ہے کتنی خوش نما پھولوں کی چادر
کھلی ہے واہ کیا پھولوں کی چادر
شگفتہ ہو رہی ہیں ساری کلیاں
نہ کیوں ہو دل پھولوں پھولوں چادر چادر
دماغ جاں معطر کر رہی ہے
ہے کیا صل علیٰ پھولوں کی چادر
بہشتی دائرے لے جائیں پہلے
بصد حب ولا پھولوں کی چادر
مزار پاک صوفی پر چڑھائیں
چلو اہل صفا پھولوں کی چادر
پھریں بھر کر گل ارماں سے داماں
چڑھا کر خوش نما پھولوں کی چادر
ہوا دل باغ باغ اپنا تجملؔ
بہت ہے جاں فزا پھولوں کی چادر
- کتاب : ریاض صوفی (Pg. 31)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.