لے کر خانقاہ کے تمام سجادگان نے اسی روحانی امانت کو اپنی اپنی استطاعت کے مطابق آگے بڑھایا ہے۔
خانقاہ قادریہ محمدیہ، امجھر شریف کی یہ روایت آج بھی اسی پیغام کے ساتھ زندہ ہے کہ روحانیت صرف خانقاہ کی چار دیواری تک محدود نہیں، بلکہ انسان کے کردار، معاشرے کی اصلاح، محبت کے فروغ اور خدمتِ خلق سے اس کا حقیقی اظہار ہوتا ہے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.