مژدۂ_فصل_جنوں مستوں کو پھر لائی بسنت
مژدۂ فصل جنوں مستوں کو پھر لائی بسنت
دن گئے پھر اور رت پلٹی کہ پھر آئی بسنت
اک طرف گندم کی سبزی اک طرف سرسوں کا کھیت
کیوں نہ ان روزوں کرے دعوائے رعنائی بسنت
انبہ مورے ٹیسو پھولی بن میں پھر پھولی کھجور
یعنی ہر اک نخل پر اک تازہ گل لائی بسنت
اپنے اپنے گھر سے سب نکلے پئے گل گشت دشت
کر گئی یک بارگی عالم کو سودائی بسنت
دیکھ کر لالے کو وحشت ہو گئی اس کو ولیک
باندھ کر زنجیر نا فرماں نے لہرائی بسنت
کیسری جوڑا پہن کر کیوں نہ نکلے ان دنوں
یعنی ہے دربار کی آصف کے مجرائی بسنت
مصحفیؔ کیوں دیکھنے جاؤں میں نرگس کی بہار
مجھ کو رنگ زرد نے گھر بیٹھے دکھلائی بسنت
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.