بسنت رت کیا جہاں میں آئی پیام دور بہار آیا
بسنت رت کیا جہاں میں آئی پیام دور بہار آیا
نظر ہے مست شراب جلوہ کہ روئے گل پر نکھار آیا
اچھوتی کلیوں کے بھی لبوں پر تبسم بے قرار آیا
نئے شگوفے کھلانے گویا یہ موسم خوشگوار آیا
نصیب سبزہ کے جاگ اٹھے ہیں ستارہ ہے اوج پر چمن کا
جما ہے نقشہ روش روش پر شگفتہ پھولوں کی انجمن کا
شمیم گلشن ہے کیف پرور ہوا ہے ڈوبی ہوئی اثر میں
نمو کی تاثیر ہے یہ یکسر کہ تازگی ہے رگ شجر میں
خوشی سے پھولیں نہ کیوں گل تر قباے زرین ہے سب کے بر میں
عجیب فرحت فزا ہے منظر بسی ہیں رنگینیاں نظر میں
سماں یہ سرسوں کے کھیت کا ہے کہ زعفراں زار کھل رہا ہے
فضا میں کندن دمک رہا ہے سرور آنکھوں کو مل رہا ہے
کہاں ہے سردی کی سرد مہری شباب جاڑے کا ڈھل چکا ہے
ہوا ہے آغاز عہد نو کا زمانہ کروڑ بدل چکا ہے
کھلی ہے خوابیدہ چشم نرگس روش پہ سبزہ سنبھل چکا ہے
قبائے غنچہ ہے چاک خور وہ کلی کا دامن نکل چکا ہے
خزاں الم سے چراغیاں ہے کہ آتش گل بھڑک رہی ہے
بہار کی ہے جو آمد آمد چمن کی قسمت چمک رہی ہے
دلوں میں پیدا ہوئیں امنگیں لہو ہوا جو شرن رگوں میں
حیات افروز ہے یہ موسم پڑی ہے پھر جان ولولوں میں
تڑپ ہے بلبل کے چہچہوں میں ہے سوز کویل کے زمزموں میں
مگا ہیں مشتاق دید گل ہیں ہوائے گلگشت ہے سروں میں
بسنتی ساڑھی سے مہ جبینوں کی جامہ زیبی ہوئی دوبالا
یہ رنگ سونے پہ ہے سہاگا نظر فریبی ہوئی دوبالا
کھلے ہیں ٹیسو کے پھول بن میں ضیا فگن ہے شفق زمیں پر
چنے ہیں قدرت نے سبز شاخوں پہ شیشہ ہائے شراب احمر
جب ان پہ پڑتی ہیں ہلکی ہلکی شعاع سیمیں ماہ انور
مرقع شان دلفریبی دکھاتا جانفروز منظر
لگائے صحرا کو لعل اس نے جو وجہ زیبائش چمن ہے
نہال فطرت کے فیض سے ہے زمین گلزار ہے کہ بن ہے
کنول کے پھولوں سے ہورہے ہیں کہیں لب جو چراغ روشن
ہے ان کی رنگیں ادائیوں سے منقش آب رواں کا دامن
ہوا کی مسرور جنبشوں سے یہ گل جو ہوتے ہیں عکس افگن
مصفا پانی کے آبگینے میں لہریں لیتا ہے روئے گلشن
نظارۂ دلکشا ہے ہر سو جو سین ہے جاذب نظر ہے
بسنتؔ رت کے ہیں سب کرشمے بہار ذروں میں جلوہ گر ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.