Font by Mehr Nastaliq Web

یاد ہیں وہ دن تو لا وہ عہد_ماضی کی بہار

عرش ملسیانی

یاد ہیں وہ دن تو لا وہ عہد_ماضی کی بہار

عرش ملسیانی

MORE BYعرش ملسیانی

    یاد ہیں وہ دن تو لا وہ عہد ماضی کی بہار

    جو دلوں سے دور کر ڈالے کدورت کا غبار

    تیرے گل بوٹے ہمارے کام آ سکتے نہیں

    بات جو بگڑی ہے اس کو یہ بنا سکتے نہیں

    کیا کریں ہم اس بہار رنگ و بو کو کیا کریں

    بادۂ گل رنگ کو گل کو سبو کو کیا کریں

    ہم کو دینا ہے تو صلح و آشتی کا جام دے

    ہندو و مسلم کو پھر اخلاص کا پیغام دے

    اے بسنت اک اپنے پھولوں سے بنا تعمیر نو

    خواب دیرین وطن کی اک سنا تعبیر نو

    تیرے دامن میں ہیں جیسے گل قطار اندر قطار

    اور ہر اک پھول رکھتا ہے جدا اپنی بہار

    سب کے سب ہوتے ہیں لیکن غازۂ ردے چمن

    ہم بھی اس انداز سے ہوں زینت باغ وطن

    پھر منائیں ہم تجھے پھر گیت گائیں پریت کے

    پھر یہاں نقشے جمائیں عاشقوں کی ریت کے

    ذرہ ذرہ پھر یہاں فردوس کی تصویر ہو

    بوستاں بھی غیرت نظارۂ کشمیر ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے