Font by Mehr Nastaliq Web

بسنت لائی نوید بہار خندۂ گل

برق دہلوی

بسنت لائی نوید بہار خندۂ گل

برق دہلوی

MORE BYبرق دہلوی

    بسنت لائی نوید بہار خندۂ گل

    نگاہ شوق ہوئی کامگار خندۂ گل

    نکھار پر ہے رخ تابدار خندۂ گل

    خزاں کو پھونک نہ ڈالیں شرار خندۂ گل

    چمن میں آگ نہ لگ جائے آتش گل سے

    کچھ اور گل نہ کھلے دود آہ بلبل سے

    زہے نشاط پھر آرائشوں کا ساماں ہے

    نگار خانۂ چیں تختہ گلستاں ہے

    سرور کا ہے سماں زینت فراواں ہے

    شگفتہ پھول ہیں نظارہ گل بداماں ہے

    نظر نواز ادائیں ہیں حسن فطرت کی

    بساط خاک پہ گلکاریاں ہیں قدرت کی

    نسیم صبح میں ہے رنگ گلشن آرائی

    سکھا رہی ہے شگوفوں کو ناز رعنائی

    گلوں کی دید کے قابل ہے شان زیبائی

    کہ چشم نرگس شہلا بھی ہے تماشائی

    رخ چمن سے نئی تازگی ہویدا ہے

    شجر نہال ہیں رنگ بہار پیدا ہے

    ادائے ناز سے شاخ شجر لچکتی ہے

    برنگ شبنم تر تازگی ٹپکتی ہے

    قبائے غنچۂ دل تنگ پھر مسکتی ہے

    لبوں سے بن کے تبسم خوشی جھلکتی ہے

    چٹک سے کلیوں کی مہر سکوت ٹوٹ گئی

    طفیل باد صبا بو چمن کی پھوٹ گئی

    شباب موسم سرما ہوا زوال پذیر

    جہاں میں آب و ہوا کی بدل گئی تاثیر

    شگفتہ ہونے لگا غنچۂ دل دلگیر

    بہار گل کی نگاہوں میں کھنچ گئی تصویر

    بسنتی رنگ کی پوشاک زیب دینے لگی

    ادائے ماہ جبیناں فریب دینے لگی

    پگھل کے بہنے لگی برف کوہساروں سے

    عیاں ہے جوش روانی کا ٓبشاروں سے

    بلند خاک رتبہ ہے لالہ زاروں سے

    کہ پھول کرتے ہیں چشمک زنی ستاروں سے

    طرب فزا ہیں ہوائے بسنت کے جھونکے

    عجب بہار دکھاتے ہیں کھیت سرسوں کے

    سرور بن کے یہ رت آئے سال آتی ہے

    پیام فصل بہاری ہمیں سناتی ہے

    چمن میں سبزۂ خوابیدہ کو جگاتی ہے

    ہنسا ہنسا کے شگوفوں کو گل کھلاتی ہے

    اسی سے کیف شراب نشاط تازہ ہے

    کہ رت بسنتؔ کی روئے چمن کا غازہ ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے