Font by Mehr Nastaliq Web

یہ رت یہ بسنتی رت ظالم سردی گرمی سے گلے ملتی

نشور واحدی

یہ رت یہ بسنتی رت ظالم سردی گرمی سے گلے ملتی

نشور واحدی

MORE BYنشور واحدی

    یہ رت یہ بسنتی رت ظالم سردی گرمی سے گلے ملتی

    ہر سو سودائے نظر ارزاں ہر سو زنجیر جنوں ہلتی

    موسم کی بہار افزائی سے گلزاروں میں کلیاں کھلتی

    پھاگن کے گلابی چھینٹوں سے ہر سو سبزے اگ آئے ہیں

    سرسوں پھولی کلی پھوٹے چھٹکے ہوئے بادل چھائے ہیں

    کھیتوں میں ہوا کے چلنے سے لہراتی ہے جو کی بالی

    ہلکے ہلکے بادل میں چھپتی چلتی ہوئی سورج کی تھالی

    پھاگن کی ہوائے دلکش سے شاداب ہے جامن کی ڈالی

    آخر میں مٹر کے پھول کہیں آموں میں کہیں بور آئے ہیں

    سرسوں پھولی کلی پھوٹے چھٹکے ہوئے بادل چھائے ہیں

    جلووں کا وہ جھرمٹ ہوتا ہے پھاگن کے بسنتی میلوں میں

    جیسے کبھی جمگھٹ ہوتا ہے آئینہ رخوں کے ریلوں میں

    دل ہار گئے ہیں اہل نظر ان ذوق نظر کے کھیلوں میں

    ہر گام پہ ایسے میلوں میں اک پارۂ دل چھوڑ آئے ہیں

    سرسوں پھولی کلی پھوٹے چھٹکے ہوئے بادل چھائے ہیں

    شفاف جبینوں نے جیسے افلاک سے بادل توڑے ہیں

    اس شوخ نے آنچل ڈالا ہے اس شوخ نے بازو موڑے ہیں

    چہروں پہ بسنتی عالم ہے جسموں پہ بسنتی جوڑے ہیں

    اس رنگ نے جانے کتنوں کے احساس پہ محشر ڈھائے ہیں

    سرسوں پھولی کلی پھوٹے چھٹکے ہوئے بادل چھائے ہیں

    اک یاد حسیں کے ہاتھوں سے پھر ضبط کے نالے ٹوٹے ہیں

    رستی ہے شراب اشک الم پھر غم کے پیالے ٹوٹے ہیں

    پھر تازہ ہوا ہی زخم جگر پھر قلب کے چھالے ٹوٹے ہیں

    اس رت نے گزشتہ افسانے اس رنگ سے کچھ دہرائے ہیں

    سرسوں پھولی کلی پھوٹے چھٹکے ہوئے بادل چھائے ہیں

    اس رت میں سڑک پر کچھ دہقاں بیٹھے ہوئے ہیں ماندے ہارے

    دولت کے مشینوں کے ٹوٹے قسمت کے شکنجوں کے مارے

    فاقوں کی مصیبت سے جن کو آتے ہیں نظروں کو تارے

    اور اپنے جگر کے ٹکڑوں کو روتا ہوا گھر چھوڑ آئے ہیں

    سرسوں پھولی کلی پھوٹے چھٹکے ہوئے بادل چھائے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے