Font by Mehr Nastaliq Web

شان_عالی ہے تو کیوں_کر نہ ہو عالی چادر

حمید ویشالوی

شان_عالی ہے تو کیوں_کر نہ ہو عالی چادر

حمید ویشالوی

MORE BYحمید ویشالوی

    شان عالی ہے تو کیوں کر نہ ہو عالی چادر

    میرے سرکار کی ہے سب سے نرالی چادر

    گل مقصود سے بھر دیں گے مرے شاہ اسے

    در پہ پھیلائے ہوئے ہیں جو سوالی چادر

    پردہ کرنے کے لئے ہم سے گنہگاروں کے

    آپ نے روئے مبارک پہ سنبھالی چادر

    اور کچھ بھی تو نہیں نذر کے لائق اے دل

    پیش کر خدمت عالی میں خیالی چادر

    اپنی بگڑی ہوئی قسمت کو بنانے کے لئے

    ہم نے آنکھوں سے کلیجے سے لگا لی چادر

    اک نیا چاند نظر آیا ہے سر کانہی میں

    آپ نے جب رخ روشن سے ہٹا لی چادر

    اب نہ اٹھیں گی کسی سمت ہماری نظریں

    کثرت شوق میں آنکھوں میں بسا لی چادر

    شوق سے اہل جہاں قدر کریں گے اس کی

    میں نے گلہائے سخن سے جو سجا لی چادر

    دھوم ہے جس کی زمانے میں حمیدؔ عاصی

    وہ تو ہے تیغ علی شہ کی جمالی چادر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے