Sufinama

بھجن

اسیا گیت جس مں پرماتما یا دیوی دیوتا کی تعریف کی گئی ہو بھجن کہلاتا ہے۔ یہ اصلاً سنسکرت کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے اردو میں سنسکرت سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی اردو رسم الخط میں مستعمل ہے ١٨٨٤ء میں "تذکرۂ غوثیہ" میں اس کا استعمال ملتا ہے۔ یہاں مشہور اور عمدہ بھجن دستیاب ہیں۔

-1927

روحانی شاعر اور "وارث بیکنٹھ پٹھاون" کے مصنف

سنجر سے غازی پور ہجرت کرنے والے ایک چشتی شاعر

حاجی وارث علی شاہ کے مرید و خادم خاص

1849 -1930

ریاست ٹونک کے چوتھے ایسے نواب ہیں جنہوں نے تقریباً 63 سال ریاست کی باگ ڈور سنبھالی اور شعر و سخن کے ایک بہترین فضا قائم کی۔

1440 -1518

پندرہویں صدی کے ایک صوفی شاعر اور سنت جنہیں بھگت کبیر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کبیر اپنے دوہے کی وجہ سے کافی مشہور ہیں، انہیں بھگتی تحریک کا سب سے بڑا شاعر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

بولیے