Font by Mehr Nastaliq Web

مژدۂ_فصل_جنوں مستوں کو پھر لائی بسنت

غلام ہمدانی مصحفی

مژدۂ_فصل_جنوں مستوں کو پھر لائی بسنت

غلام ہمدانی مصحفی

MORE BYغلام ہمدانی مصحفی

    مژدۂ فصل جنوں مستوں کو پھر لائی بسنت

    دن گئے پھر اور رت پلٹی کہ پھر آئی بسنت

    اک طرف گندم کی سبزی اک طرف سرسوں کا کھیت

    کیوں نہ ان روزوں کرے دعوائے رعنائی بسنت

    انبہ مورے ٹیسو پھولی بن میں پھر پھولی کھجور

    یعنی ہر اک نخل پر اک تازہ گل لائی بسنت

    اپنے اپنے گھر سے سب نکلے پئے گل گشت دشت

    کر گئی یک بارگی عالم کو سودائی بسنت

    دیکھ کر لالے کو وحشت ہو گئی اس کو ولیک

    باندھ کر زنجیر نا فرماں نے لہرائی بسنت

    کیسری جوڑا پہن کر کیوں نہ نکلے ان دنوں

    یعنی ہے دربار کی آصف کے مجرائی بسنت

    مصحفیؔ کیوں دیکھنے جاؤں میں نرگس کی بہار

    مجھ کو رنگ زرد نے گھر بیٹھے دکھلائی بسنت

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے