یاد ہیں وہ دن تو لا وہ عہد_ماضی کی بہار
یاد ہیں وہ دن تو لا وہ عہد ماضی کی بہار
جو دلوں سے دور کر ڈالے کدورت کا غبار
تیرے گل بوٹے ہمارے کام آ سکتے نہیں
بات جو بگڑی ہے اس کو یہ بنا سکتے نہیں
کیا کریں ہم اس بہار رنگ و بو کو کیا کریں
بادۂ گل رنگ کو گل کو سبو کو کیا کریں
ہم کو دینا ہے تو صلح و آشتی کا جام دے
ہندو و مسلم کو پھر اخلاص کا پیغام دے
اے بسنت اک اپنے پھولوں سے بنا تعمیر نو
خواب دیرین وطن کی اک سنا تعبیر نو
تیرے دامن میں ہیں جیسے گل قطار اندر قطار
اور ہر اک پھول رکھتا ہے جدا اپنی بہار
سب کے سب ہوتے ہیں لیکن غازۂ ردے چمن
ہم بھی اس انداز سے ہوں زینت باغ وطن
پھر منائیں ہم تجھے پھر گیت گائیں پریت کے
پھر یہاں نقشے جمائیں عاشقوں کی ریت کے
ذرہ ذرہ پھر یہاں فردوس کی تصویر ہو
بوستاں بھی غیرت نظارۂ کشمیر ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.