Font by Mehr Nastaliq Web

رسولِ خدا سیدالمرسلین

سراج اورنگ آبای

رسولِ خدا سیدالمرسلین

سراج اورنگ آبای

MORE BYسراج اورنگ آبای

    رسولِ خدا سیدالمرسلین

    قیامت کے دن شافع المذنبین

    نبوت کے مسند کا ہے جانشیں

    کیا جس کی تعظیم روح الامین

    عجب روز محشر کا سردار ہے

    صف اصفیا میں وو سالار ہے

    جگت میں اسے سلطنت ہے مدام

    جماعت میں ہے انبیا کی امام

    وہ شرع کا ہادی مستقیم

    شریعت کے دریا کا درِ یتیم

    حبیب خدا والیٔ روزگار

    دوعالم کی اقلیم کا تاجدار

    شہ انس و جاں سب کا مقبول ہے

    نبوت کے گلزار کا پھول ہے

    کہ جس واسطے خلق پیدا کیا

    زمیں آسماں سب ہویدا کیا

    کہا حق نے لولاک جس شان میں

    شہنشاہ ہے ملک عرفاں میں

    بنایا ہے حاکم کوں او شاد وو

    ہے علم لدنی کا استاد وو

    عجب ذاتِ احمد بلا میم ہے

    کہ قرآن میں جس کی تعظیم ہے

    ہے سب سروراں میں اسے سروری

    اسی پر ہوا ختم پیغمبری

    نہ ویسا ہوا کوئی بھی ابتدا

    نہ اس باج ہووے گا اب کوئی دوجا

    اول بھی وہی تھا اور آخر وہی

    ہے باطن وہی اور ظاہر وہی

    سراج اب نہ کر گفتگو بیشتر

    ادب کے محل میں نہ جا پیشتر

    کہ دم مارنے کی یہاں نہیں ہے بات

    اگر چہ دو ہی ذات یہاں ہوئی صفات

    دو ہی نور یہاں آ کے ظاہر ہوا

    آپس آپ قدرت یو قادر ہوا

    ولیکن ادب تجھ کوں درکار ہے

    شریعت کی بے راہ دشوار ہے

    مأخذ :
    • کتاب : دکن کے ممتاز صوفی شعرا (Pg. 199)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے