Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

سن اشاعت : 1923

زبان : اردو

صفحات : 210

فسانۂ آزاد

کتاب: تعارف

پنڈت رتن ناتھ سرشار کا نام اردو کلاسک ادب میں ایک خاص انفرادیت رکھتا ہے۔ زیر نظر کتاب ان کا شاہکار ناول ہے۔ یہ ناول اردو ادب میں بہت ہی بلند مقام رکھتا ہے۔ فسانۂ آزاد اودہ اخبار میں 1878ء سے 1879ء کے درمیان قسط وار شائع ہوا اور کتابی شکل میں پہلی مرتبہ 1880 میں منظر عام پر آیا۔ اس کی چارضخیم جلدیں ہیں جو سواتین ہزار سے زائد صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں۔ سرشار چونکہ بچپن سے لکھنوی زندگی جیتے رہے تھے اس لیے ان کا شعور بہت ہی پختہ اور ہمہ گیر ہے۔ فسانہ آزاد میں انسانی زندگی کی پوری چہل پہل اور ہماہمی ہے۔ مصاحب، مولوی، پنڈت، شاعر، بانکے، مغنّی، جیوتشی، مانجھے، نبوٹیئے، بہروپیئے، افیمچی، چانڈوباز، بھٹیارنیں ، ساقنیں ، لونڈیاں ، فقیر، داروغہ، شاہ جی، الغرض معاشرہ کے سبھی افراد یہاں موجود ہیں۔ جو اس عہد کی تہذیب کو بے کم و کاست اجاگر کرتے ہیں۔ان کی اس تصنیف نے اردو ادب کو ایک نئی زبان، نیا اسلوب وانداز اور نئے طرزِ فکر سے آشنا کیا۔ زبان وبیان کی چاشنی ،نئے نئے الفاظ و محاورات اور عمدہ مکالمات و اسلوب کے ذریعہ سرشار نے لکھنؤ کی زوال آمادہ تہذیب کی ایسی منظر کشی کی ہے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی اور اس کے ادب میں بلند مقام ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ نہ صرف یہ ا س کی ادبی اہمیت کا اعتراف کیا ہے ،بلکہ آج تک ادبی دانش گاہوں کے نصاب کا حصہ ہے۔ اکثر ناقدین نے اس شاہکار کو ناول اور داستان کے بیچ کی کڑی بتلایا ہے۔ اس شاہکار کے مزاحیہ کردار خوجی کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ زیر نطر فسانہ آزاد کی جلد اول ہے۔

.....مزید پڑھئے
بولیے